خرگوش اور کچھوا 

خرگوش اور کچھوا 

  

ڈوڈو نے نتھو سے کہا کہ بھائی مجھے اچھی سی کہانی سناؤ۔اچھا دوست سنانا ہوں، نتھو نے کہا۔

کہانی کا عنوان”خرگوش اور کچھوا“ ہے۔ ڈوڈو جھٹ پٹ بولا ”نا بھئی نا ایسی کہانی ہم نہیں سنتے، یہ تو پرانے وقتوں کی کہانی ہے……!!“

لڑکپن سے آج تک ایسی کہانیاں سن کر کان پک چکے ہیں۔

میں تم کو منفرد کہانی سناتا ہوں، نتھو نے ڈوڈو کو تھپکی دیتے ہوئے کہا۔

 ایک دفعہ کا تذکرہ ہے (ویسے تو تذکرہ پر زور کرنا پڑتا ہے) دریا کے کنارے چند خرگوش موجود تھے جو اچھل کود میں مستغرق تھے۔ اسی اثناء  میں انہوں نے قرب کچھوا پایا۔ جہاں کانٹا وہاں پھول (ڈوڈو نے کھانستے ہوئے کہا) …… پھر گھسیٹ لیا کچھوا کو ……!! بات تو وہی گدھے والی ہے مارا مار پھرنا پھر وہی درخت کے نیچے مرنا۔ 

(نتھو غصہ سے ذرا کہانی سنو تو تہی)

الفاظ کے سروں پر اڑتے نہیں معنی

الفاظ کے سینے میں اتر کر دیکھیں 

اچھا بابا چلو کہانی سناؤ…… پھر کیا ہوا 

(ڈوڈو نے نرمی سے کہا)

خرگوشوں نے کچھوا گھیر لیا…… پھر اسے طرح طرح کے فقرے چست کرنے لگے۔

کچھوا کافی دیر تک کھڑا کڑوے کسیلے فقرے سنتا رہا…… پھر خرگوش کو مخاطب کر کے بولا بھائی شاید تم بھول گئے ہو کس طرح ہمارے آباء نے تمہارے دانت کھٹے کئے!!

جو کرتے ہیں گھمنڈ زیادہ

وہی ہوتے ہیں ناکام زیادہ

(خرگوش قہقہے لگاتے ہوئے، کچھوا کو مقابلہ کا چیلنج کرتے ہیں) 

کھچوا میں جانتا ہوں کہ تم حسد کی وجہ سے دوڑ کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو۔

خرگوش اب ہم نئی تاریخ رقم کرنے والے ہیں …… تم بزدلوں کو اب شکست سے دو چار کریں گے…………

کچھوا یہ سن کر آپے سے  باہر ہو گیا اور اس نے خرگوش کو مخاطب کر کے کہا:ہمارے آباء نے یہ نہیں سکھایا کہ ہم پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں …… ہم کوئی بزدل قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے!!

یہ سن کر ایک سیانا خرگوش چلایا تم بزدل ہی ہو وہ تمہارے آباء ہی مردِ میدان تھے۔

بقولِ شاعر

تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو

ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

سیانا خرگوش تھیلے سے دو کتابیں نکال کر کچھوے کو دیتا ہے جن کا عنوان (Robbit run, Robbit rest) ہے۔

کچھوا کتابوں کو پکڑ کر سونگھتا ہے پھر کہتا ہے میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ کتابیں نوبل انعام یافتہ ادیب جان اپڈائیک کی ہیں۔

کچھوا کتابوں کو واپس کرتے ہوئے کہتا ہے: ہمیں نہیں چاہئے ایسی غمنام کتابیں اونچی دکان پھیکا پکوان!! کچھوا یہ کہہ کر دریا میں چھلا نگ لگاتا ہے تاکہ اپنی قوم کو معرکوں کا درس دیا جائے…………!!

خرگوش کچھوا کو دریا میں چھلانگ لگاتا دیکھ کر چلاتے ہیں بھئی خودکشی کرنے کی کیا بات تھی؟ (ڈوڈو کافی دیر کہانی سن کر اٹھ کر نتھو کو جھنجوڑتا ہے)

جھنجوڑتے ہوئے کہتا ہے ہم نہیں سنتے ایسی بکواس کہانی……!!

مزید :

ایڈیشن 1 -