بھارت کو 184 ووٹ، مہذب دنیا، اہل کشمیر کو آزادی دلائے

بھارت کو 184 ووٹ، مہذب دنیا، اہل کشمیر کو آزادی دلائے

  

چندروز قبل، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں براعظم ایشیا کی ایک نشست پر رکن ممالک کے ووٹوں کی حمایت سے انتخاب کا انعقاد ذرائع ابلاغ میں پڑھنے اور سننے میں آیا۔ اس موقع پر اطلاعاً بھارت کو 184 ووٹ لے کر کامیابی حاصل ہوئی حالانکہ اس نشست پر بھارت واحد امیدوار تھا اور اس کا مقابلہ کرنے والا ایشیاء سے کوئی دیگر ملک میدان میں نہیں تھا۔ اقوام متحدہ کے آج کل رکن ممالک کی تعداد 193 ہے۔ اس طرح بھارت آسانی سے دو تہائی رکن ممالک کی مطلوبہ اکثریت حاصل کر کے یو این سلامتی کونسل  میں دو سال کی رکنیت کے حصول کی دوڑ میں سرخرو ہو گیا۔ یہ خبر اہل کشمیر کے لئے بہت افسوس ناک ہے۔

پاکستان میں محب وطن لوگوں کی کثیر تعداد کو اس نتیجہ سے کافی مایوسی ہوئی ہے، لیکن ووٹ دینے والے ممالک تو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں جو مختلف خطہ ارض سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے وہ یہ رائے دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے پر اپنی رائے دہی کا حق اپنی آزاد مرضی سے استعمال کیا ہے۔

بھارتی حکمران، گزشتہ 73 سال سے مقبوضہ کشمیر  پر غیر قانونی طور پر قابض چلے آ رہے ہیں وہاں گزشتہ ایک سال سے موجودہ بھارتی وزیر اظعم نریندر مودی نے 9 لاکھ مسلح افواج تعینات کر رکھی ہیں۔ نیز وہاں آرٹیکل 370 اور 35 اے کا نفاذ حذف کر کے گزشتہ سال سے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کا خصوصی درجہ ختم کر کے اپنی مرکزی حکومت میں شامل کر لیا ہوا ہے جس کا دعویٰ اور اعادہ بھارتی سرکاری حلقے اور ترجمان گاہے بگاہے کرتے رہتے ہیں۔

جن کی تردید کر کے، اہل کشمیر اور حکومت پاکستان، بھارتی حکمران طبقوں کو اس امر کی یاد دہانی کراتے رہتے ہیں، کہ بھارتی حکومت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی بار منظور کردہ قراردادوں کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو حق خود ارادیت کے آزادانہ استعمال کا موقع فراہم کرنا چاہئے۔ اس بارے میں کسی غیر ملکی اثر و رسوخ بھارتی افواج کی موجودگی کا دباؤ بروئے کار لائے بغیر اہل کشمیر کو بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا آزادانہ اور منصفانہ موقع دینا ہی، مذکورہ بالا قراردادوں پر عمل درآمد کی روح کے مترادف ہے۔ زیر بحث مسئلہ پر یہ امر ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ اہل کشمیر  سالہا سال سے بھارت کی حکمرانی سے نجات حاصل کرنے کی خاطر مسلسل احتجاجی مظاہرے، آئے روز مقبوضہ کشمیر میں سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر فلک شگاف نعروں اور پر زور اپیلوں کے ساتھ دیکھنے اور سننے میں آ رہے ہیں لیکن مہذب دنیا ان جائز مطالبات اور سلامتی کونسل کی اہل کشمیر کو حق خود ارادیت کے استعمال کی قراردادوں پر عمل درآمد پر زور دینے، بھارتی حکومت  پر ضروری دباؤ ڈال کر مائل و راغب کرنے سے کیوں گریزاں، خاموش اور لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے حالانکہ اقوام متحدہ کا قیام تو 1945ء میں امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کی منصوبہ سازی اور عملی کوششوں کے نتیجہ میں ہی وجود میں لایا گیا تھا۔ بین الاقوامی حالات کا علم رکھنے والے قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ اس عالمی ادارے کے ابتدائی ا ور بانی اراکین کی تعداد 51 تھی جو رفتہ رفتہ بڑھ کر چند سال قبل 193ء ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ، بلا شبہ ایک مثبت اور سود مند بین الاقوامی سطح پر محیط انسانی خدمت اور فلاح و بہبود کے امور کی انجام دہی کی سرگرمیاں بروئے کار لاتا ہے۔ مختلف ممالک میں انسانوں کو درپیش مشکلات  اور مصائب سے نبرد آزما ہونے کیلئے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، جلد میدان عمل میں آ کر عوام کی پریشانیوں اور تکالیف کو کم کرنے کے لئے قابل ذکر مالی اور مادی امداد فراہم کرنے کا انتظام کرنے کے اقدامات کرتے ہیں۔ جس سے دکھی لوگوں کو خاطر خواہ حد تک اپنے مسائل کے حل میں مدد ملتی ہے اس طرح گزشتہ کئی سال میں مختلف خطہ ہائے ارض کے مصیبت زدہ پریشان حال لوگوں کو اپنی زندگی قدرے بہتر انداز سے گزارنے کی سہولتیں اور مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔ انسانی مسائل میں کمی آنے سے اقوام متحدہ کے تحت مثبت خدمات کو تقریباً ہر جگہ سراہا جاتا ہے لہٰذا ان کو جاری رکھنے کی ہر خطہ ارض میں بلا کسی تفریق تاخیر رنگ و نسل، مذہب علاقہ اور ذات برادری، اشد ضرورت ہے۔ اس کار خیر میں سب متمول ممالک اداروں اور مخیر حضرات کو اپنا تعاون فراہم کرنا چاہئے تاکہ انسانی مسائل میں کمی کی حتی المقدور کاوشیں اختیار کی جائیں۔ کورونا وبا پر بھی انسانی خدمت کے لئے عالی ظرفی کا مظاہرہ کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے تحت اگر ایشیا کی نشست پر دیگر کوئی  امیدوار برائے انتخاب رکن سلامتی کونسل سامنے نہیں آ سکا تو پھر بھی بھارت کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد 184 پر یہ اعتراض بالکل جائز اور مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بھارت عرصہ دراز سے اہل کشمیر کو اسی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں پر عمل درآمد سے قصداً گریز و انکار کر رہا ہے۔ حالانکہ اقوام متحدہ کے قیام کا ایک بڑا بنیادی مقصد یہی تھا کہ لوگوں کو کسی دباؤ اور اثر و رسوخ کے بغیر آزادانہ زندگی گزارنے کے حقوق فراہم کئے جائیں۔ لہٰذا  رکن ممالک کا کردار یہاں انسانی حقوق کی پاسداری پر ہے۔ بھارتی حکومت نے ہزاروں ہندو افراد کے ووٹ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان علاقے سے رہائشی ظاہر کر کے ان کی ڈومیسائل دستاویزات تیار کی ہیں۔ تاکہ وہاں کی مسلمان آبادی کو دیگر اقوام سے کم ظاہر کیا جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -