نیوزی لینڈ، کرائسٹ چرچ سانحہ، انصاف ہوا، نظر بھی آ گیا

نیوزی لینڈ، کرائسٹ چرچ سانحہ، انصاف ہوا، نظر بھی آ گیا

  

 سانحہ کرائسٹ چرچ میں 51نمازیوں کو شہید کرنے والے دہشت گرد برنیٹن ٹیرنٹ کو تادم مرگ عمر قید کی سزا دے دی گئی، اس کے مطابق مجرم اپنی باقی ساری عمر جیل میں ہی گزارے گا اور اس کی موت جیل میں ہی واقع ہو گی۔کہتے ہیں، انصاف ہونا ہی نہیں، ہوتا نظر بھی آنا چاہیے، اس مقولے پر نیوزی لینڈ کی ہائی کورٹ نے عمل درآمد کر دکھایا۔ مجرم برنیٹن ٹیرنٹ نے شہر کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 51نمازی شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔دہشت گرد نے آٹو میٹک ڈیجیٹل گن سے مسلسل فائرنگ کرکے نمازیوں کو شہید کیا تھا،دہشت گرد ٹیرنٹ آسٹریلیا نژاد ہے، اسے موقع پرہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ایک نمازی ہی نے اسے قابو کیا تھا، مقدمہ ویڈیو نظام کے تحت چلایا گیا اورمجرم کو صفائی کا پورا موقع دیا گیا، اس نے اعتراف جرم کر لیا تھا،۔ اس قتل عام پر نیوزی لینڈ میں باقاعدہ سوگ منایا گیا۔ خصوصی طور پر وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن نے باہمت وزیراعظم ہونے کا ثبوت دیا اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ فیصلہ سنانے والے ہائی کورٹ کے جج کیمرون مینڈر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یسے قبیح جرم کی سزا کا تعین بھی مشکل ہے۔وزیراعظم جینڈرا نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یورپ اور مغربی دنیا میں سزائے موت ختم کی جا چکی  ہے، اس لئے مجرم کوپھانسی کی سزا نہیں سنائی گئی۔ تاہم فاضل عدالت نے جو سزا سنائی، اس کے مطابق قیدی کو کسی قسم کی رعائت نہیں ملے گی اور نہ ہی وہ کبھی پیرول پر رہائی کا حق دار ہوگا۔ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا پہلا مقدمہ ہو گا، جس میں سزا کے بعد ان رعائتوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق فیصلہ سننے کے لئے عدالت کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، ان میں شہدا کے لواحقین بھی تھے اور بڑے رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ اس سانحہ کی اہم ترین بات یہ بھی تھی کہ وزیراعظم اور نیوزی لینڈ کے شہریوں نے شہداء کے خاندانوں کابے حدساتھ دیا، وزیراعظم اور شہریوں نے تعزیتی اجتماعات حتیٰ کہ نماز جمعہ کے اجتماعات تک میں شرکت کرکے یگانگت کا اظہار کیا۔ نیوزی لینڈ کے مسلمان شہری اس فیصلہ سے مطمئن ہیں اور پاکستان میں تعریف کی جا رہی ہے کہ انصاف ہوا اور نظر آیا۔

مزید :

رائے -اداریہ -