برطانوی بینکوں میں گذشتہ عشرے کے دوران پڑنے والے ڈاکوں کی تعداد میں 90 فیصد کمی واقع

برطانوی بینکوں میں گذشتہ عشرے کے دوران پڑنے والے ڈاکوں کی تعداد میں 90 فیصد ...

 لندن (آن لائن) برطانوی بینکوں میں گذشتہ عشرے کے دوران پڑنے والے ڈاکوں کی تعداد میں 90 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔برٹش بینکرز ایسوسی ایشن (بی بی اے)کے اعداد و شمار کے مطابق 2011 میں صرف 66 ڈاکے پڑے، جب کہ 1992 میں پڑنے والے ڈاکوں کی تعداد 847 تھی۔اس کمی کی وجہ جدید ٹیکنالوجی ہے جس کے باعث ڈاکے مارنے کے ’روایتی‘ طریقے فرسودہ ہو چکے ہیں اور اب وہ کام نہیں کرتے۔بی بی اے کے سربراہ اینتھنی براو¿ن نے کہاکہ بینک اب ڈاکوں کو صرف ٹی وی ڈراموں تک محدود رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔بینک ڈاکے کا شکار ہونا عملے اور صارفین دونوں کے لیے انتہائی شدید آزمائش ہے جس سے زندگیاں عشروں تک داغ دار ہو کر رہ جاتی ہیں۔انھوں نے کہاکہ یہ بات بہت اچھی ہے کہ حالیہ برسوں میں اس قسم کے جرائم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اب جو کوئی بھی بینک لوٹنا چاہتا ہے اسے بہت بہتر سی سی ٹی وی، ایک سیکنڈ کے اندر اندر بلند ہو جانے والی حفاظتی سکرینوں، حتیٰ کہ خصوصی قسم کی دھند کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا مقصد مجرموں کو گڑبڑا دینا ہوتا ہے۔

اسی قسم کا رجحان امریکہ میں بھی دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایف بی آئی نے کہا ہے کہ 2012 میں ملک بھر میں بینک ڈاکوں کی 3870 واداتیں ہوئیں، جو کئی عشروں کی دوران سب سے کم تعداد ہے۔

مزید : کامرس