وہ وقت جب شیخ رشید نے خود کشی کا فیصلہ کیا، نئی کتاب میں تہلکہ خیز انکشاف

وہ وقت جب شیخ رشید نے خود کشی کا فیصلہ کیا، نئی کتاب میں تہلکہ خیز انکشاف
وہ وقت جب شیخ رشید نے خود کشی کا فیصلہ کیا، نئی کتاب میں تہلکہ خیز انکشاف

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر ریلوے اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے اپنے 50 سالہ سیاسی سفر پر ایک کتاب " لال حویلی سے اقوام متحدہ تک ۔ شیخ رشید کی سیاست کے پچاس برس" لکھی ہے جس میں انہوں نے کئی سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

شیخ رشید نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک بار بھائی کی مار کی وجہ سے خود کشی کرنے والے تھے لیکن پلان فیل ہوگیا اور انہیں ایک بار پھر مار پڑی، انہوں نے دوسرے بار پھندا لگا کر خود کشی کرنے کی کوشش کی تو چند سیکنڈ میں ہی تارے نظر آنے  لگے۔

شیخ رشید اپنی کتاب میں لکھتے ہیں " ایک بارچودہ اگست کو مری پہنچا تو بے پناہ رش کی وجہ سے رات کو واپسی پر دیر سے بس ملی، گھر رات دو بجے پہنچا تو سارا گھر منتظر تھا، بڑے بھائی نے مجھے تختی سے اتنا مارا کہ تختی ٹوٹ گئی، کوئی چھڑانے نہ آیا بلکہ والدہ ”مارمار ہور مار“کہتی رہیں، مجھے زندگی میں کبھی اتنی مار نہیں پڑی تھی، گھر میں کسی نے مجھے صفائی کا موقع نہ دیا، صبح اٹھا تو منہ سوجا ہوا تھا، رات کو فیصلہ کر لیا تھا کہ خودکشی کر لینی ہے، میں نے مرنے کے لیے نیلا تھوتھا دہی میں ملا کر کھانے کا فیصلہ کیا، دکاندار سے نیلا تھوتھا لینے گیا تو اسے شک پڑ گیا، اس نے وہاں سے گزرتے میرے بڑے بھائی سے پوچھ لیا، جب گھر والوں کو پتہ چلا تو اور مار پڑی۔دوسرے دن میں نے کمرے کو اندر سے کنڈی لگائی ، بستر کی چادر کو گلے میں ڈالا اور کرسی پر کھڑے ہو کر پنکھے کے کنڈے پر اپنے آپ کو باندھ دیا، چند سکینڈ ہی گزرے ہوں گے کہ آنکھوں میں تارے چمکنے لگے، میں نے خود ہی چلانا شروع کر دیا۔ گھروالوں نے دروازہ توڑ کر مجھے نیچے اتارا، تب تک والدہ بال نوچ نوچ کر برا حال کر چکی تھیں اور میں بھی اپنا شوق پورا کر چکا تھا۔اس وقت میں ساتویں یا آٹھویں کا طالب علم تھا، موت کتنی اذئیت ناک ہے، اس کا تجربہ میں کر چکا ہوں۔ اس کے بعد گھر والوں نے مجھے کچھ کہا اور نہ میں نے کبھی مرنے کا سوچا۔"

خیال رہے کہ شیخ رشید کی نئی کتاب " لال حویلی سے اقوام متحدہ تک" شائع ہوچکی ہے تاہم اس کی تقریب رونمائی یوم دفاع پاکستان (6 ستمبر) کو ہوگی۔

مزید :

قومی -