معرکہء کربلا میں خواتین کاکردار

معرکہء کربلا میں خواتین کاکردار

  

تحریک عاشورہ دو مرحلوں میں پر مشتمل ہے پہلا مرحلہ خونِ شہادت اور انقلاب کاتھا دوسرا پیغامِ رسانی ، امتِ مسلمہ کی بیداری اور اس واقعہ کی یاد کو زندہ رکھنے کا مرحلہ تھا اس تحریک کے پہلے مرحلہ کی زمہ داری جنابِ امام عالی مقام سیدنا حسین ابنِ علی ابنِ ابیطالب علیہ السلام اور انکے جان نثار اصحاب کی تھی اور وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ ظلم و ستم اور انحراف کے سامنے ثابت قدم رہے اور اس راہ میں جام شہادت نوش کیا واقعہ کربلا کو بے نظیر و لاثانی بنانے میں خواتینِ کربلا کے بے مثل ایثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

تاریخی روایات کے مطابق یوم عاشور میں امام حسین علیہ السلام کےقافلے سے اکیس عورتیں اسیر ہوگیئں جن میں سے چھ غیر ہاشمی اور باقی سب بنی ہاشم کی خواتین تھیں اگرچہ انکی اسارت مجبوری تھی مگر اسیرات کی وجہ سے وہ اپنے پیغام دوسروں تک پہنچانے میں کامیاب ہوگیئں اسکے علاوہ ان خطبات اور تقریروں کے اور اہم نتیجے تھے ان خطبات کی وجہ سے حکومت بدنام ہوگئی اور لوگوں میں مضبوط ہونے کا احساس بیدار ہوگیا جدوجہد کےلیے لوگوں کے بیچ میں اکائی اور اتحاد پیدا ہوگیا حکومت کے زوال کےلیے حالات مساعد ہوگیئں نئی اخلاقی اقدار وجود میں آئیں ان خواتین کی شخصیت کے بارے میں سوچنا انکےکاموں کی بڑائی اور اچھائی کو اچھی طرح دکھاتی ہے اور مختلف عہدوں میں باقی عورتوں کےلیے اچھے نمونے بن گئے ہیں ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ معرکہ حق و باطل میں اگر خواتین نہ ہوتیں تو مقصد قربانی سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام ادھورا رہ جاتا یہی سبب ہے کہ نواسہ رسول ﷺ حسین مظلوم اپنے ہمراہ اسلامی معاشرے کی آئیڈیل خواتیں کو میدان کربلا میں لائے تھے فاتح کوفہ و شام کربلا جناب زینب سلام اللہ علیہاء کے بے مثل کردار و قربانیوں سے تاریخ کربلا کا ہر ورق منور نظرآتا ہے آپ نے اپنے جگر پاروں عون و محمد کو ناناؐ کے دین پر قربان کردیا اسطرح امام حسین علیہ السلام کی شریک حیات جناب ام رباب اور ام لیلٙی کے بے مثل کردار آزادی ضمیر کے متوالوں کو آج بھی متاثر کیے رہتے ہیں زوجہ جناب حضرت عباس علیہ السلام جنہوں نے اپنے بچوں اور سہاگ کو راہ خدا میں قربان کردیا نا فراموش کرنے کے قابل ہے ؟ زوجہ حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام کا کردار بھولنے کے قابل ہے جنہوں نے حالات کی ستم ظریفی نے ایک ہی شب میں بیوگی کی چادر اوڑھنے پر مجبورکردیا کربلا کی خواتین کے بےمثل کرداروں کے درمیان کم سن بچی جناب سکینہ بنت الحسین ،ع، کا کردار بھی اہل دل کی آنکھیں اشکبار کیئے بغیر نہیں رہتا آپ جو امام حسین علیہ السلام کی سب سے کم سن بچی تھیں واقعہ کربلا سے لیکر اسیرزندگان شام تک مصائب کے پہاڑ برداشت کرتی رہیں لیکن کوئی تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ اس کمسن بچی نے مصائب اور پیاس کی شدت سے تنگ آکر یہ سوال کیا ہو کہ بابا جان آپ یزید کی بیعت کیوں نہیں کرلیتے ۔