مسئلہ کشمیر، علامہ اقبال اور قومی غیرت....!

مسئلہ کشمیر، علامہ اقبال اور قومی غیرت....!
مسئلہ کشمیر، علامہ اقبال اور قومی غیرت....!

  



اقبال ایک شاعر ہی نہ تھے، وقت کے قلندر تھے۔کشمیر کے باب میں ان کا میر جعفر اور میر صادق کا ذکر کرنا کسی حکمت سے بہر حال خالی نہیں ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کشمیر کو اصل خطرہ ”غیروں“سے نہیں،بلکہ ”اپنوں“سے ہے۔کشمیر کی آزادی کے لئے وہ میر جعفر اور میر صادق سے بچنے کا مشورہ دہتے ہیں۔ان کے نزدیک یہ دو شخصیات کانام نہیں،بلکہ دو کردارہیں،یہ ہر دور میں ہوں گے اور ان کی قوم فروشی اور غداری کا سلسلہ بھی موجود رہے گا۔ کشمیرکے معاملے پر ہمیں دشمن کی ہر چال کا سدباب کرنا ہو گا،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے اندر جعفر و صادق کو بھی پہچاننا ہوگا،کیونکہ ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی امت مسلمہ فتنوں کا شکاررہے گی۔وہ کہتے ہیں:

ملت را ہر کجا غارت گرے است

اصل او از صادقے یا جعفرے است

الاماں از روح جعفر الاماں

الاماں از جعفران ایں زماں

اقبال نے جہاں جعفر وصادق کی روح سے پناہ مانگی ہے وہیں یہ دعا بھی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس زمانے کے جعفروں سے اپنی حفظ واماں میں رکھے۔ انہوں نے ہمیں متنبہ کیا کہ جسم جس کا بھی ہو روح اگر جعفر کی ہوئی تو تباہی مقدر بنے گی۔اقبال کشمیر کے تناظر میں ان کرداروں کے معاملے میں اتنے حساس تھے کہ وادی کشمیر کے ایک سیاستدان غلام محی الدین قرہ کاکہنا ہے کہ اقبال کی محفل تھی۔ عبدالمجید سالک بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا”نظام حیدر آباد دکن آپ کے ان اشعار کو پسند نہیں کرتے جن میں جعفر کاذکر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان میں ان کے جد امجد کی توہین کی گئی ہے“۔اقبال یہ سن کر چونک پڑے اور فرمانے لگے ”سالک تم نے یہ کہہ کر میرے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔اب میں کبھی ان کا وظیفہ قبول نہیں کروں گا“۔فوراً ہی علی بخش کوبلا کرکہا”آئندہ جب بھی نظام کا منی آرڈر آئے تو اسے فوراًبھیجنے والے کے نام واپس لوٹا دیا کرو“۔

آج ہمارا کردار ان سے قطعاً مختلف ہے۔اقبال نے نظام کا وظیفہ ٹھکراکر یہ پیغام دیاتھا کہ بھیک مانگنے والے کبھی جرات مندانہ موقف اپنا سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا ان کی بات پر کان دھرا کرتی ہے۔ افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے اس بات کو سنجیدہ لیااور نہ ہی اس کا کوئی سدباب کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کشمیر پر انڈیا کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ ہم ایک طرف سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بننے کے لئے انڈیا کی غیرمشروط حمایت کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف کشمیرکاماتم بھی کرتے ہیں۔ستر سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا،اقوام متحدہ کئی ایک معاملات سلجھا چکا،لیکن کشمیر کا وہ مسئلہ کیوں نہ حل ہوا جس کے حل پردونوں ممالک کا اتفاق بھی ہے۔

خواجہ سعدالدین شال اور سید نور شال نقشبندی سری نگرسے علامہ اقبال سے اس مسئلے پر بات کرنے آئے کہ انگریزوں کوپنجاب سے نکالنے کے لئے ہندو مسلم اتحاد ناگزیر ہے۔گفتگو سن کر اقبال تڑپ اٹھے اور فرمانے لگے کہ آزادی کے لئے پنجاب اور ہندوستان کے ہندواورمسلمان بھائی بھائی بن رہے ہیں،لیکن کشمیرکاکیا؟ جس کے مسلمان ہندوؤں، سکھوں، ڈوگروں،برہمنوں اور بودھوں کے ظلم وستم کے نیچے 1846 سے جانوروں کی طرح انتہائی ذلت بھری زندگی گزار رہے ہیں۔بقول حفیظ جالندھری اقبال کافی دیرتک اس بات پر روتے رہے۔اقبال کارونااس بات پرتھا کہ اگرپنجاب کی آزادی کے لئے ہندواورمسلمان ایک ہوسکتے ہیں تو کشمیر کی آزادی کے لئے مسلمان کا ایکا کیوں نہیں ہوتا؟ کچھ عرصہ پہلے ہمیں بتایا جاتا تھا کہ عمران خان کی صورت میں ہمیں ایک ایسا لیڈر ملا ہے جسے مغرب میں عالمی لیڈر اور عرب دنیا میں مسلم امہ کے رہنما کے طور پردیکھاجاتا ہے،لیکن آج بھارت نے ظالمانہ اقدام کیا تو معلوم ہواہمارے ساتھ تو کوئی بھی نہ تھا۔شاہ محمود قریشی کی تقریر سنی تو معلوم ہوا کہ مغرب میں کوئی بھی ایسا نہیں جو اقوام متحدہ کے فورم پر ہمارے لئے ہار لئے کھڑا ہوا اورامہ بھی کشمیرسے زیادہ بھارت میں سرمایہ کاری کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔

ایک تعلیم یافتہ بیروزگارکشمیری نوجوان نے اقبال سے مددمانگی۔اقبال اس کی درخواست سن کر طیش میں آگئے اور فرمایا”تمہارا اس وقت پنجاب میں ہونا اگر دردناک نہیں تو تعجب انگیز ضرور ہے،تم بیکاری کا رونا رورہے ہو اور تمہارے ہم وطن اپنی آزادی اور حقوق کے لئے طرح طرح کی قربانیاں دے رہے ہیں، غربت اوربھوک کی شکایت کرتے ہو،اپنے وطن واپس چلے جاؤ،آزادی کی راہ میں کود پڑو، اگر قید ہو گئے تو کھانے کوتوضرور مل جائے گا اور اس گداگری سے بھی جان چھوٹ جائے گی، اگر مارے گئے تو مفت میں شہادت پاؤ گے، اور کیا چاہیے؟ اگر کشمیر جانا ہوتو کرائے کے پیسے میں دے دیتا ہوں“۔ اقبال نے بتایا کہ کشمیر کے لئے کچھ دو،وسائل کی کمی کا بہانہ نہ بناؤ،اپنی جان قربان کرو،اس مقصد کے لئے قید ہونا بھی ایک سعادت ہے،لیکن ہم تجارت اور سمجھوتا ایکسپریس بند کررہے ہیں اوران کے سفیر کو واپس بھیج رہے ہیں،اور فضائی راستے بند کرنے کی تجویزوں پر غور کر رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے یہ سب نہیں ہوا؟ یہ سب پہلے بھی ہوا، لیکن نتیجہ کچھ نہ نکلا۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ درپردہ مشرف منموہن فارمولے کو آگے بڑھایا جا رہاہو؟اقوام متحدہ بہتر سالوں میں ایک قرارداد پر عمل نہیں کرا سکا اور ہم اس کے ”ناتواں کندھوں“ پر ایک اور بوجھ لاد رہے ہیں۔لگتا ایسا ہے کہ انڈیا ظالمانہ اقدام کے بعد مذاکرات پر آمادہ ہوکردنیا کی نظر میں گڈ بوائے بنے گا، کشمیر پر سخت مؤقف اپنائے گا اور پھر ادھر ہم ادھر تم کا راگ الاپے گا، ہمارا تو کہنا ہی یہی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، لہذا قوم کو تیار کیا جائے گا، رائے عامہ ہموار کی جائے گی اور پھرکہا جائے گا کہ اگر انڈیامقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنالیا ہے تو ہم بھی آزاد کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر کے اسے اپنا حصہ بنالیتے ہیں، اس طرح مشرف منموہن فارمولے پر عمل بھی ہوجائے گا اور دونوں ملکوں کی قیادت عوام کے احتجاج سے بھی بچ جائے گی،لیکن اگر ایسا ہے تو کشمیری پہلے کی طرح اب بھی اسے غداری سمجھیں گے اور اس کے خلاف مزاحمت کریں گے۔اقبال کے نزدیک کشمیر کی آزادی کی روح یہ ہے کہ وہ مکمل آزاد ہو اور اگر اسے تقسیم کر کے کوئی حل نکالا گیا تو یہ آزادی نہیں اس کی روح کی پامالی ہے اور ایسا کرنے والے چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، تاریخ میں محسن نہیں، بلکہ ظالم کہلائیں گے، کیونکہ اقبال نے انہیں ”دست جفا کیش“ کا خطاب دیتے ہوئے ان کے بارے میں کہاہے؛

توڑ اس دست جفا کیش کو یا رب جس نے

روح آزادی کشمیر کو پامال کیا

مزید : رائے /کالم