پاکستان اور عالم اسلام کی موجودہ صورتحال 

پاکستان اور عالم اسلام کی موجودہ صورتحال 
پاکستان اور عالم اسلام کی موجودہ صورتحال 

  

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی 

چیئرمین پاکستان علماءکونسل 

 وطن عزیز پاکستان امت مسلمہ کی واحد ایٹمی قوت ہے۔ الحمدللہ پاکستان ایک مضبوط فوج اور قوم کا ملک ہے اور پاکستان کی ایٹمی قوت اور فوج پر پوری امت مسلمہ کو فخر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین سے کشمیر تک ہر مظلوم وقت اضطراب میں پاکستان کی طرف ضرور دیکھتا ہے اور الحمدللہ اہل پاکستان ہر مرحلہ پر جس قابل ہیں عالمی قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 5 اگست 2019 کو ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے عالمی دنیا ، اقوام متحدہ ، اسلامی تعاون تنظیم کی قراردادوں کے برخلاف ایسا فیصلہ کیا جس سے پوری دنیاحیرت میں رہ گئی اور پاکستان اور اہل کشمیر اضطراب میں ا? گئے ، توقع کی جا رہی تھی کہ ہندوستان کے اس قدم کے خلاف عالمی دنیا اور عالم اسلام مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی تائید میں کھڑا ہو جائے گا مگر بعض ممالک کے رویہ نے اہل کشمیر و پاکستان کو مایوس کیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس پر اگر نظر ڈالیں تو کچھ غلطیاں ہماری بھی ہیں اور کچھ حالات کی ستم ظریفی بھی ہے۔ 5 اگست کی بھارتی جارحیت کے بعد اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے مختلف مراحل پر پاکستان کے مو?قف کی تائید ہوتی رہی ہے اور جاری ہے خود راقم الحروف سے OIC کے سیکرٹری جنرل نے ملاقات کے دوران یہ بات واضح طور پر کہی کہ OIC کسی بھی صورت کشمیر کے مسئلہ پر اپنے موقف میں تبدیلی نہیں لائی ہے اور نہ ہی لائے گی اور یہی مو?قف مملکت سعودی عرب کا ہے کہ مملکت سعودی عرب نے کسی بھی مرحلہ پر کشمیر کے معاملہ پر ہندوستان کے مو?قف کی حمایت نہیں کی ہے ، لیکن بد قسمتی ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط بیانی کا ایسا سلسلہ چل نکلتا ہے کہ جس کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے اور اگر کوئی روک بھی لے تو وہ اتنا نقصان دے دیتا ہے کہ اصل بات اور حقیقت تک واپسی تک بہت ساری غلط فہمیاں پھیل چکی ہوتی ہیں۔ پاکستان کا ایک بڑا مطالبہ اسلامی تعاون تنظیم OIC کے وزرائ خارجہ کا کشمیر کی صورتحال پر اجلاس ہے جس کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کی وجہ سے نہیں بلایا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس میں اصل رکاوٹ کئی دوسرے ممالک ہیں اور یہ واضح کر دوں کہ اس اجلاس میں رکاوٹ سعودی عرب ہر گز نہیں ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ اور ہر مرحلہ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور اس کی بہت ساری مثالیں سب کو معلوم ہیں ، جن کا یہاں ذکر کرنا تکرار ہوگا۔ گذشتہ ایک سال کی صورتحال پر ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب کے حوالہ سے بعض ایسے کلمات کہے جو کسی بھی صورت مناسب نہیں تھےاور سفارتی اصولوں کے خلاف تھے ( اگر وہ ایک شکوہ بھی تھا جو ٹی وی پر نہیں مناسب وقت اور مناسب فورم پر ہوتا تو بہت بہتر ہوتا)۔

 شاہ محمود قریشی کے ان جملوں کے بعد سوشل میڈیا پر بیٹھے ماہرین سب و شتم نے ایسے ایسے فلسفے پیش کیے کہ الامان والحفیظ لیکنالحمدللہ وہ سب قوتیں جو اس صورتحال میں پاکستان اور عرب اسلامی دنیا کے تعلقات میں خرابی چاہتی ہیں ان کو اس وقت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید (جن کا دورہ سعودی عرب پہلے سے طے تھا )سعودی عرب پہنچے اور اس دورہ کے حوالہ سے سعودی عرب کی وزارت دفاع اور نائب وزیر دفاع امیر خالد بن سلمان (جو کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کے بیٹے ہیں اور ولی عہد امیر محمد بن سلمان کے بھائی ہیں ) کی طرف سے جاری کردہ سوشل میڈیا پیغام اور پریس ریلیز نے پاکستان سعودی عرب تعلقات کی وسعت اور مضبوطی کو اپنوںا ور بیگانوں سب کیلئے بیان اور ظاہر کر دیا۔ اور اگر یہاں میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی کا ذکر نہ کروں تو بخل ہو گا کہ جنہوں نے صورتحال کو سنبھالا اور صبح و شام ، دن رات محنت کر کے اس تاثر کو جو ایک محدود طبقہ کی طرف سے پھیلایا جا رہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب تعلقات میں کوئی دوری پیدا ہو گئی ہے کو دور کر دیااور اسی طرح کی محنت پاکستان کے ریاض میں سفارتخانہ نے بھی کی۔ راقم الحروف اس تاثر کو بھی عرب اسلامی دنیا کے ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے دور کرنا چاہتا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان (جو اپنی سوچ و فکر کی وجہ سے آج پورے عالم عرب اور عالم اسلام کے نوجوانوں کیلئے ایک ہیرو کی طرح ہیں اور ان کو صرف اس لیے ہدف بنایا جا رہا ہے کہ ان کا ویڑن 2030 مسلم امہ کو معاشی ، اقتصادی اور دفاعی طور پر اپنے قدموں پر کھڑا کر دے گا جو بہت ساری قوتوں کوقبول نہ ہے ) پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان سے ناراض ہیں اور پاکستان اور ترک ، قطر ، ایران تعلقات کا خاتمہ چاہتے ہیں ، حقیقت حال اس کے برعکس ہے امیر محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان اس کا ثبوت تھا اور رہے گا۔ سعودی عرب کے ولی عہد کا پاکستان کی سر زمین پر یہ اعلان کہ وہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر ہیں اس محبت کا عملی ثبوت ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے ان سے تعلقات ایک بھائی سے بھائی کی طرح ہیں یہ بات ذہن میں رہے کہ سعودی عرب کی موجودہ قیادت عالمی حالات اور اسلامی دنیا کے حالات سے بہت با خبر ہے۔ سعودی عرب کے موجودہ وزیر خارجہ امیر فیصل اور ان کی ٹیم حقائق کا مکمل ادارک رکھتی ہے۔ سعودی عرب کا پاکستان سے تعلقات کے حوالہ سے ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب عرب تعلقات کے درمیان کسی دوسرے ملک کو ہر گز نہیں آنا چاہیے۔ ہمارے تعلقات نہ کسی کی وجہ سے کمزور ہونے چاہئیں اور نہ ہی تعلقات کی بہتری کے لیے ہمیں کسی کا محتاج ہونا چاہیے۔ لہذا اس افواہ کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہے ، نہ ہوگا کہ کسی ملک کی وجہ سے ہمارے تعلقات کمزور ہور ہے ہیں۔ ان سارے حالات میں پاکستان کے ایک قریبی دوست اور عرب اسلامی دنیا میں اہم ترین ملک متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے تعلقات کا اعلان کر دیا۔ 

مزید :

بلاگ -