سفید دُم 

سفید دُم 

  

ایک بوڑھی عورت کسی گاؤں میں رہتی تھی۔ اس کا ایک فارم تھا جس میں بہت سی بھیڑیں، بکریاں، گائیں، مرغیاں اور بطخیں پل رہی تھیں۔ بوڑھی عورت پر جب بڑھاپا زیادہ طاری ہوا تو اس نے اپنے فارم کی دیکھ بھال کے لئے کسی ملازم کو رکھنے کا فیصلہ کیا۔وہ ایک ملازم کی تلاش میں گھر سے روانہ ہوئی۔ راستہ میں اسے ایک ریچھ ملا۔ اس نے پوچھا۔  بوڑھیا کہاں کا ارادہ ہے؟ بوڑھی عورت نے جواب دیا:میں اپنے فارم کی دیکھ بھال کے لئے کسی ملازم کی تلاش میں جا رہی ہوں۔ ریچھ بولا تمہیں کہیں جانے کی کیا ضرورت ہے، یہ کام تو میں بہت اچھی طرح سے انجام دے سکتا ہوں۔ بوڑھیا بولی: کیا تم میری بھیڑ، بکریوں کو بلا سکتے ہو؟ بوڑھی عورت کا سوال سن کر ریچھ نے کہا بہت اچھے طریقے سے میں انہیں بلا سکتا ہوں،تم ذرا میری آواز تو سن کر دیکھو۔یہ کہہ کر اس نے اپنی بلند آواز اور بھدی آواز میں پکارنا شروع کر دیا۔ آؤف، آؤف، آؤف، بوڑھیا نے منہ بنا کر کہا:یہ تمہاری آواز تو اونچی اور بھدی ہے جسے سن کر میری بھیڑ بکریاں ڈر جائیں گی ا ور نہیں آئیں گی۔ یہ کہہ کر بوڑھیا آگے کی طرف چل دی۔ ابھی وہ تھوڑی ہی دور گئی تھی کہ اسے ایک بھیڑیا ملا۔اس نے بوڑھی عورت سے کہا:اے بوڑھیا کدھر کی تیاری ہے؟ بوڑھیا  بولی مجھے اپنے فارم کی دیکھ بھال کے لئے کسی ملازم کی تلاش ہے، یہ سن کر بھیڑیا بولا:یہ کام تو مجھ سے بہتر بھلا کون کر سکے گا۔ بوڑھیا یہ سن کر بولی کیا تمہیں معلوم ہے جانوروں کو کیسے پکارتے ہیں؟ بھیڑیئے نے کہا ہاں، ہاں مجھے اچھی طرح معلوم ہے، تم ذرا میری آواز تو سنو! یہ کہہ کر اس نے اپنی اونچی کرخت اور تیز آواز  منہ سے نکالی آف، آف، آف۔

بوڑھیا نے بھیڑیئے کی آواز سن کر کہا: تمہاری آواز تو نہایت کرخت اور تیز ہے۔ آواز سن کر تو میرے جانور خوف کے مارے کبھی نہیں آئیں گے اس  لئے تمہیں ملازم نہیں رکھ سکتی۔ یہ کہا اور وہ وہاں سے آگے کی طرف چل دی۔ چلتے چلتے اس کی ملاقات ایک لومڑ سے ہوئی۔اس نے بھی پوچھا:بوڑھیا صبح ہی صبح کہاں جا رہی ہو؟ بوڑھی عورت نے کہا:مجھے اپنے فارم کے لئے ملازم کی تلاش ہے۔ لومڑ یہ سن کر فوراً بولا یہ بھی کوئی بڑی بات ہے میں بہت آسانی سے کام کر سکتا ہوں، میں  تو خود ایسے ہی کسی کام کی تلاش میں ہوں۔ بوڑھیا بولی: کیا تم میرے جانوروں کو واپس بلا سکتے ہو؟ ہاں میری آواز بہت اچھی ہے جسے سن کر جانور ضرور واپس آ جائیں گے لومڑ نے کہا۔پھر اس نے منہ کھول کر کہا ٹمٹا، ٹمٹا، ٹمٹا، بوڑھیا نے یہ سن کر اس کی آواز کی تعریف کی اور کہا نرم اور سریلی آواز سن کر یقیناً میرے جانور گھر واپس آ جایا کریں گے۔پھر اس نے لومڑ کو اپنے فارم کے لئے ملازم رکھ لیا۔

لومڑ صبح ہی جانوروں کو چراگاہ میں لے جاتا اور شام کو واپس  لے آتا۔ کئی روز تک یہ سلسلہ یونہی جاری رہا۔کئی روز کے بعد اس نے دیکھا کہ اس کی مرغیاں اور بطخیں بہت دبلی ہو رہی ہیں اور ایک دن تو اس کی چھوٹی کالی بھیڑ بھی غائب ہے۔ اس نے لومڑ سے بھیڑ کے متعلق پوچھا تو وہ بولا وہ ابھی چراگاہ میں چر رہی ہے، تھوڑی ہی دیر میں واپس آ جائے گی۔

دوسرے دن بوڑھیا کے مرغی اور دو جوزے غائب تھے۔ اس نے لومڑ سے پوچھا تو بولا وہ باہر ندی کنارے پر ہیں جلد آ جائیں گے۔بوڑھیا مطمئن ہو گئی۔

ایک دن بوڑھیا کو کیک تیار کرنے کے لئے تازہ انڈے درکار تھے۔ وہ کیک کے لئے تازہ انڈے لینے گئی تو اس  نے ڈربہ سے مرغیوں کے چلانے کی ا ٓوازیں سنیں۔ مرغ اپنے پر پھڑپھڑا رہے تھے اور آوازیں بھی نکال رہے تھے کو، کو، کو کک،، ککو ککو اور مرغیاں بھی پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگ رہی تھیں۔ پھر اس نے لومڑ کو مرغیوں کے ڈربہ سے باہر آتے ہوئے دیکھا جس نے اپنے منہ میں ایک چوزا دبا رکھا تھا۔یہ دیکھ کر وہ جانوروں کے غائب ہونے کی اصل حقیقت جان گئی۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا جھاڑو زور سے لومڑ کو دے مارا اور بولی تم نے میری بھیڑ اور چوزے کھائے ہیں۔یہ کہہ کر اس نے ایک ڈنڈا بھی اس کی طرف پھینکا۔ لومڑ اس کے واروں سے بچنے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔ وہ ایک ڈرم سے ٹکرایا تو اس میں موجود سفید رنگ فرش پر گر پڑا جس سے لومڑ کی دم سفید رنگ سے تر ہو گئی۔ بوڑھیا جو لومڑ کے پیچھے بھاگ رہی تھی سفید رنگ پر سے پھسل کر گر پڑی۔ لومڑ نے یہ دیکھا تو تیزی کے ساتھ بھاگتا ہوا دروازے کی سمت بھاگ کھڑا ہوا۔چوزہ ابھی تک اس کے منہ میں ہی دبا ہوا تھا۔ راستہ میں اس نے اپنی سفید دم کی طرف دیکھا تو بولا واہ میری دم پر تو کریم لگی ہوئی ہے۔ میں اس کو چوزے پر لگا کر مزے سے کھاؤں گا۔ایک جگہ پر جا کر لومڑ رک گیا۔ اس نے پیچھے کی طرف گردن گھما کر دم پر لگی سفیدی کو چاٹنا شروع کر دیا لیکن اس وقت تک رنگ خشک ہو کر جم چکا تھا۔کہتے ہیں اس وقت سے آج تک لومڑ کی دُم سفید ہی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -