”قومی ٹیم اس کھلاڑی کو مستقل کے کپتان کے طور پر تیار کر رہی ہے“ راشد لطیف نے انتہائی حیران کن نام لے لیا، جان کر آپ بھی حیرت زدہ رہ جائیں

”قومی ٹیم اس کھلاڑی کو مستقل کے کپتان کے طور پر تیار کر رہی ہے“ راشد لطیف نے ...
”قومی ٹیم اس کھلاڑی کو مستقل کے کپتان کے طور پر تیار کر رہی ہے“ راشد لطیف نے انتہائی حیران کن نام لے لیا، جان کر آپ بھی حیرت زدہ رہ جائیں

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کا ماننا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کو مستقبل کی کپتانی کا امیدوار سمجھ رہی ہے اور اس لحاظ سے انہیں تیار بھی کیا جا رہا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کیخلاف ٹی 20 سیریز سے قبل ماہرین کا یہ خیال تھا کہ انگلینڈ کیخلاف مختصر فارمیٹ کی سیریز میں سابق کپتان سرفراز احمد کو محمد رضوان پر ترجیح دی جائے گی تاہم جمعہ کو انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹی 20 انٹرنیشنل کیلئے محمد رضوان کو قومی ٹیم میں شامل کیا گیا جنہوں نے آل راو¿نڈر لوئس گریگوری کو سٹمپ کرنے کے علاوہ بائیں ہاتھ کے بلے باز معین علی کا عمدہ کیچ بھی پکڑا۔ 

راشد لطف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”رضوان کی کارکردگی سٹمپس کے پیچھے بہترین رہی، اگر ہم مستقبل کے کپتان کو تلاش کر رہے ہیں تو رضوان میں صلاحیت موجود ہے، انہوں نے پاکستان اے ٹیم کی بھی قیادت کی ہے، اگر ٹیم مینجمنٹ اسے ہر فارمیٹ میں کھلا رہی ہے تو شاید وہ انہیں مستقبل میں ضرورت پڑنے پر قیادت سونپنے کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے۔ محمد رضوان نے وکٹوں کے پیچھے کھڑے ہو کر بہترین کمیونی کیشن کا مظاہرہ بھی کیا۔“ 

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ”باﺅلرز کیساتھ ان کی گفتگو بہترین ہے، وکٹ کیپر کا کام صرف بیٹنگ یا وکٹ کیپنگ تک محدود نہیں بلکہ ایک وکٹ کیپر نے ٹیم کو چلانا ہوتا ہے اور محمد رضوان 50 فیصد میچ چلا رہے تھے۔ جب شاداب کو چھکا لگا تو محمد رضوان اس کے پاس گیا اور بات چیت کی، اس نے کئی مواقعوں پر فیلڈنگ بھی درست کی کیونکہ جب بابراعظم مڈ وکٹ پر کھڑے تھے تو انہیں فیلڈنگ میں موجود خلاءکا علم نہیں تھا جن کے بارے میں محمد رضوان نے بتایا۔“ 

انہوں نے مزید کہا ” محمد رضوان میں ایک کپتان کی خصوصیات ہیں اور اس سیریز میں انہوں نے اپنا واضح نشان چھوڑا ہے جس کی تعریف کی جانی چاہئے، وہ طویل عرصے تک پاکستان کی خدمت کریں گے۔ اگر شعیب ملک اور محمد حفیظ کھیل سکتے ہیں تو سرفراز احمد بھی کھیل سکتے ہیں، اور ابھی ان کا باب بند نہیں ہوا۔ بہت سے کھلاڑی ڈراپ ہوتے ہیں اور پھر کم بیک کرتے ہیں، لہٰذا انہیں بھی کم از کم ایک فارمیٹ میں ضرور موقع دینا چاہئے۔“ 

مزید :

کھیل -