شہر قائد میں بارش تھم گئی،پانی نہ نکل سکا بجلی کی فراہمی معطل،موبائل سروس بھی متاثر،مزید 14افراد جاں بحق،سندھ حکومت سے ہر ممکن تعاون کرینگے:عمران خان

شہر قائد میں بارش تھم گئی،پانی نہ نکل سکا بجلی کی فراہمی معطل،موبائل سروس ...

  

کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)کراچی میں جمعرات کی طوفانی بارش کے بعد اگلے دن کا سورج طلوع ہو گیا لیکن پانی بیشتر علاقوں سے پانی نہیں نکالا جا سکا۔ جمعرات کے روز شروع ہونے والی بارش رات گئے تھم گئی جس کے بعد شہر کے کچھ علاقوں سے پانی نکل گیا لیکن متعدد علاقوں میں پانی کے بڑے بڑے جوہڑ موجود ہیں، شہر کے بزنس ہب آئی آئی چندریگر روڈ پر بدستور گھٹنوں گھٹنوں پانی موجود ہے۔شارع فیصل پر اسٹار گیٹ سے ائیر پورٹ جانے والے راستے پر پانی جمع ہے جب کہ جناح اسپتال پل کے نیچے پانی موجود ہے، گورنر ہاؤس روڈ، آرٹس کونسل روڈ، اولڈ سٹی ایریا، نیپا، یونی ورسٹی روڈ، صفورا چورنگی، ریس کورس، سرجانی ٹاؤن، ناگن چورنگی، سہراب گوٹھ، ایم اے جناح روڈ، صدر، کھارادر اور ڈیفنس کے علاقوں میں بھی برساتی پانی اب بھی سڑکوں اور گلیوں میں موجود ہے۔کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں بھی رہائشی کالونی میں پانی آنے سے مکین محصور ہو کر رہ گئے۔علاقی مکینوں کے مطابق گلستان جوہر بلاک 5 میں نالہ اوور فلو ہونے سے پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ  سٹاف کالونی میں بھی پانی داخل ہو گیا جس کے باعث رہائشی کالونی کے خواتین اور بچے محصور ہوکر رہ گئے۔دوسری جانب منگھو پیر جمعہ گوٹھ میں پانی داخل ہونے سے مدرسہ کے طلبا پھنس گئے۔ایدھی فاؤنڈیشن نے اطلاع ملتے ہی بوٹس کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔بارش کے بعد کراچی میں بعض مقامات پر موبائل فون سروس متاثر ہے جب کہ شہر میں بادل برستے ہی ہی مختلف میں بجلی فراہمی معطل ہو گئی، بیشتر علاقوں میں 24 گھنٹے سے زائد ہونے کے باوجود بجلی کی فراہمی تاحال معطل ہے۔، کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں تین بچوں سمیت مزید 14 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ محمود آباد ہل ٹاپ نالے میں تین بچے ڈوب گئے،۔ نیا ناظم آباد میں ایدھی فاؤنڈیشن نے ریسکیو آپریشن کیا، گھر کی چھتوں پر پناہ گزیں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ شاہ فیصل کالونی، گرین ٹاون، شمسی سوسائٹی سمیت متعدد علاقے بھی متاثر ہیں، شاہراہ فیصل پر گزشتہ روز پانی میں پھنس جانے والی بے شمار گاڑیاں اب بھی موجود ہیں۔ پانی کے باعث لوگ گاڑیاں سڑک پر ہی چھوڑ گئے تھے۔محکمہ موسمیات نے کراچی میں پیر تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کر دی ایوی ایشن ڈویژن کو ایڈوائزری الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔کراچی کے مکین مزید بارشوں کے لئے تیار رہیں، محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مزید بارش ہونے کا امکان ہے۔ اتوار اور پیر کو کراچی میں تیزبارش سے صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بارشوں کے نئے سلسلے کے پیش نظرمناسب انتظامات کیے جائیں کراچی میں بارش کے بعد پیدا ہونے والی سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پاک آرمی نے فلڈ ایمرجنسی کنٹرول سینٹر قائم کر دیا ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، بارش کے باعث کئی علاقے زیر آب آ گئے ہیں جب کہ کئی علاقوں میں لوگ محصور ہو گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر سے جاری اعلامیے کے مطابق شہر میں 36 مقامات پر نکاسی آب کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جب کہ کراچی کے علاقوں گلبرگ، لیاقت آباد اور نیو کراچی میں میڈیکل کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ناردرن بائی پاس کے قریب ایم نائن پر بند کو محفوظ کر دیا گیا ہے جب کہ قائد آباد کے قریب فوجی جوانوں نے ملیر ندی کا شگاف پر کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ نیوی کے غوطہ خوروں نے شاہ فیصل ٹان اور کورنگی سے دو لاشوں کو نکال لیا گیا ہے۔ 

کراچی بارش

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ دیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سندھ حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا کے بارے میں قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر اعلیٰ سندھ سمیت دیگر صوبائی وزرائے اعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے کراچی کے حالات پر خصوصی طور پر بات کی، اور کہا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ کراچی میں بارش سے ہونے والی تباہی اور عوام کو درپیش مسائل کے حل میں تعاون کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں ریلیف سرگرمیوں کے لیے تمام وفاقی اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے طویل المدتی پلان تشکیل دیا جا رہا ہے، آئندہ چند روز میں خود کراچی جاؤں گا اور حالات کا جائزہ لوں گا۔اجلاس میں محرم الحرام کے دوران کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے بارے میں اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی، ٹیسٹنگ، ٹریکنگ، کوارنٹین اسٹرٹیجی پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا۔سیاحت کے بارے میں ٹیسٹنگ کی حکمت عملی اور مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی پر اجلاس کو آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ کورونا سے بچاؤ کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔اجلاس کو محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں کے بارے میں ایس اوپیز پر عمل درآمد پر بھی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ موثر رابطے اور جامع حکمت عملی کی بدولت کورونا کے خلاف کامیابی نصیب ہوئی، حکومتی کاوشوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاؤ کو روکا گیا۔انہوں نے کہا کہ کورونا کا ابھی خطرہ موجود ہے جس کے لیے پوری قوم کا تعاون درکار ہے، مذہبی رہنماؤں کا کورونا کے خلاف جنگ میں تعاون لائق تحسین ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے بارے میں صوبائی حکومتوں اور اسکول انتظامیہ سے مشاورت  کرکے انتظامات مکمل کئے جائیں۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں کراچی میں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہریوں کی مشکلات کا ادراک ہے، اس مسئلے پر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے، حل کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔۔اس موقع پر اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ اور کراچی کے عوام کی ترقیاتی ضروریات اور درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے۔ وفاقی حکومت اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں سیوریج، نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے جامع پلان تشکیل دیا جا رہا ہے۔ جامع پلان کی تیاری میں تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان نے بارشوں سے ہونے والے نقصان کے سدباب کیلئے مکمل مدد اور تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔صوبائی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بارشوں سے شہریوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔ اب تک بارشوں کے دوران سندھ بھر میں 80 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، ان میں سے 47 افراد کا تعلق کراچی سے ہے۔ گزشتہ روز کراچی میں 17، حیدر ا?باد 10 اور لاڑکانہ میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ اب بھی مختلف مقامات پر پانی موجود ہے جبکہ سندھ میں بارشوں سے فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ہم مشکل وقت میں لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -