عقلمند باپ 

عقلمند باپ 

  

ایک تھا سوداگر وہ ملک اور غیر ممالک میں تجارت کیا کرتا تھا۔ اس کے چار بیٹے  تھے۔اور اس کی بیوی چند روز پہلے طویل عرصہ تک بیمار رہنے کے بعد انتقال کر گئی تھی۔ اس نے دوسری شادی نہیں کی کیونکہ اس کو خدشہ تھا کہ کہیں سوتیلی ماں اس کے بچوں سے سوتیلا پن نہ برتنا شروع کر دے۔ اس نے اپنے بیٹوں کے لئے گھر میں ایک ادھیڑ عمر آیا رکھ لی تھی تاکہ ان کی پرورش اور دیکھ بھال میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ وہ ملک میں رہتا تو زیادہ سے زیادہ وقت ان کی خود نگہبانی کرتا۔

ایک روز رات کے وقت سوداگر نے اپنے چاروں بیٹوں کو اپنے قریب بلایا اور ان سے کہنے لگا کہ میرے پلنگ کے نیچے سرہانے کے دائیں جانب جو دیگ دفن ہے وہ بڑے بیٹے سلیم کی ملکیت ہے جو سرہانے کے بائیں جانب دیگ ہے وہ اس سے بڑے بیٹے نعیم کی ہے اور میری پائنتی کے دائیں جانب جو دیگ دفن ہے اس کا مالک نعیم سے چھوٹا نسیم کے حصہ کی ہے اور میری پائنتی کے بائیں طرف جو دیگ دفن ہے وہ سب سے چھوٹے بیٹے شمیم کی وارث ہو گی۔ رات کافی بیت چکی تھی لہٰذا ان کے والد نے اپنے بیٹوں کو سونے کا کہا اور خود بھی سو گیا۔ اتفاق سے رات کو اس کا انتقال ہو گیا۔ صبح جب اس کے چاروں بیٹوں نے اسے مردہ پایا تو انہیں بے حد افسوس ہوا اس کی تدفین کی۔

ایک روز چاروں بیٹوں کو دیگوں کا خیال آیا تو انہوں نے پلنگ کو ایک جانب کیا اور پہلے سرہانے کی دائیں جانب کھدائی کی اور دیکھا کہ واقعی وہاں دیگ موجود ہے ڈھکن اٹھایا تو دیکھا کہ وہ دیگ ہیروں سے بھری ہوئی ہے۔ سرہانے کے بائیں جانب کی جب انہوں نے کھدائی کی تو وہاں سے بھی ایک دیگ برآمد ہوئی جو سونے کی اشرفیوں سے بھری ہوئی تھی۔ پائنتی کی دائیں جب انہوں نے کھدائی کی تو اس میں سے بھی دیگ نکلی مگر جب ڈھکن ہٹایا تو اس دیگ میں سے ہڈیاں برآمد ہوئیں اور جب پائنتی کے بائیں جانب کی دیگ کو زمین سے باہر نکال گیا تو اس میں مٹی بھری ہوئی تھی۔دونوں بھائی بہت رنجیدہ ہوئے جبکہ دونوں بھائی بڑے ہیرے اور سونا پا کر نہال تھے۔ہڈیوں اور مٹی کے وارث دونوں بھائیوں نے سوچا کہ ان کے والد نے دونوں بڑے بھائیوں کے مقابلہ میں ان سے امتیازی سلوک کیا ہے اور نا انصافی کا رویہ روا رکھا ہے۔ ان دونوں نے شہر کے قاضی کی عدالت میں استقرارِ حق کا دعویٰ دائر کر دیا۔ چاروں بھائیوں کو نوٹس جاری ہو گئے۔پیشی کے دن چاروں حاضر ہوئے۔ قاضی نے بڑی سوچ و بچار کے بعد دونوں بڑے بھائیوں کو مشورہ دیا کہ اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کو اپنے حصے میں سے آدھا آدھا حصہ دے دیں مگر وہ دونوں انکاری تھے اور انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے خود ہی اپنی زندگی میں اپنا ترکہ تقسیم کیا ہے۔ قاضی نے عدالت دو روز تک ملتوی کر دی دو روز بعد چاروں بھائی پھر عدالت میں طلب کر لئے گئے مگر کیونکہ قاضی کو اس پیچیدہ مقدمہ کا کوئی حل سوجھائی نہ دیا تھا اور چاروں بھائی اپنے اپنے موقف پر قائم تھے اس لئے قاضی نے ان بھائیوں سے کہا کہ کیا تمہارے والد کی کوئی اور جائیداد باقی ہے؟ تو دو بیٹوں نے کہا ہاں اس کی زمین اور جانور ابھی تقسیم ہونا باقی ہیں ان کے متعلق ان کے والد نے مرنے سے پہلے تک کوئی حکم نہیں کیا تھا۔

دونوں بڑے بیٹوں کا جواب سن کر قاضی کی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر مسکراہٹ آ گئی جس سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اب اس مقدمہ کے حل تک پہنچ گیا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ آج کھانے کے وقفہ کے بعد اس مقدمہ کا فیصلہ سنائے گا۔ کھانے کا وقفہ کر دیا گیا اور قاضی اٹھ کر عدالت سے چلا گیا۔کھانے کے وقفہ کے بعد عدالت شروع ہوئی تو قاضی نے ایک نظر چاروں بھائیوں پر ڈالی ا ور کہا جس بیٹے کی دیگ میں سے مٹی برآمد ہوئی ہے وہ سوداگر کی زمین کا مالک ہوگا۔ یہ سن کر درمیانہ بیٹا بہت خوش ہوا اور قاضی نے مزید فیصلہ کرتے ہوئے کہا اور سب سے چھوٹا بیٹا جس کی دیگ میں سے ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں وہ سوداگر کے جانوروں کا مالک ہوگا۔ قاضی کا یہ منصفانہ فیصلہ سن کر چاروں بھائی عش عش کر اٹھے۔ وہ اپنے مرحوم والد کی دانائی کے بھی قدر دان تھے۔یوں یہ پیچیدہ فیصلہ قاضی کی عقلمندی سے حل ہو گیا جسے چاروں بھائیوں نے منظور کر لیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -