سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا لگ گیا

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا لگ گیا
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا لگ گیا

  

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ویژن 2030ءکے تحت ملک کا تیل پر انحصار ختم کرکے معیشت کو نجی سرمایہ کاری کے خطوط پر استوار کرنا چاہتے تھے لیکن اس جدوجہد میں اب انہیں ایک بڑا جھٹکا لگ گیا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان اپنے اس خواب کی تعبیر کے لیے سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کے 5فیصد حصص فروخت کرنا چاہ رہے تھے، جس کی سعودی عرب کے بااثرحلقوں کی طرف سے مخالفت کی جار ہی تھی۔ اب سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے بھی اس کی مخالفت کر دی ہے، جس کے بعد شہزادہ سلمان آرامکو کے حصص فروخت نہیں کر پائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق آرامکو کے حصص کی فروخت کا منصوبہ شہزادہ محمد کے ویژن 2030ءکی ریڑھ کی ہڈی تھا۔شہزادہ محمد نے آرامکو کی مالیت کا اندازہ 2ٹریلین ڈالر لگایا تھا۔ اس تناسب سے اگر کمپنی کے 5فیصد حصص فروخت کیے جاتے تو شہزادہ محمد کو اپنے ویژن پر عملدرآمد کے لیے خطیر رقم ہاتھ آجاتی۔رپورٹ سعودی عرب کے بااثر حلقوں، بالخصوص شاہی خاندان کے اندر سے شہزادہ محمد کے اس منصوبے کی مخالفت کم نہیں ہوئی، کیونکہ آرامکو محض ایک تیل کمپنی نہیں، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس کمپنی کا سعودی عرب کے تعلیم، صحت اور کنسٹرکشن سمیت کئی شعبوں میں انتہائی اہم کردار ہے۔ گزشتہ سال شاہ سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کو ریاض میں تعمیر ہونے والے جس انسداد شدت پسندی سنٹر کا دورہ کرایا تھا وہ بھی آرامکو کمپنی نے ہی انتہائی تیزی کے ساتھ تعمیر کیا تھا۔ چنانچہ سعودی شاہی خاندان اور دیگر بااثر حلقے اس کمپنی کو ایسا اثاثہ سمجھتے ہیں جسے کھونا ملک کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -