کھانے کی پیکنگ اور پرفیومز میں استعمال کیے جانے والے کیمیکلز کا نوعمروں کے لیے خطرناک نقصان سامنے آگیا

کھانے کی پیکنگ اور پرفیومز میں استعمال کیے جانے والے کیمیکلز کا نوعمروں کے ...
کھانے کی پیکنگ اور پرفیومز میں استعمال کیے جانے والے کیمیکلز کا نوعمروں کے لیے خطرناک نقصان سامنے آگیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کھانے کی اشیاءکی پیکنگ، پرفیومز اور کاسمیٹکس میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کے متعلق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں نوجوانوں کو انتہائی تشویشناک خبر سنا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ہارورڈ میڈکل سکول کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ یہ کیمیکلز بچوں اور کم عمر لوگوں میں ذہنی اختلاط اور انتشار کی بیماری اے ڈی ایچ ڈی (Attention deficit hyperactivity disorder)کا شکار کرتے ہیں۔ اس بیماری کے شکار لوگوں کے ذہن نارمل لیول سے کہیں زیادہ ہائپر ایکٹویٹی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کے روئیے نارمل لوگوں کی نسبت مختلف ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے کسی ایک کام پر توجہ مرکوز رکھا یا تادیر کسی ایک جگہ ٹک کر بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر جیسیکا شواف کا کہنا تھا کہ ”پلاسٹک میں فتھالیٹس نامی کیمیکلز پائے جاتے ہیں جو ان میں لچک، شفافیت اور پائیداری لاتے ہیں، مگر یہ کیمیکلز بچوں اور نوعمر لوگوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔یہ کیمیکلز ان لوگوں کے جسم میں جا کر مصنوعی ہارمونز کی طرح کا ردعمل دکھاتے ہیں اور نارمل ایکٹویٹی اور ایڈروجنز میں براہ راست مداخلت کرتے ہیں۔ یہ مردانہ ہارمونز، جن میں ٹیسٹاسٹرون بھی شامل ہے، لیول سے قطع نظر تمام مردوخواتین میں پائے جاتے ہیں اور ان کی عادات، روئیے اور افزائش نسل کی صلاحیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب ان ہارمونز میں مذکورہ کیمیکلز کی وجہ سے بگاڑ آتا ہے تو متاثرہ لڑکے لڑکیوں کے روئیے اور عادات یکسر تبدیل ہو جاتی ہیں اور ان کی افزائش نسل کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر انہیں ’اے ڈی ایچ ڈی‘ نامی بیماری لاحق ہوتی ہے جو ان کی زندگیوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ “

مزید :

ڈیلی بائیٹس -