عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر57

29 اگست 2018 (16:00)

ادریس آزاد

سلطان نے ہونیاڈے کو تین سال کی جنگ بندی کا پیغام بھیجا۔ اور اسے راضی کرنے کے لیے کافی نرم زبان استعمال کی۔ اس طرح اب اہلِ اجلاس کو شمالی یورپ کی طرف سے بھی کوئی خطرہ باقی نہیں رہے گا۔ دربار کا اہم اجلاس ابھی جاری تھا ۔ ینی چری کے لشکر کا سپہ سالار نوجوان اور خوبرو’’آغاحسن ‘‘ سلطان سے اجازت لے کر کہنے لگا:۔

’’سلطانِ معظم! ہمیں ’’موریا‘‘ کی طرف سے بھی خطرات لاحق ہیں ۔ کیونکہ ’’موریا ‘‘ کے حکمران شہنشاہِ قسطنطنیہ کے بھائی ہیں۔ اور عین ممکن ہے کہ وہ بھی شہنشاہ کی مدد کے لیے آئیں۔‘‘

آغاحسن کی بات پر کافی دیر تک دربار میں تبصرہ ہوتارہا۔ اور پھر باہمی مشورے سے ایک بہترین فوج موریا کی جانب روانہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔ سلطان نے اراکینِ سلطنت کو مخاطب کرکے کہا:۔

’’معزز اراکینِ سلطنت ! میں محسوس کرتا ہوں کہ ’’قسطنطنیہ ‘‘ اپنے محل وقوع کی وجہ سے بہت محفوظ شہر ہے۔ کیونکہ اس کے تین اطراف میں سمندر اور ایک جانب خشکی ہے۔ انہیں سمندر کی موجودگی نے بحری فوج بنانے پر بھی مجبور کررکھا ہے۔ قسطنطنیہ کے علاوہ یونان اور ’’جنیوا‘‘ کے جہاز بھی ان کی مدد کو پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس سلطنتِ عثمانیہ کے پاس بحری طاقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے جہازوں کے مقابلے میں عثمانی کشتیاں بالکل بے بس اور ناکارہ ہوجاتی ہیں۔ اور پھر ہمارے پاس کشتیاں بھی تو بہت کم ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ہمیں قسطنطنیہ پر حملہ سے پہلے اپنی بحری قوت میں اضافہ کرنا ہوگا۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر56پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سلطان کی بات پر اہلِ دربار کی آنکھوں میں خراجِ تحسین کی جھلک نظر آئی۔ اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ سلطنتِ عثمانیہ کو بحری طاقت کی ضرورت ہے۔ دیر تک اسی موضوع پر باتیں ہوتی رہیں۔ قاسم نے سلطان کو بوڑھے ملاح عباس کے بارے میں بتایا ۔ اور اسے یہ بھی بتایا کہ وہ بڑے بڑے بحری جہازوں کے تیار کروانے اور ان کو سمندر میں جنگی اغراض سے استعمال کرنے کا ماہر ہے۔ سلطان نے اہل دربار کے باہمی مشورے سے بالآخر یہ اعلان کیا کہ سلطنتِ عثمانیہ کا ایک جنگی بحری بیڑا تیا ر کیا جائے گا۔ جو فتح قسطنطنیہ کے موقع پر مسلمانوں کے بحری محاذ کو سنبھالے گا۔ آج کا سارا دن اجلاس جاری رہا۔نمازِ مغرب کے بعد اجلاس اگلے روز کے لیے برخواست کیا گیا اور سلطان نے قاسم کو اپنے کمرۂ خان میں طلب کرلیا ۔ قاسم سلطان کے پاس تخلیے میں پہنچا تو سلطان نے کہا:۔

’’قاسم بن ہشام ! اسلام اور سلطنتِ عثمانیہ کے لیے آپ کی دس سالہ خدمت پر نظر ڈالی جائے تو آپ کی عسکری صلاحیتوں میں سراغ رسانی اور جاسوسی نمایا ں نظر آتی ہے۔ میں نے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے کے لیے ایک اور محاذ پر توجہ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اور وہ ہے نظامِ جاسوسی کا خفیہ محاذ میں چاہتا ہوں ’’قسطنطنیہ ‘‘ کے حفاظتی حصار ، فصیل کی حالت ، بحری قوت کی تفصیل ، جنگی اور دفاعی صلاحتیں، حتیٰ کہ شہنشاہِ قسطنطنیہ کی کمزوریوں تک کچھ بھی میری نظروں سے پوشیدہ نہ رہے۔یہ بہت مشکل اور خطرناک کام ہے۔ کیونکہ ان معلومات کے لیے جس کو بھی بھیجا جائے گا۔ ایک غیر ملکی جاسوس کی حیثیت سے اس کی جان ہتھیلی پر رہے گی ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں قسطنطنیہ میں آپ کی رائے اور مشورے سے اس مقصد کے لیے کسی شخص کو بھیجوں ۔‘‘

سلطان کی بات کے ساتھ ساتھ قاسم کے رگ و پے میں لہو کی گردش تیز ہوتی جارہی تھی۔ اندھا کیا چاہتا تھا .........دوآنکھیں۔ وہ تو پہلے سے ہی ’’قسطنطنیہ ‘‘ جانا چاہتا تھا ۔ اس نے بے صبری سے کہا:۔

’’سلطانِ معظم! اس اہم اور مشکل مہم پر میں خود روانہ ہونا چاہتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں یہ مقصد کسی بھی اور شخص سے زیادہ بہتر طور پر سرانجام دے سکتا ہوں۔‘‘

سلطان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ کیونکہ سلطان خود بھی یہی چاہتا تھا کہ اس مرتبہ وہ ہر کام ٹھیک ٹھیک طریقے سے ناپ تول کر کرے۔ تاکہ قسطنطنیہ کو فتح کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی باقی نہ رہے۔سلطان بھی یہ چاہتا تھا کہ اس مہم پر قاسم خود روانہ ہو۔ قاسم کو قسطنطنیہ کے لیے تیار دیکھ کر سلطان نے فوراً کہا:۔

’’ٹھیک ہے ! آپ اپنے سفر کی تیاری شروع کریں۔ آپ بہت جلد عیسائی دنیا کے اس قدیم مرکز اور بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت ’’قسطنطنیہ ‘‘ روانہ ہو رہے ہیں۔ قاسم بن ہشام ! ایک بات یاد رکھیے! کہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی زبانی ’’قسطنطنیہ ‘‘ کے فاتح کو جنت کی بشارت دی ہے۔ آپ عثمانی افواج کے ’’قسطنطنیہ میں داخل ہونے سے پہلے اس شہر کو داخلی طور پر فتح کرنے جارہے ہیں۔ ’’قسطنطنیہ ‘‘ میں پہلے بھی مسلمان آباد ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ سلطنتِ عثمانیہ کے لیے مدت سے کام کررہے ہیں۔ ’’قسطنطنیہ ‘‘ میں ’’غلطہ‘‘ کا نصف حصہ ہمارے آباء میں سلطان ’’بایزدی یلدرم‘‘ نے اس وقت کے شہنشاہ ’’مینوئیل‘‘ سے حاصل کرلیا تھا .........آپ کو وہاں پریشانی نہ ہوگی۔ لیکن پھر بھی جنگی نوعیت کی معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ کو بے حد محنت کرنی پڑے گی۔ چنانچہ یہی بہت ہے کہ آپ جلد سے جلد قسطنطنیہ روانہ ہوجائیں۔‘‘

اس مرتبہ سلطان نے مشرقی یورپ کے اس مرکز اور قدیم عیسائیت کے اس مذہبی شہر کو بہر صورت فتح کرنے کا تہیہ کر لیا تھا ۔ نوعمری میں دو مرتبہ ناکام سلطان بننے کے بعد جب سلطان ’’مراد خان ثانی‘‘ نے اسے تعلیم و تربیت کے لیے ’’ایدین‘‘ بھیجا ۔ تو اس لاڈلے شہزادے کو اسلامی تعلیمات اور تاریخ پڑھنے کا صحیح معنوں میں موقع ملا۔ اسے معلوم ہوا کہ آقائے نامدار ، مقصودِ کائنات ، سرکار دو عالم، خیرالانام ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حیاتِ مبارکہ میں ’’قسطنطنیہ ‘‘ کی فتح سے گہری دلچسپی رہی تھی۔ اس نے تاریخ کا مطالعہ کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ’’قسطنطنیہ کو فتح کرنے کی نیت سے پہلا اسلامی حملہ 48ھ میں کیا گیا ۔ اس معرکے میں کئی اصحابؓ رسول ؐ بھی شامل ہوئے تھے۔ اس مطالعے کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ ’’حضرت ایوب انصاریؓ ‘‘ اسی معرکہ میں شہید ہوئے اور قسطنطنیہ کی فصیل کے نزدیک ہی دفن کیے گئے۔ اسے سب سے زیادہ دلچسپی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر تھی جس میں آپ نے فاتحِ قسطنطنیہ کو جنت کی بشارت دی تھی۔ اسی لیے وہ اس قدر اہتمام اور تیاری کے ساتھ قسطنطنیہ پر حملہ آور ہونا چاہتا تھا ۔ ادھر قسطنطین پر یہ مصیبت خود اس کی اپنی غلطی سے نازل ہوئی تھی۔اس نے سلطان محمد خان کو تخت نشین ہونے کے بعد دو مرتبہ دھمکی آمیز سفارت بھیج کر اپنی موت کے پروانے پر خود دستخط کیے تھے۔ سلطان نے قاسم بن ہشام کو قسطنطنیہ کے لیے روانہ کیا ۔ ’’ایشیائے کوچک ‘‘ کی شورشوں کو فرو کرنے کے لیے امیر کرمانیا سے صلح کرلی۔ اور اس کی بیٹی سے عقد کر لیا۔ اس کے بعد تین سال کے لیے ہونیاڈے سے بھی صلح کرلی۔ جس کی وجہ سے شمالی یورپ کی طرف سے کوئی خطرہ باقی نہ رہا۔ پھر اس نے ایک فوج ’’موریا‘‘ میں بھیج دی تاکہ شہنشاہ کے بھائی جو وہاں حکومت کرتے تھے ، قسطنطنیہ کی مدد کرنے سے روک دیئے جائیں۔ ان تدبیروں سے فارغ ہوکر اس نے ’’آبنائے باسفورس‘‘ کے یورپی ساحل اور ’’قسطنطنیہ ‘‘ سے تقریباً پانچ میل کے فاصلے پر ایک زبردست قلعہ تعمیر کروانا شروع کیا ۔ اس سے پہلے ’’سلطان بایزید یلدرم‘‘ نے ’’آبنائے باسفورس ‘‘ کے ایشیائی ساحل پر ایک قلعہ تعمیر کروایا تھا ۔ ’’سلطان محمد خان‘‘ نے ایشیائی ساحل کے ٹھیک سامنے آبنائے باسفورس کے یورپی ساحل پر دوسرا قلعہ تعمیر کروانا شروع کیا ، قسطنطنیہ شہر بھی اسی ساحل پر واقع تھا ۔

’’آبنائے باسفورس ‘‘ بھی اپنی طرز کی عجیب آبنائے ہے۔ براعظم ایشیا اور براعظم یورپ حقیقت میں سمندر کے اندر تیرتے ہوئے خشکی کے دو بڑے ٹکڑے ہیں۔ کئی لاکھ سال پہلے یہ ٹکڑے تیرتے ہوئے آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے نزدیک آئے ۔ حتیٰ کہ اس قدر نزدیک آگئے کہ درمیان میں صرف ’’آبنائے باسفورس ‘‘ کا تھوڑا سا پانی رہ گیا ۔ شمال کی جانب سے یہ دونوں براعظم آپس میں مل گئے ۔ اسی کو یورپی روس کہتے ہیں۔آبنائے باسفورس ایک آبی گزر گاہ جو ایشیا ء اور یورپ کے درمیان حائل ہے۔ یہ ایک پٹی کی طرح سے دونوں براعظموں کے درمیان پڑی ہے۔ اور اس کے دونوں سروں پر کھلا سمندر واقع ہے۔ ایک سرے پر واقع کھلے سمندر کا نام ’’بحراسود‘‘ ہے جبکہ دوسرے سرے پر واقع سمندر کا نام ’’بحرِ مارمورا‘‘ ہے۔ ’’بحرِ مار مورا‘‘ کی جانب جس مقام سے کھلا سمندر شروع ہوتا ہے۔ اس مقام کو ’’درِ دانیال‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ یہی درِ دانیال ‘‘ ہے۔ جو صدیوں سے مشرق اور مغرب کے حملہ آوروں کے بحری جہازوں کی گزر گاہ رہا ہے۔

چنانچہ سلطان نے آبنائے باسفورس کے یورپی ساحل پر بھی ایک زبردست جنگی قلعہ کے کام آغاز کردیا ۔ ’’قسطنطین‘‘ نے اس قلعہ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا ۔ لیکن سلطان نے اس کی ایک نہ سنی ۔ قلعہ کی تعمیر کے دوران بعض ترک سپاہیوں نے چند یونانی کاشتکاروں سے چھیڑ چھاڑ کی ۔ جس نے ایک چھوٹی سی لڑائی کی شکل اختیار کرلی۔ اور اس میں فریقین کے چند سپاہی مارے گئے۔ ’’قسطنطین‘‘ سمجھ چکاتھا کہ یہ تمام تیاریاں دراصل قسطنطنیہ پر حملہ کے لیے ہو رہی ہیں۔ اس نے ’’قسطنطنیہ ‘‘ پر حملہ کے خوف سے شہر کے پھاٹک بند کرادیے۔ اور ایک وفد بھیج کر ’’سلطان محمد خان ‘‘ کی خدمت میں ترک سپاہیوں کے طرزِ عمل کی شکایت کی۔ ’’محمد‘‘ نے اس شکایت کا جواب اعلانِ جنگ سے دیا۔ اب سلطنتِ بازنطینی کی موت و زیست کا مسئلہ آخری فیصلے کا منتظر تھا ۔سلطان محمدخان کے اطوار بتاتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کسی صورت شہنشاہ کو معاف کرنے والا نہیں۔ دراصل سلطان نے اندازہ کرلیا تھا کہ جب تک ’’قسطنطنیہ ‘‘فتح نہ ہو اسلامی سلطنت کو مکمل نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ فتح قسطنطنیہ سیدالانبیاء ؐ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی۔ سلطان اپنی عسکری زندگی کاآغاز ’’قسطنطنیہ جیسے عظیم شہر پر کامیاب حملے سے کرنا چاہتا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہر طرح کے انتظامات خود اپنی نگرانی میں مکمل کروارہا تھا ۔ اس نے مایہء ناز آہنگر نومسلم ’’اربان‘‘ کو بلوایا ۔ اور اسے ’’قسطنطنیہ ‘‘ پر حملے کے لیے ایک ایسی زبردست توپ بنانے کا حکم دیا ۔ جو ’’قسطنطنیہ ‘‘ کی تہہ در تہہ بنی فصیل کو تباہ کرنے کا کام کما حقہٗ کرسکے۔’’اربان‘‘ کے ذہن میں تو پہلے ہی ایک ایسی ہی توپ کا خاکہ تھا ۔ اس نے سلطان سے کہا:۔

’’سلطانِ معظم! میں ایک ایسی توپ بناسکتا ہوں جس میں چالیس بالشت (30انچ ڈھائی فٹ) موٹائی کا بھاری بارود سے لیس گولا داغا جا سکتا ہے۔ یہ توپ قدو قامت کے لحاظ سے بہت بڑی ہوگی۔ اس لیے یہ لوہے کی بجائے پیتل سے ڈھالنی پڑے گی ۔(دولت عثمانی)۔‘‘

سلطان نے اربان کی توپ کے خاکے کو بہت سراہا۔ اور اسے فوری طور پر ایسی توپ بنانے کی اجازت دے دی۔ اسلحہ کی تیاری کے لیے سلطان محمد خان نے اپنے مشہور ’’جرنیل احمد کدک پاشا‘‘ اور محمود پاشا‘‘ کو مقرر کیا ۔ اسی طرح اس نے برق رفتارمعماروں کی جو جماعت قسطنطنیہ کے یورپی ساحل پر اتاری تاکہ وہ قسطنطنیہ سے پانچ میل کے فاصلے پر آبنائے باسفورس کے کنارے پر ایک زبردست جنگی قلعہ تعمیر کرے۔ اس نے اس کا سربراہ بھی ’’مصلح الدین آغا‘‘ جیسے تاریخ ساز ماہرِ فن تعمیرکو مقرر کیا تھا ۔جس نے تین چار ماہ کے قلیل عرصہ میں ’’رومیلی حصار‘‘ تعمیر کردیا تھا ۔ اب آبنائے باسفورس کے دونوں ساحل مسلمانوں کے قبضے میں آنیوالے تھے۔ جونہی قلعہ کی تعمیر مکمل ہوتی ۔ دو سرسبز و شاداب ساحلوں کے درمیان سمندر کی اٹھارہ 18میل لمبی دلکش نیل گوں لکیر یعنی ’’آبنائے باسفورس ‘‘ پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجاتا۔ ’’رومیلی حصار‘‘ سے قسطنطنیہ کا ’’برجِ غلاطہ ‘‘صاف دکھائی دیتا تھا ۔ ادھر سلطان نے ’’رومیلی حصار‘‘ کے معماروں کو ’’مصلح الدین آغا‘‘ کی سرکردگی میں قسطنطنیہ روانہ کیا ۔ اور ادھر ’’قاسم بن ہشام ‘‘ قسطنطنیہ کے خفیہ راز اور اہم عسکری معلومات حاصل کرنے کے لیے اس عظیم شہر کی طرف رانہ ہوگیا ۔ جبکہ موریا کی طرف سلطان کی ایک بہادر فوج پہلے ہی کوچ کرچکی تھی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں سے کلک کریں)

مزیدخبریں