دنیا کی کوئی تاریخ یہ بھی نہیں بتاتی کہ کسی ماں نے اپنے شیرخوار بچے کو میدانِ جنگ کےلیے رخصت کیا ہو ۔کربلا کی جنگ میں ایسا بھی ہوا کہ ام رباب نے اپنے چھ مہینے کے معصوم جناب شہزادہ علی اصغر بن حسین ،ع، کا نذرانہ بھی پیش کیا ۔جب سلطان کربلا خود رخصت آخر کےلیے خیمہ اہل حرم تشریف لائے  اور اپنی شہادت کےبعد پیش آنے والے حالات و مصائب کا بتایا تھا لیکن کربلا کی باعزم خواتین نے واقعہ کربلا کے بعد آنے والے روح فرسا مصائب کو برداشت کرنا گوارا کیا انہوں نے اسیری زنداں شام اور کوفے کے بازاروں میں تشہیر ہونا تو گوارا کیا لیکن انہیں یہ منظور نہ تھا کہ محمد خاتم النبینؐ کے دین کے اصولوں کا سودا کسی ظالم و فاسق کے ہاتھوں ہوجائے ۔ زوجہ حبیب ابنِ مظاہر کا کردار بھی حق کے مثاشیوں کےلیے لائقِ تقلید ہے جنہوں نے اپنے شوہر جناب حبیب ابن مظاہر کو نصرت حسین مظلوم پر قربان کردیا اسطرح وہبِ کلبی کی والدہ گرامی کاکردار کتنا متاثر کن ہے جنہوں نے اپنے بیٹے وہب جنکی شادی کو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا روز عاشورہ نصرت امام حسین ،ع، پر قربان کردیا خاتون کربلا جناب زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کے بھرے دربار میں ظالم کے روبرو ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر دنیا کے مظلوموں کو بتایا کہ زمانے کے یزیدنما دہشت گردوں کے چہروں سے ظلم کی نقاب کسطرح اٹھائی جاتی ہے دنیا کی ستم زدہ مظلوم خواتین کےلیے کربلا کی کردارساز اور مثالی خواتین آج بھی اور رہتی دنیا تک کےلیے مشعل راہ ہیں واقعہ کربلا کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہاء کا بہت اہم کردار ہے شام و کوفہ کے بازاروں میں آپ کے خطبوں نے لوگوں کے زہنوں میں آپکے والدِگرامی امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے خطبوں کی یادتازہ جردی یہ خطبے اور تقریریں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ تمام مصائب و آلام جنابِ زینب کے پائے ثبات کو متزلزل کرنے میں ناتواں تھے ایسے سخت حالات میں ایک دلشکستہ و غمگین خاتون کے زریعے دیئے گئے عظیم خطبے اور تقریریں مخصوص الہی امداد کے بغیر ممکن نہیں جنگ ختم ہونے کے بعد شہدا کے پاک جسم کربلا کی زمین پر تھے اور کسی کو اجازت نہ تھی کہ انکے جسموں کو دفن کرے اور عمرسعد کے دستور کے مطابق ایک مامور ادھر رکھا گیاتھا اسی حالت میں بنی اسد قبیلے کی عورتیں جو کربلا کے قریب نخلستان میں رہتی تھیں بیلچہ اور دیگر سامان بچوں کے ہمراہ میدان جنگ میں آئیں بچوں کے ہمراہ جسامِ اطہر کو ریت اور مٹی سے ڈھانپا واقعہ کربلا کے بعد کافلہ اسیران شام خواتینِ اہلِ بیت واپس مدینہ کی خواتین کے ہمراہ پیغمبرِاسلام محمد ﷺ کی قبر اطہر پر گیئں اور تمام خانوادے کا پرسہ دیا اور وہاں سوگواری جی مجلالس قائم کیں ۔ کربلا کے تمام شہدا ، غازیوں اور خواتین کو ہمارا سلام ۔۔۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -