”ایمان دار ناانصافی“

”ایمان دار ناانصافی“
”ایمان دار ناانصافی“

  

بڑی حیرت سے اُن دوستوں کو دیکھا کرتے تھے،جو کہا کرتے کہ اپنے وطن ِ عزیز میں ”ایمانداری“ اور ”ناانصافی“ ساتھ ساتھ چلتی ہیں، مگر احساس تب ہوا جب ہمیں ایک مرتبہ لاہور سے فیصل آباد کا سفر درپیش آیا۔ جاتے وقت ایک معروف ٹرانسپورٹ کی مسافر بردار بس نے ہمیں بذریعہ موٹروے محض دو گھنٹے میں منزل تک پہنچا دیا،مگر ایک دوست کی تجویز پر واپسی کے لئے جس بس میں سوار ہو کر لاہور کے عازمِ سفر ہوئے، اُس کا روٹ براستہ شاہکوٹ، شیخوپورہ سے ہماری منزل تک آتا تھا۔ کہنے کو تو یہ محض150کلو میٹر کا سفر تھا جو موٹروے کے طویل سفر کا تقریباً نصف تھا، مگر اس مختصر سے سفر نے ہمیں زندگی کے کئی نئے پہلوؤں سے روشناس کرا دیا۔بس نے جونہی فیصل آباد شہر کی حدود عبور کی، گاڑیوں کی لمبی قطاروں کے عقب میں ایک ٹال ٹیکس پلازہ نظر آیا۔ ہجومِ بیکراں میں پھنسی ہماری بس رینگنا شروع ہوئی اور کبھی رُکتے، کبھی رینگتے بالآخر ٹال ٹیکس کھڑکی تک پہنچی۔ٹال ٹیکس ادا ہوا تو گاڑی نے رفتار پکڑی، مگر اس بھیڑ بھاڑ میں قریباً آٹھ دس منٹ کا وقت ضائع ہو گیا۔ بیچ میں ٹیکس  پلازہ سے کچھ پہلے نصب کردہ ٹیکس ریٹس پر نظر گئی تو اک عجیب سا احساس ہوا، کیونکہ مختلف گاڑیوں کے لئے مختلف قسم کی رقوم درج تھیں۔ صرف کار سواروں کا ذکر کیا جائے تو ٹیکس کی رقم کسی سادہ فارمولا، یعنی 30، 40 یا50 روپے کی بجائے 33،35 یا 42 روپے وغیرہ پر مشتمل تھی۔ہم خدانخواستہ کسی لاگو کردہ ٹیکس ادائیگی کے خلاف تو ہر گز نہیں کہ ایسی وصولیوں ہی سے تو وطن ِ عزیز کے گلشن کا کاروبار چل رہا ہے،مگر ٹیکس رقم کی ایسی بے تکی تخلیق سمجھ سے باہر تھی۔

روزانہ سفر کرنے والے ڈرائیور حضرات تو شاید مطلوبہ ریز گاری کا الگ سے بندوبست رکھتے ہوں گے،مگر کبھی کبھار سفر کرنے والا کوئی انجان ڈرائیور تو یقینا مخمصے کا شکار ہو جاتا ہو گا جسے ادائیگی اور بقایا جات وصولی کے لئے کافی تردد کرنا پڑتا جو وقت کے ضیاع کا باعث بن رہا تھا۔ فیصل آباد سے لاہور تک کے سفر میں پانچ مختلف مقامات  پر ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اور  ہر  ٹال پلازہ پر شہر سے نکلنے اور داخل ہونے والی ٹریفک کئی قطاروں میں تقسیم ہو کر، دھیرے دھیرے رینگنا شروع ہو جاتی ہے اور بعض اوقات کچھ یوں اٹک جاتی ہے کہ مسافر لوگ گاڑی سے اُتر کر نہایت آرام سے چھوٹے موٹے مسائل بھی نپٹا لیتے ہیں جیسے کوئی سگریٹ نوش اپنی طلب پوری کرنے یا کوئی مسافر سڑک کنارے کھڑے خوانچہ فروشوں سے اشیاء خورو نوش کی خریداری کا فریضہ بھی باآسانی انجام دے سکتا ہے،چنانچہ عمومی حالات میں ایک ٹال پلازہ سے گلو خلاصی کے لئے قریباً آٹھ دس منٹ کا وقت،مسافروں کے لئے گویا تفریح کا موقع، مگر ہماری نظر میں یہ سرا سر وقت کا ضیاع تھا۔ پانچ عدد ٹال پلازوں پر تقریباً ایک گھنٹہ کے قریب وقت کا اصراف ہمارے لئے بڑی کوفت کا باعث بنا  رہا۔

واپس لاہور پہنچ کر تحقیق کی تو انکشاف ہوا کہ ہر ٹیکس پلازہ پر انتہائی دیانتداری استعمال کرتے ہوئے فی کلو میٹر سفر کے حساب سے ٹیکس Culculate کر کے رقم کا تعین کیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی ناانصافی کا احتمال نہ رہے۔ایسی جارحانہ ایمانداری پر ہم ”انصاف“ سے زیادہ ”وقت کے ضیاع“ پر دِل گرفتہ تھے۔

ہمیں جب کبھی ایسی ناگفتنی سے پالا پڑتا  ہے تو اپنے آل راؤنڈر نائب قاصد عبدالرشید سے تذکرہ ضروری خیال کرتے ہیں۔موصوف سے جب اس مسئلے پر گفتگو کا آغاز کیا تو وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا ”سر جی! جسے آپ خوامخواہ وقت کا ضیاع یا کوئی سنگین مسئلہ جان کر خود کو اُلجھا رہے ہیں،وہ تو روز مرہ کا قصہ ہے۔ دراصل ہم جیسے عام لوگوں کے پاس خرچ کرنے کے لئے بڑے لوگوں کی طرح موٹی رقمیں  تو  ہوتی نہیں، ماسوائے وقت کے اور ہمارا وقت اگر کسی میلے ٹھیلے میں رنگ برنگے طریقے سے خرچ ہوتا ہے تو بُرا کیا ہے؟ دورانِ سفر آپ نے غور کیا ہو گا، جب گاڑی ٹال پلازہ کے قریب رینگتے رینگتے رُک سی جاتی ہے تو کیا خوب ماحول بن جاتا ہے۔ مسافر لوگ اپنی سواری سے اُتر کر ایک تو اپنی ٹانگیں سیدھی کر لیتے ہیں، جو دورانِ سفر اکڑ چکی ہوتی ہیں اور پھر دیگر مشاغل سے بھی لطف اندوز ہو لیتے ہیں، جو آپ دورانِ سفر ملاحظہ کر چکے ہیں ویسے بھی گھنٹہ دو گھنٹہ قبل گھر یا دفتر پہنچ کر کئی متوقع پریشانیوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

پھر ایسے وقت کا ضیاع اپنے ساتھ کئی فوائد بھی لاتا ہے۔ ہم نے اُسے ٹوکتے ہوئے پوچھا: ”ارے پاگل! اس میں فوائد کہاں سے ٹپک پڑے؟“ عبدالرشید ایک بار پھر ہنسا اور بولا ”سر جی! سب سے پہلافائدہ اُن دیہاڑی دار خوانچہ فروشوں اور پھیری والوں کو جاتا ہے، جو ٹال پلازوں کے اطراف مختلف اشیاء بیچ کر اپنی روزی روٹی کا بندوبست کر لیتے ہیں اور شاید آپ لاعلم ہوں کہ ایسی عجلت میں خرید کردہ اشیاء اکثر  دو نمبر سے لے کر دس نمبر تک ہوتی ہیں،جن میں منافع کثیر اور وصولی نقد۔محض پانی کی چھوٹی بوتل جسے منرل واٹر کہا جاتا ہے،پندرہ بیس روپیہ منافع چھوڑ جاتی ہے، دیگر اشیاء جیسے چپس، جوس وغیرہ کی فروخت بھی کچھ ایسی ہی آمدنی کا باعث ہوتی ہے۔ دوسرا فائدہ اُن آئل کمپنیوں، پٹرول پمپس والوں کو جاتا ہے، جن کا فروخت کردہ پٹرول کھڑی ہزاروں گاڑیوں میں چل رہا ہوتا ہے۔تیسرا بڑا فائدہ ٹال پلازوں پر عملے کی تعیناتی پر اُن مقتدر شخصیات کو جاتا ہے، جو زیادہ ٹال پلازوں پر سینکڑوں آدمی بھرتی کرواتے ہیں اور یوں بیروزگاری میں کمی کے ساتھ اپنی آمدنی میں اضافے کا  سامان کر لیتے ہیں۔

مزید یہ کہ اکثر گاڑیوں کے مالکان جو بیالیس کے پچاس کا نوٹس پھینک کر، ٹکٹ لئے بغیر نکل جاتے ہیں، وہ الگ سے ایک ”دیہاڑی“ کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ پھر سب سے زیادہ فائدہ اُن میں صاحبانِ اختیار کو جاتا ہے،جو کہ اپنے آرام دہ دفاتر میں بیٹھے، اُس عملہ کی تعیناتی کے آرڈرز جاری کرتے ہیں،پھر ایک اور فائدہ…… اتنا بول چکنے کے بعد عبدالرشید نے معنی خیز انداز میں ہماری جانب دیکھا۔ اُس کی بات کا رُخ اپنی طرف گھومتا دیکھ کر ہم نے ہاتھ اٹھایا اور کہا ”چلو، بند کرو اپنی بکواس، بہت فوائد ہو چکے، جاؤ  اور پانی کا گلاس لے کر آؤ“۔

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

مزید :

رائے -کالم -