مثالی روا داری، پاکستانی معاشرے کا حُسن

مثالی روا داری، پاکستانی معاشرے کا حُسن
مثالی روا داری، پاکستانی معاشرے کا حُسن

  

پاکستانی معاشرہ عمومی طور پرایک روادار اور ذمہ دار معاشرہ ہے۔یہاں آپ کو باہمی یگانگت کے نمونے قدم قدم پر نظر آئیں گے۔ خاص طور پر مسلکی حوالے سے پاکستان کو ایک مثالی معاشرہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ہماری دشمن قوتیں ہمیشہ یہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دی جائے،مگر چند ایک واقعات کے سوا یہ آگ بڑے پیمانے پر اس لئے نہیں پھیلتی کہ ہر طرف سے الک ہی آواز اٹھتی ہے کہ  ہم سب ایک ہیں، ہمارا دین، ایمان اور عقیدہ بھی بنیادی طور پر ایک ہی ہے اور ہم سب ایک ہی نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُمتی ہیں۔ اِس بار محرم الحرام آیا تو کچھ خدشات سر اُبھارنے لگے۔ کچھ سرکاری ایجنسیوں کی رپورٹوں میں خبردار کیا  گیا کہ بیرونی قوتوں کے اشارے پر اور سازشوں کے ذریعے فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی جائے گی،جس پر سب کے کان کھڑے ہو گئے۔ اِس فتنے کو تو قوم بڑی حد تک دفن کر چکی ہے، پھر یہ کیسے سر ابھارے گا۔ اسی دوران ایک گم کردہ راہ ذاکر نے اسلام آباد میں خطاب کر کے شر پسندی کو ہوا دی،لیکن احسن کام یہ ہوا کہ خود شیعہ مسلک کے اکابرین نے اُس کی مذمت کی اور یہ درس دیا کہ سبھی قابل ِ احترام ہستیاں ہمارے لئے مقدس ہیں اور اس پر اجماعِ اُمت موجود ہے۔

تین دہائیوں پہلے اور آج کے پاکستان میں زمین آسمان کا فرق ہے، ہماری عمر کے لوگ اُن خوں آشامی کو نہیں بھولے، جو اسی پاکستان میں فرقہ واریت کے نام پر کھیلی گئی۔ قابل ِ غور بات یہ  ہے کہ اُن دِنوں بھی فرقہ واریت خانہ جنگی کا باعث نہیں بنی تھی،بلکہ ہر مسلک کے لوگ ایک ہی محلے میں محبت و مروت کے ساتھ رہتے تھے، ہاں صرف کچھ گروہ تھے جنہوں نے غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر قتل و غارت گری شروع کر رکھی تھی، بڑے بڑے واقعات کے باوجود آپس کی وہ رواداری متاثر نہیں ہوئی، جو شیعہ سُنی کے درمیان  موجود تھی، اصل حقیقت یہی تھی جسے ایک مخصوص سازش کے تحت ختم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی،مگر دشمنوں کو کامیابی نہیں ہوئی۔آج یہ سب راز کھل گئے ہیں کہ کون سا ملک کس فرقے کی حمایت کرتا اور اسے اسلحہ اور وسائل فراہم کرتا تھا۔ آج کی بدلی ہوئی صورتِ حال میں اس حوالے سے کوئی سازش اِس لئے کامیاب نہیں ہو سکتی کہ عوام میں شعور پیدا ہو چکا ہے۔اب یہ نظریہ جڑ پکڑ چکا ہے کہ اپنے مسلک کو چھوڑو نہ اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہ، سب سے اہم بات یہ ہے کہ علمائے کرام کے درمیان اس حوالے سے مثالی یکجہتی ہے۔ ہر مسلک کے علماء ایک ہی پیج پر ہیں اور یہ تاثر دینے کو تیار نہیں کہ اُن میں کسی قسم کی خلیج موجود ہے۔ ویسے بھی یہ عوامی شعور ہی ہے جس نے ہر ایسی بات کو رد کرنے کی روایت ڈال دی ہے، جو اتحاد بین المسلمین میں کوئی دراڑ ڈال سکتی ہو۔ یہ اس یکجہتی کا نتیجہ ہے کہ جس ذاکر نے نازیبا گفتگو کی،اُس کے خلاف مقدمے کو سب نے سراہا اور وہ خود بھی یہ وضاحت کرنے پر مجبور ہو گیا کہ اُس نے صحابہئ کراؓم کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی اور وہ سب مقدس ہستیوں کا احترام کرتا ہے۔

ہم اپنے بچپن سے دیکھتے آ رہے ہیں کہ محرم الحرام پر عزا داری کے جلوس سنی علاقوں سے نکلتے ہیں اور اپنے مقررہ راستوں سے گزرکر اپنی منزل پر پہنچتے ہیں۔مَیں اپنے علاقے ملتان کینٹ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں، یہاں محرم کا جلوس  لال کُرتی سے نکلتا ہے، جہاں اکثر گھر سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، کئی دہائیاں ہو گئیں یہ سلسلہ جاری ہے، حتیٰ کہ تعزیئے بھی سنی حضرات کے ہیں، پورے کینٹ سے یہ ماتمی جلوس گذرتے اور آج تک کوئی ایک واقعہ بھی میرے مشاہدے میں نہیں کہ کسی نے بدمزگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہو، بلکہ راستے میں پانی کی سبیلیں بھی سنی حضرات لگاتے ہیں اور نذر و نیاز بھی تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ایسی مذہبی روا داری ہے کہ جس کی مثال نہیں مل سکتی۔ ایسے میں جو سازشی قوتیں شیعہ سنی فسادات کرانے کی سوچتی ہیں اُن کی عقل کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ِ ذکر ہے کہ حضرت امام حسینؓ کی اسلام کے لئے لازوال قربانی تمام ملت ِ اسلامیہ کا فخر اور اثاثہ ہے،اِس لئے شہادتِ خانوادہ حسینؓ پر ہر مسلمان کی آنکھ نم ہو جاتی ہے، مسلکی فروعات اُس عظیم حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتیں،جو خلفائے راشدین، صحابہ کرامؓ اور امامِ عالی مقام کی  تقدیس و تحریم کو یقینی بناتی ہے۔ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ اسلام میں فرقے موجود ہیں تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا  کہ ہر فرقے کی بنیاد ایک ہی ہے،یعنی اللہ اور اُس کے رسوؐل آخر اپر ایمان،اِس لئے ہر فرقے کا احترام ضروری ہے، اس میں کسی کو اونچا یا نیچا دکھانے کی ضرورت نہیں،یہی وہ سوچ ہے جو  اب رفتہ رفتہ پروان چڑھ رہی ہے اسے خوش آئند امر سمجھنا چاہئے کہ اب کسی کے انفرادی فعل پر صرف اِس لئے اُس کی حمایت نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے مسلک سے تعلق رکھتا ہے، بلکہ اُس کی حوصلہ شکنی اور مذمت کی جاتی ہے۔

پاکستان ایک مخلوط معاشرے پر مشتمل ہے اس میں ایک طرف اسلام کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان باہمی یگانگت اور  محبت سے رہ رہے ہیں اور دوسری طرف اقلیتیں ہیں، جو مسلمان آبادیوں میں گھل مل گئی ہیں، یوں پاکستان دُنیا کے لئے ایک مثالی معاشرے کی حیثیت رکھتا ہے۔یورپ اور امریکہ میں بھی یہ یگانگت موجود نہیں اور کبھی مذہب اور کبھی نسلی امتیاز کی وجہ سے اکثریت اقلیت کو نشانہ بناتی ہے۔پاکستانی معاشرے کی یہ روا داری اور یکجہتی یقینا ہمارے دشمنوں کو گوارا نہیں، وہ آج بھی مسلسل اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ فرقہ وارانہ تعصب کو ہوا دے کر ملک میں انتشار و افتراق پیدا کیا جائے،اسی لئے ہمیں بحیثیت قوم اور معاشرہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ افواہوں پر کان دھرنے کی بجائے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دوسرے کے مسلک کا اتنا ہی احترام کیا جائے، جتنا اپنے مسلک کا کرتے ہیں۔ ہمارا معاشرتی امن ہمارے بیرونی دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا، وہ مسلسل آگ لگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں،لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں اِس لئے کامیاب نہیں ہوں گے کہ اب عوام اُن کی سازشوں کو پہچان چکے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -