ملازمہ پر چوری کا الزام‘ گھر پر دھاوا‘ اہل خانہ پر شدید تشدد  

ملازمہ پر چوری کا الزام‘ گھر پر دھاوا‘ اہل خانہ پر شدید تشدد  

  

  ملتان (خصوصی رپورٹر)با اثر شوروم مالکان نے پولیس کو ساتھ ملاکر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی‘ گھریلو ملازمہ کمسن بچی پر چوری کا الزام لگا کر اس کے گھر دھاوا بول دیا‘ 3کمسن بہنوں اور ان کے ماں باپ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا‘کینٹ پولیس مظلوموں کی دادرسی کرنے کی بجائے الٹا مظلوم بچیوں کے غریب باپ کو اٹھا کر لے گئی‘ الطاف ٹاؤن کی رہائشی 10سالہ (بقیہ نمبر4صفحہ6پر)

بچی طاہرہ بی بی نے اپنی ماں اور2بہنوں کے ہمراہ روزنامہ پاکستان کے دفتر آکر بتایا کہ وہ ”پتا جی“ موٹرزطارق روڈ کے مالک کے گھرصفائی کا کام کرتی ہوں‘ گھر میں برتن اور کپڑے دھونے کیلئے 2اور عورتیں بھی کام کرتی ہیں‘ گزشتہ روز کام کرنے کے بعد وہ واپس اپنے گھر گئی تو شام کو 7نامعلوم افراد نے گھر پر دھاوا بول دیا اور اسے2بہنوں اور ماں باپ سمیت شدید تشدد کا نشانہ بنایا‘ پھر پولیس بلالی‘ پولیس اہلکار وں نے بھی اسے بہنوں اور والدین سمیت تشدد کا نشانہ بنایا‘ گالیاں دیں اور پھر اس کے والد اقبال رکشہ ڈرائیور کو پکڑ کر تھانے لے گئے‘ اس موقع پر طاہرہ بی بی کی والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ مالکان نے چوری کا الزام عائد کرکے بربریت کی انتہا کر دی ہے‘یہاں غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے‘ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ ہم غریب ہیں اور مالکان امیر ہیں‘ تشدد اور بے عزتی سے کمسن وغریب بچیوں کی آنکھوں میں آنسو تھمنے میں نہیں آرہے ہیں‘انہوں نے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب‘ آرپی او و سی پی او ملتان سے اپیل کی ہے کہ ظلم کا نوٹس لیاجائے۔دوسری جانب روزنامہ پاکستان کے رابطہ کرنے پر پولیس تھانہ کینٹ نے موقف میں بتایا کہ چوری کی درخواست پر فریقین کو طلب کیا گیا‘کسی کو گرفتار نہیں کیا‘فریقین کو انکوائری کے لئے دوبارہ محرم الحرام کے بعد تفتیش کے لئے طلب کرلیا گیا ہے۔

ملازمہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -