صوبہ بھر میں پناہ گاہیں پھرسے بحال: سینکڑوں لوگوں کو چھت اور اچھا کھانا فراہم کیا جارہا ہے: ڈاکٹر کاظم نیاز 

  صوبہ بھر میں پناہ گاہیں پھرسے بحال: سینکڑوں لوگوں کو چھت اور اچھا کھانا ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر صوبائی حکومت خیبرپختونخوا نے تمام ڈویژنل اور اضلاع کی سطح پر غرباء، مسافروں اور بے گھر افراد کیلئے پناہ گاہوں کا انتظام کیا۔ جس کا مقصد غرباء، مسافر اور بے گھر افراد کو چھت اور دو وقت کا کھانا فراہم کرنا ہے۔ کورونا وباء کی وجہ سے پناہ گاہوں میں قیام پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم کورونا کیسز میں کمی کے بعد ایس او پیز کے تحت پناہ گاہوں کو پھر سے عوام کیلئے کھول دیا گیا۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے اس موقع پر تمام ڈویژنل کمشنرز اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کی کہ پناہ گاہوں میں آنے والے لوگوں کا خاص خیال رکھا جائے اور ان کو بہترین کھانے پیش کئے جائیں۔ انہوں نے تمام اعلی افسران کو بتایا کہ پناہ گاہوں کا وقتا فوقتا دورہ کرکے ان کو آگاہ کریں۔ تمام اضلاع سے موصول شدہ رپورٹ کے مطابق 8 دنوں میں صوبہ بھر میں قائم مختلف پناہ گاہوں میں 2470 افراد کی مہمانوازی کی گئی۔ اسی طرح ان پناہ گاہوں میں 1834 مرد اور 3 خواتین نے قیام کیا۔ 583 افراد کو مختلف ایام میں ناشتہ فراہم کیا گیا اسی طرح 614 افراد کو دوپہر کا کھانا جبکہ 1273 افراد کو رات کا کھانا فراہم کیا گیا۔اسی طرح کل 2470 افراد پناہ گاہوں سے مستفید ہوئیں۔ تمام اضلاع سے موصول شدہ رپورٹس کے مطابق 20 اگست کو 54 پناگاہوں سے 520 افراد مستفید ہوئے، 21 اگست کو 52 پناہ گاہوں میں 289 افراد کی مہمان نوازی کی گئی۔ 22 اگست کو 49 پناہ گاہوں میں 273، 23 اگست کو 53 پناہ گاہوں میں 264، 24 اگست کو 50 پناہ گاہوں میں 155، 25 اگست کو 56 پناہ گاہوں میں 304، 26اگست کو 60 پناہ گاہوں میں 321 جبکہ 27 اگست کو 58 پناہ گاہوں میں 272 افراد کی مہمان نوازی کی گئی۔ پناہ گاہوں کے قیام کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ ضرورت مند افراد پناہ گاہوں میں قیام کے ساتھ ساتھ دو وقت کا کھانا بھی بالکل مفت کھاسکتے ہیں 

پشاور(سٹاف رپورٹر)صوبہ بھر میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر گزشتہ روز 11ہزار 145 افراد کے خلاف کاروائیاں کی گئیں۔احکامات نہ ماننے پر 2ہزار 285 افراد کو وارننگز جاری کی گئیں جبکہ 403 کاروباروں /یونٹس پر بھاری جرمانے عائد گئے۔ اسی طرح قانون کی خلاف ورزی پر66 یونٹس/کاروبار سیل کردیئے گئے۔حکومتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر متعلقہ کاروباروں پر 6 لاکھ 30 ہزار 700 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔اسی طرح 3 جون سے 27 اگست تک صوبہ بھر میں کاروائیوں کی تعداد 12 لاکھ 32 ہزار 29 تک بڑھ گئی ہے۔ 2لاکھ 87ہزار 396 یونٹس/کاروباروں کو وارننگز جاری کی گئیں ہیں اور 1لاکھ 59ہزار 529 یونٹس/کاروباروں پر 5کروڑ 81 لاکھ 23ہزار 180 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی پر 17ہزار 198 یونٹس/کاروبار سیل کردیئے گئے ہی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -