کامیابی کے پا نچ اُصول ……سورۃالعصر (1) 

 کامیابی کے پا نچ اُصول ……سورۃالعصر (1) 
 کامیابی کے پا نچ اُصول ……سورۃالعصر (1) 

  

ایک برف فروش بازار میں آوازیں لگاکر برف بیچ رہا تھا کہ لوگومجھ پر رحم کرو، میرا مال و متا ع ضائع ہو رہا ہے، لو گو! میر ی مددکرو۔جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، میر ی برف ختم ہورہی ہے، میری  بر ف پگھل کر پا نی بن رہی ہے اگر تم لو گوں نے میری برف نہیں خریدی تو میں تباہ وبرباد ہوجاؤں گا اور میں اپنے آئندہ کے معاملات کو کیسے دُرست کر سکوں گا۔لو گومجھ سے میری برف خرید لوورنہ ساری محنت اور اُجرت ضائع چلی جائے گی۔امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ مجھے سور ۃالعصر کی تفہیم ایک بزرگ سے ہوئی جب وہ بازار گئے اور انہوں نے اُس برف فروش کو  دیکھا جو یہ سب آوازیں لگا رہاتھا۔پتہ چلتا ہے کہ ہماری زندگی بھی برف کی طرح ہے اور اگر ہم اس کو خوبصورت،بہتر اور با مقصد بنا کر نہیں گزاریں گے تو یہ ایک نہ ایک دن ختم توہو ہی جا نی ہے۔یہ چھوٹی سی سورۃ تمام انسانوں کے لئے دُنیا اور آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے۔یہ عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کا بہت بڑا معجزہ ہے۔تبھی حضرت امام شافعیؒ کو کہنا پڑا  کہ ”انسان صرف اس سورۃ کو ہی سمجھ لے تو اس کی کامیابی کے لیے کافی ہے“۔اس سورۃ کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ”صحابہ اکرامؓ جب ایک دوسرے کو ملتے تو جُدا ہو نے سے پہلے ایک دوسرے کو سورۃ العصر ضرور پڑھ کر سنایا کرتے تھے“۔اس سورۃ میں انسان کی کامیابی کے لئے پانچ اُصول بتائے گئے ہیں، جن کو اپنا کر کوئی بھی انسان کامیابی کی منزل کو پہنچ سکتاہے۔پہلا اُصول وہ العصر یعنی ”زمانہ“ یا ”وقت“ ہے، العصر کے با رے میں لو گو ں کی مختلف آراء ہیں۔کسی نے کہا اس سے مراد”رب عصر کی قسم“ تو کسی نے کہا دن اور رات، زوال شمس سے لے کر غروب شمس تک کا وقت، دن کی ساعات میں سے آخری سا عت ہے یا عصر کی نماز کا وقت ہے۔

اس سورۃ کے مطابق کامیابی کے لئے پہلا قدم یا پہلی سیڑھی ”وقت“ ہے۔العصر سے مراد زمانہ اور زمانے سے مراد”وقت“ جو دن اور رات سے مل کر بنتا ہے، جو گھنٹوں، منٹوں اور سکینڈوں کی صورت میں ہمارے ساتھ چلتا ہے۔اس لئے عقل مند لو گ کہتے ہیں کہ دنیا میں ہم کشتی کے سواروں کی طرح ہیں کہ ہم اس کو کھڑی خیال کر رہے ہیں جبکہ زمانہ ہمیں لے کر چلا جا رہاہے۔کامیابی کے لئے جو پہلا اُصول ہمیں اس سورۃ نے بتایا ہے وہ وقت کی اہمیت اور اس کی نگہداشت کر نا ہے۔عامربن قیسؒ ایک زاہد تا بعی تھے ایک وفعہ ان سے ایک شخص نے کہا کہ عامر آؤ بیٹھ کر باتیں کر یں،تو انہوں نے بڑا خوبصورت جواب دیا کہ ”تو سو رج کو بھی ٹھہرا لو“۔سنن دیلمی کی روایت ہے کہ آقاﷺ نے فر مایا کہ ”جس شخص کے دو دن یکسا ں گزریں وہ یقینا خسارے میں ہے“۔پوری دنیا میں صرف اس ایک جملے کی وجہ سے غیر مسلم لو گوں نے ایک ڈگری بنا ڈالی جس کو ہم TQM(Total Quality Management) کی ڈگری کہتے ہیں۔اس میں ہم یہ چیز سیکھتے ہیں کہ ہر آنے والے دن اور اپنی Productکو گزرے ہو ئے دن سے کیسے بہتر اور اچھا کیا جا سکتا ہے۔حضرت ابراہیم  ؑ  کے صحیفوں میں ہر عقل مند آدمی کو یہ نصیحت کی گئی تھی کہ وہ اپنے وقت یعنی اوقات کو چار حصوں میں تقسیم کر ے پہلا،جس میں کچھ گھڑیاں وہ اپنے رب سے مناجات کرے، دوسرا اپنے نفس کا محاسبہ کرے، تیسرا للہ پاک کی نشانیوں پر غوروفکر کر ے اور چوتھے نمبر پر اپنی ضروریات خوردونوش، یعنی اپنے اور گھر والوں کے رزق کے لئے بندوبست کرے۔

اگر آپ کامیاب ہو نا چاہتے ہیں تو اپنے Goalکو سالو ں میں تقسیم کر نے کے بعد مہینوں میں اسی طرح ہفتوں پھردنوں اور پھر گھنٹوں میں تقسیم کر نے کے بعد اپنے سکینڈزکی حفاظت کی جا ئے۔اس بات کو آپ اس طرح سمجھ لیں جیسے آپ پتیل خرید تے ہیں تو آپ کوزیادہ مقدار کم پیسوں میں مل جاتی ہے۔اگر آپ چاندی خریدتے ہیں تو مقدار پتیل سے کم ملے گی اور پیسے زیادہ دینے ہو ں گے اسی طرح آپ سو نا خرید تے ہیں تو مقدار چاندی سے بھی کم ملے گی اور رقم چاندی سے بہت زیادہ دینی پڑے گی۔اگر آپ ہیرا خریدتے ہیں تو مقدار بہت ہی کم ہو گئی اوررقم بہت ہی زیادہ دینی پڑے گی۔ آپ غور کر یں تو پتہ چلے گا کہ جیسے آپ پیمانہ کم کرتے ہیں تو رقم بڑھ جا تی ہے اور چیز کی اہمیت اور و یلیو بڑھتی جا تی ہے۔اسی طرح اگر آپ اپنے سکینڈ اور منٹوں کی حفاظت کرتے ہیں تو آپ کی قیمت ویسے ہی بڑھے گی جیسے ہیرے اور سو نے کی قیمت بڑھتی جا تی ہے۔امام ابن جریر طبریؒ کے متعلق تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے کہ آپ نے 67 برس کی عمرپائی اور ان کی عادت تھی کہ وہ ہرروز چو دہ صفحات لکھ لیا کرتے تھے۔ان کی تفسیر اور تا ریخ کے صفحات کی تعداد آٹھ ہزار کے قریب ہے۔

ایک شخص نے سر والٹر اسکاٹ سے کہا کہ مجھے کو ئی قیمتی نصیحت کیجئے تو واٹر اسکاٹ نے کہا کہ”ہو شیار رہو، اپنے دل میں کو ئی ایسی رغبت پیدا نہ ہو نے دو جو تمہیں وقت رائیگاں کر نے والا بنادے۔ جو کر نا ہے اُسے فوراًکرڈالو اور کام کے بعد آرام کی خواہش دل میں آنے دو“۔سورۃ العصر میں تو اللہ پا ک نے چودہ سو سال پہلے کامیابی کے لئے جو پہلا اُصول بتایا وہ اپنے وقت کی حفاظت کرنا اور اُس کو بہتر انداز سے استعمال کر ناہے۔موجودہ دُورمیں بے شمار جدید Time Management کی Theories استعمال ہو رہی ہیں۔جن میں ایک تھیوری، جس کا نا م The Pomodora Technique ہے۔اس تھیوری کے مطابق آپ اپنے Tasksکو چھوٹے چھوٹے Time Frameمیں تقسیم کر لو۔تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ہمارا دماغ کسی بھی کام کو 30 منٹ تک پوری توجہ سے کرتا ہے۔اس کے بعد توجہ میں کمی آجاتی ہے۔یہ  Techniqueبتا تی ہے کہ آپ کسی بھی بڑے کام کو چھوٹے چھوٹے (Intervals)حصوں میں 25 منٹ کے حساب سے تقسیم کر دیں۔

ہر 25منٹ بعد پانچ منٹ کی بریک کی جائے تو آپ آسانی سے اپنے کام کو بہتر انداز سے ختم کر سکتے ہیں۔ دوسری تھیوری،جس کو The Pickle Jar Theoryکہتے ہیں، یہ  آپ کو بتاتی ہے کہ آپ کی زندگی کا وقت خالی جار Empty Jarکی طرح ہے اور اس میں سب سے پہلے وہ چیزیں داخل کریں جو سب سے زیادہ اہم اور آپ کے لئے خوشی کا باعث ہیں۔جو آپ کے مقصد، خاندان اور صحت کے لئے بہت زیادہ ضروری ہے، آپ پورے دن میں اُن کو باقی سب پر ترجیح دیں اور  اُن کاموں کو سب سے پہلے مکمل کریں۔ ایک اور Conceptجو Parkinson's Lawسے مو سوم ہے اور جو کہ سب سے زیادہ اعلی اور آسان سمجھا جاتاہے۔یہ لاء بتاتا ہے کہ ”کام کو مکمل کر نے کے لئے آپ جتنا وقت نکالتے ہیں وہ اُتنے ہی وقت میں پورا ہو تاہے“، مطلب یہ کہ اپنے کام کو کرنے کے لئے جتنا زیادہ وقت آپ decide کرتے ہیں،اگرچہ وہ کام کم وقت میں بھی ختم ہو سکتا ہے۔اس Theoryنے کاموں کوDeadlineکے ساتھ مکمل کرنے کا طریقہ بتایا،اوراپنے کاموں کو چیک کرنے Requirement or Screemingکے بعد ہی اُس حساب سے وقت یاDeadlineکی Final Date کا طریقہ سمجھایا۔

اس چیزکوA Reasonable Amount of Time کانام دیا گیا ہے، یعنی ہر کام کو بہت زیادہ وقت نہ دیاجائے اور نہ ہی بہت کم وقت دیاجائے۔ایک بہت مشہور تھیوری،  جس کو Time Management Matrix کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ہم اپنے کاموں کو چار حصوں Four Quadrants میں تقسیم کرتے ہیں۔ایک حصے میں وہ کام سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہو تے ہیں، جو کہ Important اور Urgent ہوتے ہیں۔ جیسے بل جمع کروانے کی آخری تاریخ، اگلے دن کے پیپر کی تیاری کرناوغیرہ۔اسی طرح دوسرے حصے میں وہ کام کر تے ہیں جو کہ Urgentنہیں ہو تے مگر ہمارے لئے بہت اہم Important ضرور ہو تے ہیں۔ تیسرے حصے میں Urgent،مگر جو اہم نہیں ہو تے وہ کام ہو تے ہیں۔آخری حصے میں وہ کام جو کہ نہ Urgentہو تے ہیں اور نہ ہی اہمImportant ہو تے ہیں۔ جیسے گپ شپ لگانا، فضول میں دوستوں کے ساتھ وقت ضائع کرنا، بازاروں میں چکر لگاتے رہنا وغیرہ۔    (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -