چاراسلامی حکمران 

چاراسلامی حکمران 

  

جب حضرت ابوبکر صدیقؓ خلافت کے عہدے پر متمکن ہوئے تو اس سے اگلے روز حسب معمول تجارت کے لئے کپڑا لے کر بازار میں فروخت کرنے کے لئے چل دیئے۔ راستے میں حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے دریافت فرمایا:خلیفہ الرسول اللہ آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ آپ نے جواب دیا اہل و عیال کی کفالت کے لئے روزی کمانے بازار جا رہا ہوں۔ ان دونوں نے حیرانی سے پوچھا لیکن اب تو آپ  پر دربارِ خلافت کا بوجھ ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جواباً فرمایا یہ تو درست ہے مگر مجھے اپنے متعلقین کی پرورش بھی تو کرنا ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ نے مسلمانوں کے باہمی مشورہ سے بیت المال سے آپ کا وظیفہ مقرر کر دیا۔وظیفہ یہ تھا کہ آپ کو بیت المال سے ایک عام آدمی کے خرچ جتنا ماہانہ وظیفہ ملنا شروع ہو گیا اور آپ کے سفر کے لئے ایک سواری اور دو چادریں شامل تھیں۔

حضرت علی المرتضیٰؓ

 حضرت علی المرتضیٰؓ خلافت کے عہدہ ئجلیلہ پر فائز ہونے کے باوجود لوگوں کے مسائل کو معلوم کرنے اور پھر موقع پر حل کرنے کے لئے اکثر بازاروں اور قصبات کا رخ کرتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو بات تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے ہو اس سے زیادہ قابل اعتماد کوئی چیز نہیں ہے۔

ایک بار آپ حسب معمول مدینہ کے ایک بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک کنیز کو ایک دکاندار کے قریب کھڑا ہو کر روتے ہوئے دیکھا تو آپ اس کے قریب گئے اور رونے کی و جہ معلوم کی تو کنیز کہنے لگی”میں نے اس دکاندار سے کھجوریں خریدی تھیں مگر میرے آقا کو پسند نہیں آئیں اور انہوں نے مجھے انہیں واپس کرنے کو کہا ہے لیکن یہ دکاندار کھجوریں واپس لینے سے انکار کر رہا ہے، اب حیران ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔ حضرت علیؓ نے دکاندار کو کھجوریں واپس لینے کو کہا مگر اس نے کھجوریں واپس لے کر رقم لوٹانے سے انکار کر دیا۔اس پر اردگرد کے لوگوں نے بتایا کہ جس شخص کو تم انکار کر رہے ہو وہ خلیفہ المسلمین حضرت علیؓ ہیں۔ یہ سن کر دکاندار لرز کر رہ گیا اور معذرت کے انداز میں بولا۔اگر آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں تو مجھے معاف کر دیں۔

آپؓ نے فرمایا جب تم ایمانداری اور راست بازی سے معاملہ کرو گے تو میرے ناراض ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔

 حضرت ابو عبیدہؓ

حضرت ابوعبیدہؓ کے دربار میں روم کا ایک قاصد پیغام لے کر آیا تو لوگوں سے دورانِ گفتگو  یہ تمیز نہ کر سکا کہ ان میں  حضرت ابو عبیدہؓ کون ہیں۔ اس نے لوگوں سے دریافت کیاتو انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے امیرہیں۔ قاصد نے دیکھا کہ اس وقت امیر المسلمین  حضرت ابو عبیدہؓگھوڑے کی باگ تھامے زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور تیروں کو صاف کر رہے ہیں۔

حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ

ایک دفعہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ گرمیوں کی ایک دوپہر کو آرام فرما رہے ہیں،ایک لونڈی آپ کو پنکھا جھل رہی ہے۔ اسی دوران اسے نیند  آ گئی،گرمی کے باعث جب ان کی آنکھ کھلی تو لونڈی کو سویا ہوا پایا، آپ نے پنکھا لیا اور لونڈی کو جھلنے لگے۔ جب لونڈی کی آنکھ کھلی تو خلیفہ کو پنکھا جھلتے ہوئے دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی اور بولی  امیر المسلمین آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے اسے تسلی دی اور فرمایا، میری طرح تم بھی ایک انسان ہو اور تمہیں بھی گرمی لگتی ہے۔ اگر میں نے تمہیں پنکھا جھل دیا تو اس میں کونسی حیرانی والی بات ہے۔

مسلمانوں کے اس خلیفہ نے جب داعیئ اجل کو لبیک کہا تو ان کے گھر سے جو اثاثہ نکلا وہ صرف اکیس دینار تھا جس میں سے پانچ دینار کفن اور دو دینار قبر کی زمین کے لئے خرچ کر دیئے گئے اور باقی ترکہ جو ان کے پسماندگان میں تقسیم کیا گیا تو ہر ایک کے حصہ میں صرف دو دینار آئے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -