مستقبل میں انسان اپنے دماغ سے کمپیوٹر کنٹرول کر سکیں گے، سب سے حیران کن ایجاد سامنے آگئی

مستقبل میں انسان اپنے دماغ سے کمپیوٹر کنٹرول کر سکیں گے، سب سے حیران کن ایجاد ...
مستقبل میں انسان اپنے دماغ سے کمپیوٹر کنٹرول کر سکیں گے، سب سے حیران کن ایجاد سامنے آگئی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) خلائی تحقیقاتی کمپنی سپیس ایکس کے مالک ایلن مسک نے بالآخر اپنی وہ ایجاد متعارف کروا دی جس کا پوری دنیا کو انتظار تھا اور جو دنیا کے مستقبل کو یکسر بدل کر رکھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ایجاد ’برین چِپ‘ (Brain Chip)ہے جسے نیورا لنک (Neuralink)کا نام دیا گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق گزشتہ روز ایلن مسک سٹیج پر آئے اور اپنی اس برین چپ کا عملی مظاہرہ دنیا کو دکھا کر حیران کر دیا۔ انہوں نے یہ چپ ایک سو¿ر کے دماغ میں نصب کر رکھی تھی۔ یہ سو¿ر اپنے پنجرے میں ادھر ادھر سونگھتا پھر رہا تھا اور اس کے دماغ کے سگنلز اس چِپ کے ذریعے ہال میں لگی کمپیوٹر سکرین پر چل رہے تھے۔ 

 سو¿ر میں اس برین چِپ کے کامیاب عملی مظاہرے کے بعد ایلن مسک نے کہا کہ انہیں اب کچھ رضاکاروں کی ضرورت ہے تاکہ انسانوں پر بھی اس برین چِپ کے تجربات کیے جائیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ چِپ 4مربع ملی میٹر سائز کی ہے اور ایک انسان 4برین چِپس اپنے دماغ میں نصب کروا سکتا ہے۔ یہ چِپس اس انسان کے کان کے ساتھ بلیوٹوتھ ہیڈفون کی طرف لگے ایک آلے سے منسلک ہوں گے اور اسے سگنل دیں گے۔ وہاں سے یہ سگنلز کسی بھی کمپیوٹر کو منتقل کیے جا سکیں گے۔ جو شخص یہ چِپ اپنے دماغ میں انسٹال کروا لے گا وہ صرف اپنی سوچ کے ذریعے ہی کمپیوٹر آپریٹ کر سکے گا۔ اس کے لیے اسے ہاتھوں کو استعمال کرتے ہوئے ماﺅس اور کی بورڈ چلانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ وہ اس چِپ میں معلومات ڈاﺅن لوڈ کر سکے گا۔ وہ دنیا کی جو زبان بھی بولنا چاہے گا وہ زبان اس چِپ میں ڈاﺅن لوڈ کرکے بول سکے گا۔ حتیٰ کہ اس چِپ کے ذریعے ذہنی بیماریوں، صدمات اور ڈپریشن وغیرہ کا بھی علاج کیا جا سکے گا۔ غرض یہ چِپ کچھ ایسے فیچرز کی حامل ہے کہ دنیا یکسربدل کر رہ جائے گی۔ جب اس چِپ کا چلن عام ہو گیا تو ہماری زندگیوں میں ’زبان‘ کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہے گی اور لوگ کوئی بھی دوسری زبان بولنے والے شخص سے بات کر سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایلن مسک نے یہ منصوبہ 2016ءمیں شروع کیا تھا جو اب پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ ان کے اس منصوبے پر کڑی تنقید بھی کی گئی اور اسے متنازعہ قرار دیا گیا۔ اس برین چِپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ہیکرز اس چِپ کو ہیک کرکے لوگوں کے دماغوں میں محفوظ راز چوری کر سکتے ہیں۔ اس طرح اہم حکومتی اور فوجی راز چوری ہونے سے دنیا ایک تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -سائنس اور ٹیکنالوجی -