ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے تباہی،دیرا،برساتی نالے بپھر گئے،مزید 25افراد جاں بحق

    ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے تباہی،دیرا،برساتی نالے بپھر گئے،مزید ...

  

 لاہور، اسلام آباد، جامکے چٹھہ،سوہدرہ، سیالکوٹ(جنرل رپورٹر، لیڈی رپورٹر، کرائم رپورٹر، نمائندگان)  پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کے باعث چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات میں دو بچوں سمیت 7 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، نشیبی علاقوں سے پانی نہ نکلا جاسکا، بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا، دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔۔ لاہور میں سگیاں پل کے قریب گھر کی چھت گرگئی، جس میں 4 افراد جاں بحق  ہو گئے۔۔ ظفر وال شہر میں بھی بارش کے باعث سڑکیں تالاب بن گئیں، پانی گھروں میں داخل ہوگیا،۔ سڑکوں پر بھی کئی کئی فٹ پانی جمع ہے جس سے آمدورفت میں مشکلات ہیں۔ کرنٹ لگنے سے طالبعلم جاں بحق ہوگیا۔وزیر آباد میں بھی طوفانی بارش ہوئی جہاں گھر کی چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق ہوگئے، صفدر آباد میں بارش کے باعث کلینک کی چھت گر گئی تاہم ڈاکٹر سمیت تمام افراد محفوظ رہے۔دوسرے روز بھی دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام پر پانی کی سطح ایک لاکھ آٹھ ہزار کیوسک تک پہنچ گئی، فلڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔  سوات اور کوہستان میں  بارش کے باعث سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، 17 افراد ریلے میں بہہ گئے جس میں سے 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر سواتکے مطابق مدین میں شاہ گرام اور تیرات نالے میں طغیانی سے کئی مکانات بہہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نالوں میں طغیانی کے باعث 40 مکانات اور رابطہ پلوں سمیت دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ڈی سی سوات نے 17 افراد ریلے کے پانی کے ریلے میں بہہ جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 6 افرادکی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ 11کی تلاش اور علاقے میں امدادی کارروائی جاری ہیں۔ ادھر چلاس میں شاہراہ قراقرم پر تتہ پانی سے لال پڑی کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ سے کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور پہاڑی تودہ گرنے سے ٹینکر کا ڈرائیور جاں بحق ہو گیا۔ شاہراہ قراقرم پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آمدروفت معطل ہو گئی ہے، شاہراہ بند ہونے سے مقامی افراد اور سیاح دونوں جانب پھنس گئے ہیں۔لو ئر ما ل  کے علا قہ بند روڈ افضال کالونی میں بارش کے باعث گڈز ٹرانسپورٹ دفتر کی چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق۔تفصیل کے مطابق حادثہ افضال کالونی میں پیش آیا، چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہو گئے، ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں 24 سالہ عظمت، 40 سالہ خلیل، 16 سالہ آصف اور افسر خا ن  شامل ہیں۔ ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق لاشیں مردہ خانے منتقل کردی گئیں ہیں۔ ذرائع کا بتانا ہے عمارت میں کھلونوں کا گودام بنایا گیا تھا۔چھت بظاہر کمزور اسٹریکچر کی وجہ سے گری فوت شدگان میں سے ایک کا تعلق کرک اور 3 کا بونیر سے ہے دوسری جانب کمشنر لاہور نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔نو اں کو ٹ کے علا قہ ڈھولنوال رہبر اڈہ کے قریب مکان کی چھت گر گئی۔3خواتین زخمی ہوگئی۔ سیالکوٹ میں نالہ پلکھو کے بپھر جانے سے متعدد دیہات زیر آب آگئے، بھڑتھ کے قریب نالے کا پل ٹوٹنے کی وجہ سے کئی دیہاتوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔نالہ پلکھو میں پانی کی سطح 4550 کیوسک سے تجاوز کر گئی جبکہ اس نالے میں 3 ہزار کیوسک پانی کی گنجائش تھی، پانی کے شدید بہاؤ کی وجہ سے بھڑتھ کے قریب پورا پل پانی میں بہہ گیا اور نالے کا پانی باہر نکلنے سے رانی چک سمیت متعدد دیہات  زیر آب آگئیشدید  بارشوں سے سوات، اپر چترال، شاگرام، تیرات کے ندی نالوں میں طغیانی آگئی، سیلاب سے 6 افراد جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوگئے۔ پی ڈی ایم کے مطابق حالیہ بارش سے سوات، اپر چترال، شاگرام، تیرات میں سیلابی ریلوں کے باعث متعدد گھروں کو نقصان پہنچا جس سے 6 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے، متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔موسلادھار بارش سے کوہستان میں تباہی ہوئی، سازین اور الائچی میں سیلابی پانی 19 گھروں کو بہا لے گیا جس میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد بھی شامل ہیں، تین لاشیں نکال لی گئیں۔ سوات کے علاقے مدین میں بارش کے بعد برساتی نالے میں 3 مکان بہہ گئے۔سوہدرہ میں شدید بارش کے باعث محنت کش کے مکان کی خستہ حال چھت گرنے سے اس کے دو بچے جاں بحق اسکی بیوی اور دو بچے شدید زخمی ہو گئے۔ محلہ شاہ لٹھہ،یں رہائش پذیر محنت کش محمد شفیق اپنی فیملی کے ساتھ اپنے خستہ حالت مکان میں رات کو سو رہے تھے کہ شدید بارشوں کے باعث اچانک مکان کی چھت نیچے اا گری جس کے نتیجہ میں اس کا 8سالہ بیٹا عتیق الرحمان،10سالہ بیٹی نایاب شہزادی چھت کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے۔ جبکہ اسکی اہلیہ اور دو بچے شدید زخمی ہو گئے دونوں زخمی بچے مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔جامکے چٹھہ سے نمائندہ پاکستان کے مطابق دریائے چناب کے مقام نیو خانکی بیراج سے 2 لاکھ 86 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ گزشتہ روز گزر گیا جبکہ سیلابی ریلے کے حوالے سے کئے گئے قدامات کا جائزہ لینے کے لئے کمشنر گوجرانوالہ سید گلزار حسین شاہ،آر پی اوریاض نذیر گاڑااورڈپٹی کمشنرسہیل اشرف نیوخانکی بیراج کا ہنگامی دورہ جبکہ اس دورے کے دوران ایکسیئن نیوخانکی بیراج چوہدری غلام رسول نے سیلابی ریلے کے حوالے سے کئے گئے اقدامات پر وفد کو کنٹرول روم میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ممکنہ بڑے سیلابی ریلے کا سامنا کرنے کے لئے نیوخانکی بیراج کی پوری انتظامیہ ہائی الرٹ کر دی گئی ہے انہوں نے بتایا کہ  نیوخانکی بیراج سے 10 سے 11 لاکھ کیوسک پانی باآسانی گزرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے اور اس وقت 2 لاکھ 86 ہزار کیوسک پانی بیراج سے باآسانی گزر گیا ہے جس سے کسی قسم کو کوئی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑاہے اس موقع پر کمشنر گوجرانوالہ سید گلزار حسین شاہ نے انتظامیہ کو کسی بھی وقت اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے 24 گھنٹے تیار رہنے کے احکامات جاری کر دیے اور جبکہ ایمرجنسی صورتحال کے پیش نظر خانکی ہیڈ سے ملحقہ دیہاتوں میں بڑے سیلابی ریلے کے حوالے سے ہائی الرٹ رہنا کا کہا گیا کاتا کہ ملحقہ دیہاتوں کے عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر محفوظ مقامات کی طرف جاسکیں 

سیلاب ہلاکتیں 

مزید :

صفحہ اول -