چترال کی پسماندگی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، شوکت علی یوسفزئی 

  چترال کی پسماندگی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، شوکت علی یوسفزئی 

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر محنت و ثقافت شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ چترال کی پسماندگی دور کرنے کے لیے وزیراعلی محمود خان نے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے منظور کر لیے ہیں جن پر جلد کام شروع کر دیا جائے گا  ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر چترال کے دفتر میں صوبائی محکموں کے ضلعی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات تاج محمد خان ترند،معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی،معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ، ایم پی اے میاں شرافت اور دیگر افسران موجود تھے۔ اس موقع پر مختلف محکموں کے سربراہان نے صوبائی وزراء کو چترال میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بریفنگ دی۔شوکت علی یوسفزئی نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ چترال میں سیاحت کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا بھی یہی ویژن ہے کہ   صوبے میں سیاحت پروموٹ ہو۔  صوبائی وزیر نے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت نہ برتی جائیں انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں  میں ترقیاتی کاموں کی کوالٹی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔شوکت یوسفزئی نے سرکاری محکموں پر زور دیا کہ وہ اپنی پرفارمنس میں مزید بہتری لائیں تاکہ عوام زیادہ سے زیادہ سہولیات سے کم مدت میں مستفید ہوسکیں انہوں نے کہا کہ چترال کی اپنی اہمیت ہے یہاں پر دنیا کا واحد فری اسٹائل پولو کھیلا جاتا ہے جبکہ دنیا کا واحد اور منفرد کیلاش کلچر بھی چترال میں ہے  انہوں نے کہا کہ چترال کا انفراسٹرکچر بہتر کرکے یہاں کی سیاحت اور ثقافت دونوں کو اجاگر کیا جائے گا جس سے لوگوں کے معاشی مسائل میں کمی آئے گی۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کوئلے کے کان کے مزدوروں کو حقوق دینے کے لئے وزیر اعلی محمود خان خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں اور بہت جلد اس حوالے سے قانون سازی بھی ہو جائے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ کیلاش کلچر کو دنیا بھر میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔ اور بہت جلد یورپ اور یو اے ای سمیت مختلف ممالک میں کیلاش طائفے بھیجے جائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -