نئے طالبان کا نیا افغانستان 

نئے طالبان کا نیا افغانستان 
نئے طالبان کا نیا افغانستان 

  

 گومکواور بے یقینی کی کیفیت افغان عوام کو یرغمال بنائے ہوئے ہے جس کو کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے خودکش بم دھماکوں نے مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ اگر افغانستان کی موجودہ زمینی صورتحال اور طالبان قیادت کے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر نظر یہی آرہا ہے کہ اس وقت طالبان کی قیادت جو کچھ کہہ رہی ہے وہ قابل تعریف ہے لیکن ابھی ان کے ارادوں کو کسوٹی پر پرکھا جانا باقی ہے۔ قارئین آپ کو اس بات پر حیرت ہو گی کہ ایک وقت میں طالبان کا سب سے بڑا حمایتی سعودی عرب تھا لیکن دنیا میں تیل کی پیداوار میں ایک بڑا نام ہونے کے باوجود بھی تادم تحریرسعودی عرب نے طالبان کو ان کے ملک میں تیل کی کمی کے حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی لیکن ایک زمانے میں سعودی عرب کے برعکس دشمن سمجھے جانے والا ایران طالبان کے زیادہ نزدیک نظر آ رہا ہے اور اس نے طالبان کی ضرورت کے مطابق تیل دینے کی پیشکش کی ہے لیکن ایران کی اس پیشکش میں فراخدلی سے زیادہ جو اہم عنصر کارفرما ہے وہ ایران پر پابندیوں کی وجہ سے دنیا میں اس کی تیل کی کھپت نہ ہونے کی وجہ بھی ہے لیکن طالبان کے لئے ایران کی یہ پیشکش بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہو گی اس لئے کہ دونوں پڑوسی ممالک ہیں اور انتہائی کم وقت میں کم لاجسٹک لاگت میں طالبان کو تیل مل جائے گا۔ اس وقت تو حالت یہ ہے کہ اگر مزید چند روز تیل نہ ملا تو افغانستان کے مسافر ہوائی جہاز تو ایک طرف پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے بھی تیل نہیں ملے گا اور افغانستان کا پہیہ جام ہونے کے حقیقی خدشات پیدا ہو سکتے  ہیں۔

ایک اور بڑی مشکل جس کا طالبان کو سامنا ہے وہ خزانہ خالی ہونا ہے۔جس طرح تیل کی کمی سے پہیہ جام ہونے کے خدشات ہیں تو خزانہ خالی ہونے سے طالبان کی نئی حکومت کے جام ہونے کے بھی حقیقی خدشات سر اٹھائے کھڑے ہیں۔یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جنگجوؤں کو ڈسپلن میں رکھنے کے لئے جذبہ اپنی جگہ لیکن پیسہ بھی اس میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اب اگر تو سعودی عرب سمیت عرب ریاستوں نے پہلے کی طرح طالبان کی حمایت کر د ی تو پھر تو انھیں پیسہ کی کمی کا فوری سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو طالبان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کی گذشتہ حکومت میں افغانستان میں مثالی امن و امان کی صورت حال تھی اور اس مرتبہ بھی طالبان کے سخت قوانین اور بے لچک رویہ کے سبب عین ممکن ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی کی جگہ امن قائم ہو جائے لیکن صرف امن کا نعرہ ہی کامیابی کا ضامن نہیں بن سکتا بلکہ دنیا بھی اور خود افغان عوام بھی یقینا یہ چاہیں گے کہ افغان عوام اور ان کا ملک ترقی کرے اس لئے کہ سوشل میڈیا پر اگر امریکہ پر طنزیہ پوسٹیں ہو رہی ہیں کہ طالبان نے امریکہ کو بیس سال کے لئے افغانستان لیز پر دیا تھا اور اس دوران اس نے مفت میں افغانستان کا انفراسٹرکچر بنا دیا تو اگر کسی غیر نے یہ کام کیا ہے تو طالبان سے بھی عوام اسی طرح کی توقع رکھیں گے۔اس کے علاوہ صرف جرائم کو روکنا اور سر عام سزائیں دینا ہی شرعی ریاست کا فرض نہیں ہوتا بلکہ عوام کو خوش حال رکھنا اور ضروریات زندگی کی سہولتیں دینا، ان کو بہترین تعلیم، علاج اور خوراک دینا بھی اسلامی ریاست کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ اس مرتبہ طالبان کو جو حکومت ملی ہے یہ جتنی آسانی سے ملی ہے اس سے کہیں زیادہ مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان اور جو قوتیں ان کے ساتھ ہیں وہ اس مشکل صورت حال کا سامنا کیسے کرتی ہیں۔اس لئے کہ بندوق اور پروپیگنڈا کے بل پر حکومت کو چلایا تو جا سکتا ہے لیکن نہ تو عوام میں اس کی جڑیں مضبوط ہوں گی اور نہ ہی تاریخ میں کوئی بہتر مقام حاصل ہو سکے گا۔ 

افغان طالبان نے مذہبی رواداری کے حوالے سے جو انتہائی خوش آئند بیانات دیئے اور محرم کے دوران جس بہترین مذہبی رواداری کے طرز عمل کا مظاہرہ کیا اس سے ان پاکستانی فرقہ پرست عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے جو بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانے کا کردار ادا کر رہے تھے اور دل میں خوشی کے لڈو پھوٹ رہے تھے کہ ان کی دکانداری پھر سے چمکنے لگ جائے گی لیکن افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات بہتر کرنے کا کہہ کران فرقہ پرستوں سے بھی اظہار لا تعلقی کیا ہے۔دعا یہ ہے کہ افغان طالبان جو کہہ رہے ہیں یہ صرف سیاسی بیانات کی حد تک نہ ہو بلکہ حقیقت بھی یہی ہو کہ اسی میں اسلام کی پاکستان کی اور ہم سب کی بہتری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -