کراچی کا المیہ،بارش کے بعد از اثرات کا بھی خیال کریں!

کراچی کا المیہ،بارش کے بعد از اثرات کا بھی خیال کریں!

  

کراچی میں بارشوں کا 53سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، وزیر اعلیٰ سند ھ مراد علی شاہ نے ’رین ایمرجینسی‘ کا اعلان کر دیا۔ کراچی کی صورتحال اس وقت شدید خراب ہے، گاڑیاں کنٹینر اور بسیں پانی پر کشتیوں کی طرح تیرتی نظر آ رہی ہیں۔ گھرپانی سے بھر گئے ہیں اور شہری چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔پورے کراچی کا ایک سا حال ہے، صدر، ملیر، ڈیفنس، بلدیہ ٹاؤن، پی  ای  ایچ ایس، کلفٹن، شارع فیصل، لانڈھی،کورنگی، گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا، ماڈل کالونی، گارڈن سمیت دیگر علاقے مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔کراچی کے علاوہ سندھ کے باقی شہروں کی حالت بھی ابتر ہے،لوگ گھروں میں محصور ہیں،کچے مکانات کے گرنے سے ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کراچی کے بیشتر علاقوں میں کئی گھنٹوں بلکہ دنوں سے بجلی منقطع ہے۔شہر کی گلیوں، بازاروں، سڑکوں پر دور دور تک پانی ہی پانی ہے لیکن نلکوں سے پانی غائب ہے،کارو بار زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق انتہائی شدید ضرورت کی صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے شہہ زور پک اپ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کے مطابق تو منگھو پیر کے دربار میں موجود مگرمچھ بھی پانی میں تیر تے ہوئے آبادی تک پہنچ گئے ہیں۔ کورونا کی وباء کے بعد بارشوں کا یہ سلسلہ نئی آزمائش بن کر کھڑا ہے۔ کورونا کی وجہ سے پہلے ہی معاشی حالات خراب تھے، رہی سہی کسر ان بارشوں نے پوری کر دی ہے۔پاک فوج کے جوان متاثرین کی مدد کے لئے دن رات کوشاں ہیں، وزیراعظم عمران خان نے بھی گورنر سندھ سے اس صورتحال پر گفتگو کی اور انہیں امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ گو امدادی کارروائیاں جاری ہیں،لیکن نقصانات کی تفصیل بہت زیادہ ہے، قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ لوگوں کی املاک تباہ ہو گئی ہیں، گھر پانی میں بہتے نظر آرہے ہیں، سرکاری دفاتر میں اہم دستاویزات بھی پانی کی نظر ہو گئی ہیں۔کراچی کی صورتحال نے تو امریکہ میں آنے والے ہری کین کی یاد یں تازہ کر دی ہیں۔

ذمہ داران یہی راگ الاپتے نظر آ رہے ہیں کہ اس سال ریکارڈ توڑ بارشیں ہوئی ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کر اچی تو ہلکی پھلکی بارش کا بوجھ بھی برداشت نہیں کر پاتا تھا، آج سے دس پہلے بھی جب جب وہاں بارش ہوتی تھی توایسے ہی مناظر دکھائی دیتے تھے۔جگہ جگہ پانی کھڑا ہو جاتا تھا، بجلی کی آنکھ مچول شروع ہو جاتی تھی اور لوگوں کے لئے باران رحمت، زحمت کی صورت اختیار کر لیتی تھی۔اب حالات زیادہ سنگین نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کایہ مسلسل تیسرا دور ہے لیکن وہاں کے مسائل جوں کے توں ہیں۔موجودہ بارشوں کے بعد سندھ خصوصاً کراچی کی حالت نے گورننس کا سارا پول کھول دیا ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے، کراچی کے مئیروسیم اختر کا کہنا تھا کہ2018 ء کے بعد سے نالوں کی صفائی کا کام نہیں کیا گیا، اور اس وقت بھی ایپکس کورٹ کے حکم پر پانچ سو ملین روپے کا فنڈ صفائی کے لئے جاری کیا گیا تھا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، دوسری طرف سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے رواں سال جولائی میں 463 ملین روپے نالوں کی صفائی اوردوسرے کاموں کے لئے دئیے۔اب کوئی ان سے پوچھے کہ اگر صفائی اور دوسرے انتظامات وقت پر ہو جاتے تو شائد حالات اتنے گھمبیر اور قابو سے باہر نہ ہوتے۔مسئلہ یہ ہے کہ سندھ میں موجود تینوں اہم سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے میں مشغول رہتی ہیں، کراچی کو تو جیسے اکھاڑہ بنایا ہوا ہے جہاں سب اپنے اپنے داؤ پیچ آزماتے رہتے ہیں اور اس کا خمیازہ اہل کراچی بھگت رہے ہیں۔

اس مشکل وقت میں ڈھول پیٹنا اور ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کرنا  بہت آسان ہے، ماضی میں بھی یہی ہوتا آیا ہے، جیسے تیسے  وقت گزر جاتا ہے اور پھر سب آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ہمارے ہاں بد قسمتی سے گورننس نام کی چیز سر سے نظر ہی نہیں آتی، بس وقت ٹالا جاتا ہے۔

 ان حالات میں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا،اِس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سب مل کرمشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔جن علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ رُک گیا ہے اوروہاں چھتیں اور دیواریں گرنے کا اندیشہ ہے ان علاقوں سے متاثرین کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا اہتمام کریں۔ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو الرٹ رکھیں،طبی امداد اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ ابھی تو بارشیں ہو رہی ہیں،لیکن جب بارشیں تھمیں گی تو مسائل کاایک اور پہاڑ سامنے ہو گا،گندے  پانی سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ درپیش ہو گا، تعفن اور بدبو پھیلے گی، اس سے کیسے نمٹا جائے گا؟ اس کا سامان کرنا بھی ازحد ضروری ہے۔کراچی میں پانی کے فوری انخلا کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔اب بھی وقت ہے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ لیں،ان حالات سے نصیحت پکڑیں، عوام کی مشکلیں آسان کرنے کا سامان کریں نہ کہ ان میں اضافے کا باعث بنیں۔ہر جگہ ندی نالوں کی صفائی کا مستقل بندوبست کیا جائے، ساتھ ہی ساتھ شہروں میں موجودکوڑے کو تلف کرنے کابھی اہتمام کیا جائے، نکاسی آب کے نظام کو موثر بنایا جائے،تاکہ کم از کم مستقبل میں تواچھی امید رکھی جا سکے۔ فی الحال تو  اس وقت  مشکل میں گھرے افرادکے لیے آسانی اورذمہ داران کے لئے عقل کی دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -