عام پاکستانی تویہ سوچ رہا ہے

عام پاکستانی تویہ سوچ رہا ہے
عام پاکستانی تویہ سوچ رہا ہے

  

عام انتخابات کو منعقد ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اس دوران پی ٹی آئی نے وفاق ‘ پنجاب ‘خیر پختونخواہ میں اپنی حکومت بنا لی ہے مگر ابھی تک بعض سیاسی ناقدین اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ الیکشن درست تھے یا غلط ‘ اور اسی بحث میں وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں مگر میری عام پاکستانی کے طور پر سوچ یہ ہے کہ ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ جمہوری عمل خیرو عافیت سے مکمل ہوا۔ ملک و قوم کی بہتری کے لیے ہمیں عملی طور پر اقدام اٹھانا ہونگے مگر افسوس کہ ہم تمام اخلاقیات اور ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اخلاقی تنزلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

بعض ٹاک شوز دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے کہ حالات دوبارہ تبدیل ہونے والے ہیں۔ تاریخ کے اوراق اگر پلٹیں تو سقوط غرناطہ و اندلس کے وقت بھی ایسے ہی حالات تھے ۔عوام آپس میں مباحثوں میں مشغول تھے ۔لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کیلئے شاعر تعریف و توصیف میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے تھے ۔اس وقت سوشل میڈیا نہ تھا مگر سازشوں کا جال اور یہود ہنود کی چال ایسی ہی تھی مگر افسوس اس وقت کے حکمرانوں کے علاوہ عوام نے بھی اس طرف توجہ نہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نشان کی یاد بھی باقی نہیں رہی۔ آج اسلام کی عظمت رفتہ کے خیال اور صدائے ماتم کی بازگشت ہی رہ گئی ہے بحثیت ایک قوم ہونے کے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارا نفاق کہیں ہمیں بھی قصہ پارانیہ نہ بنا دے ۔ہمارے ٹاک شوز جو کبھی کبھی بہت مثبت کردار ادا کرتے ہیں اور بعض اوقات بال کی کھال اتارنے کی پیش گوئیاں اور مخالفت میں اغیار کی سوچ کو تقویت دیتے اور قوم کو کام کی بجائے بیکار کرنے میں مصروف ہیں کسی بھی صورت میں ملک وقوم کی خدمت نہیں کر رہے ۔

پہلے ٹاک شوز میں عوام دلچسپی کا مظاہرہ کرتے تھے مگر اب ٹاک شوز کا آغاز ہوتے ہی چینل تبدیل کر دیتے ہیں۔ایسا کیوں ہوا ہے ؟ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جب شعور بکتا ہے تو وہ جاہلیت سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے ۔ہم اچھا گمان کرنے کی بجائے منفی سوچ رکھتے ہیں۔ خداو ندکریم کا ارشاد ہے مجھ سے جیسا گمان کرو گے ویسا ہی عطا کروں گا ۔اگر ہم غلط گمان کریں گے تو پھر بہتری کیسے ہو گی۔ سوشل میڈیا پر اچھائی کم اور برائی زیادہ گردش کرتی ہے حدود وقیود کی کوئی پروا نہیں۔ اب بھی ہم اگر اصلاح اور خدا کی نعمتوں کی قدر کرنا شروع کر دیں تو عظمت رفتہ کو بحال کر سکتے ہیں ۔زمانہ جنگ میں افواہیں سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوتی ہیں۔ وہ کامیابی جو دشمن کی فوج سے لڑ کر حاصل نہیں کی جا سکتی افواہوں کے بل بوتے پر حاصل کی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا نے دراصل یہود و ہنود کے ہاں جنم لیا۔ بظاہر یہ ایک سائنس کی ترقی ہے جس کا مثبت استعمال تو وہ خود کر رہے ہیں مگر مسلمان اور بالخصوص ہم اور نوجوان نسل اسکا منفی استعمال کرکے تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے اس وقت یہ عالم ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی صورت سوشل میڈیا سے متاثرنظر آتا ہے خداوند کریم جسے چاہتا ہے اسے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت سے ہمکنار کر دیتا ہے ۔اللہ کی مرضی کے بغیر نہ کوئی حکمران بن سکتا ہے اور نہ ہی کوئی آزمائش میں مبتلا ‘آزمائش کے وقت سے گزرنے کا صرف ایک ہی حل ہے کہ ہم سب ملک کا سوچیں کیونکہ یہ وطن ہے تو سب کچھ ہے۔ سیاستدانوں کی سیاست کاروباری افراد کا کاروبار ‘ اور حتٰی کہ ہماری شناخت بھی اس ملک کی وجہ سے ہے۔ ہمیں اپنے حصے کی نیکی کرنی چاہیے نہ کہ یہ سوچ کر کے فلاں یہ کرے گا تو ہم بھی کر لیں گے ۔ ہم سوشل میڈیا کے منفی پراپیگنڈے اور ٹاک شوز میں بے جا وقت ضائع کرنے کی بجائے مثبت راستہ اختیار کریں گے تو ہمیں حوصلہ اور امید بھی ملے گی ۔

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -