نئی شاعری کی انفرا ریڈ عینک

نئی شاعری کی انفرا ریڈ عینک
نئی شاعری کی انفرا ریڈ عینک

  


 مرزا غالب کو ظرف غزل کی تنگی کا شکوہ تھا اور علامہ اقبال بھی حرف راز شئیر کرنے کے لئے یہ شرط عائد کر گئے کہ ’خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں‘ ۔ میرے دوست پروفیسر آصف ہمایوں نے رجحان ساز شاعر ہونے کا دعوی تو نہیں کیا ، مگر مسئلہ اس کا بھی وہی ہے جو غالب و اقبال کا تھا ۔ اسی لئے تو وہ انسانی مشاہدے کے معلوم وسیلوں کا زاد سفر اٹھائے بڑی مستعدی سے نامعلوم کا پیچھا کر رہا ہے ۔ یہ الگ بات کہ مسافتوں کی اس نیم آباد قلمرو کی بے زمین سرحدیں کسی موٹر وے کے سائن تک نہیں پہنچتیں ۔ صرف انجانی پگڈنڈیوں کے ٹوئے ٹبے ہیں اور ایک بھولی بسری سی گونج کہ ’راہواں وچ ٹھیڈے کھان نظراں نمانیاں‘ ۔ مگر آصف ہمایوں کی چالاکی دیکھیں کہ اس نے ٹھیڈے کھانے اور پھر چل پڑنے کے تجربہ کو شعری روزنامچہ کا سرنامہ بنا لیا ہے ، جس کا سب ٹائیٹل ہے ’ہر پہر کا آسماں‘ ۔

 زمانی حوالے سے تو تخلیقی مسافتوں کے ٹوئے ٹبے بعد کا مرحلہ ہیں ، لیکن سفر کا آغاز سول لائینز کے اس کونے سے ہو گیا تھا جس مقام پر اسلامیہ کالج کی سڑک جی سی والے نیو ہاسٹل کے باہر لوئر مال سے جا لپٹتی ہے ۔ اسلامیہ کالج یوں اہم ہے کہ یہیں قانون کی ایوننگ کلاس میں جب ہم پہلی بار ملے تو گلابی جاڑوں میں بھی آصف ہمایوں موٹی اندونی تہہ والی چمڑے کی جیکٹ میں دھنسے ہوئے تھے ، جسے دیکھ کر جورسپروڈنس کے استاد نے طنز کیا ’آپ کو بہت سردی لگتی ہے نا ‘ ۔ ’جی ہاں ‘ آصف نے یہ جواب حیران کن غیر جانبداری سے دیا تھا ۔ اسی طرح میں نے نا آشنا چہروں سے گھبرا کر پچھلے بنچ کی طرف مڑتے ہوئے جب آہستہ سے پوچھا کہ اب تک کتنا کورس پڑھ چکے ہیں تو جیکٹ پوش نے مسکرا کر کندھے اچکا دئے ، جیسے کہہ رہا ہو کہ مجھے کیا پتا یا یہ کہ اس سے آخر فرق ہی کیا پڑتا ہے ۔

 اس دن کی مسافت مال روڈ کے انار کلی چوک تک رہی جہاں سے سیدھے ہاتھ کوئی تین سو قدم پر آصف ہمایوں نے سمن آباد موڑ کے لئے تانگہ پکڑا اور میں الٹی سمت میں دکانوں کی رونقیں دیکھتا ہوا موچی ، میکلوڈ ، ٹیشن کی صدا کا پیچھا کرنے لگا ۔ یاری کے باضابطہ نوٹیفکیشن میں چوبیس گھنٹے لگے جب کلاس ختم ہوتے ہی آصف کی دعوت پر ہم آج کی فوڈ سٹریٹ کے حساب سے بائیں طرف کی تیسری دکان میں جا گھسے تھے ۔ ٹیوب لائٹ کے نیچے سفید پیالوں میں گاڑھے دودھ والی کشمیری چائے جو میرے اجداد نے اننت ناگ چھوڑ نے سے پہلے کبھی نہ پی ہوگی ۔ لیکن فی الحال بات ’مظلوم کشمیریوں‘ کی نہیں ، دو ہم عمر دوستوں کی ہورہی ہے جن میں سے سوشیالوجی کا گولڈ میڈلسٹ صبح کے اوقات میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھانے لگا اور برطانوی سفارتخانہ کی گٹ پٹ سے مسلح جناب شاہد ملک گورنمنٹ کالج میں ۔

 کالج ، یونیورسٹی اساتذہ کو ہمارے پنجاب کے لوگ بلا لحاظ مذہب و نسل و تنخواہ پروفیسر صاحب کہتے آئے ہیں بلکہ مخفف کے طور پر دیگر سول ا ور فوجی عہدوں کی طرح ’میج صاب ، ڈاک صاب ، پروفیس صاب‘ ۔ اس کا کوئی اور فائدہ تو نہ ہوا ، لاءکی کلاس میں کچھ نیم قانونی رعائتیں ضرور حاصل ہو گئیں ۔ جیسے ایک استاد کی طرف سے ، جو بعد ازاں چیف جسٹس کے منصب تک پہنچے ، کبھی کبھار یہ دعوت کہ سب کے سامنے آکر ذرا لیکچر دہرا دیجئے ۔ یوں ایک گھنٹہ بعد ہی دو پیریڈ کی حاضری لگوا لینے کا امکان پیدا ہو جاتا ۔ کلاس سے کھسکنے کی اضافی کشش یہ تھی کہ گورنمنٹ کالج والے نوجوان نے سات ماہ کی رکی ہوئی تنخواہ یکمشت ملنے پر موٹر بائیک خریدلی اور یونیورسٹی کے پروفیس صاب نے وہ صابن دانی کار جسے رواں رکھنے کے لئے ہمیں پہلی بار پرانے پرزوں والے بلال گنج کے مشرق مغرب کا پتا چلا ۔

 لاہور کی سڑکوں پہ ’تراپڑ تراپڑ‘ گھومنے کی کہانی ہے تو دلچسپ کہ ان مکالمات افلاطون کے دوران آصف ہمایوں بیشتر وقت ریسیونگ اینڈ پہ ہوتے ۔ ایک تو اس لئے کہ میں نے پنجابی محاورے کے مطابق ، چند سال پہلے سے شاعری کو ’مونہہ شونہہ‘ مارنا شروع کر دیا تھا ۔ دوسرے طبیعت مین وہ جولانی کہ آصف کی موٹر کی طرح اسپیڈ کا پیڈل تو ٹھیک ٹھاک مگر بریکیں فیل اور کلچ وائر خدا جانے کب کی ٹوٹی ہوئی ۔ میرے دوست کی علمیت ، فکری بصیرت بلکہ روحانی پختگی ایک اور سطح کی تھی ۔ چنانچہ فوج اور عوام کی صف آرائی کے پس منظر میں کہا گیا میرا پھڑکتا ہوا صحافیانہ کلام سن سن کر بھی اس کے تبصروں کی رفتار چار فقرے فی یوم سے آگے نہ بڑھ سکی ۔ بندہ کو یہ حکیمانہ نکتہ کسی نے بہت بعد میں سمجھایا کہ تخلیقی ذہن کے چپ چپیتے لوگ اپنی مرضی سے بحث ہار تے اور مد مقابل کا دل جیت لیتے ہیں ۔

 اس مرحلے پر اگلے ڈرامائی سین کی جھلک کے لئے مجھے گورڈن کالج کے اس ڈائیننگ روم کا پردہ اٹھانا پڑے گا ، جہاں ایک دن کھڑکی سے نیلے درختوں کے تازہ پتے دیکھ کر میں نے اپنے سینئر سید وزیر الحسن سے ذرا ترنگ میں کہہ دیا کہ نقوی صاحب ، آج صبح بہار کا نقشہ ہے ۔ ’یا بہار صبح کہہ لیجئے ‘ یہ تھا مخصوص لہجہ کا جواب ، جسے سن کر منہ سے نکلا ’سر ، آپ ہر بات کا جذر نکال دیتے ہیں‘ ۔ لیکن ڈائیننگ روم کی اسٹیج پر ، جسے سب نے ہمیشہ پروفیسرز میس کہا ، فی الوقت کھیل کا مرکزی کردار اردو ادب کا یہ شریف النفس استاد نہیں ۔ نہ ہی واقعات کا وہ تسلسل جس نے بطور مدرس ولائت میں ’اعلی تعلیم‘ کے بعد مجھے دوبارہ آصف ہمایوں سے یوں ملوایا کہ اس کا سفینہءغم دل کسی مرغ باد نما کے بغیر پنجاب کی کئی خشک گودیوں کا چکر کاٹ کر میرے ساتھ ہی راولپنڈی کی تعلیمی بندرگاہ پہ لنگر انداز ہو گیا ۔

 یہاں تک تو ڈرامہ ہے اوپری سطح کا جسے میں نے ہی نہیں ، پرنسپل عزیز محمود زیدی ، وائس پرنسپل مطیع اللہ خان ، توصیف تبسم ، مقصود جعفری ، مرزا حامد بیگ اور ’ایکس افیشو‘ پروفیسر شاہد مسعود سمیت میس میں چائے کے خم لنڈھانے والے سبھی ناظرین نے دیکھا ۔ مگر ایک کھیل پردے کے پیچھے بھی ہوا کرتا ہے ۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ آج سے پچاسی سال پہلے اس تاریخی کالج میں ٹی بوائے کی نوکری شروع کرنے والے چاچا زمان نے کمنگ صاحب اور سٹورٹ صاحب کے دور کو یاد کرتے ہوئے کئی بار پروفیسرز میس کے ’پکی تھاں ‘ ہونے کا اشارہ دیا تھا ۔ خاص طور پہ کالج روڈ والے عقبی گیٹ کا نیم دائرہ جس کے نیچے ایک سردار صاحب کا گھوڑا دفن ہے ۔ اپنی کہوں تو میں نے خود میس کی بیک اسٹیج پر انسانی شکل کے ایک جن کو سگریٹ پیتے ، شعر سناتے اور موڈ ہو تو قہقہہ لگاتے دیکھا ہے ۔

 آفتاب اقبال شمیم نام کے اس جن کا ہر سال دو سال بعد کوہ قاف پھلانگ کر پنڈی سے پیکنگ یونیورسٹی پہنچ جانا تو سب کی سمجھ میں آتا ہے اور یہ بھی کہ اس جن کی جان کسی دور دراز محل میں لٹکے ہوئے پر اسرار پنجرے کے طوطے میں نہیں ، بلکہ اس کی نظموں میں ہے ۔ میں نے یہ نتیجہ کیسے نکالا ، یہ بتا نے کی کوشش تو کر سکتا ہوں ، پر مجھ سے ’جمال یار کا دفتر رقم نہیں ہوتا ‘ ۔ بس آفتاب شمیم کے اولین مجموعہ کا یہ پہلا اعلان نامہ پڑھ لیجئے کہ ’ میرا حافظہ میری فنا اور بقا کا حوالہ ہے اور میری تاریخ اس فنا و بقا کی جدلیت کی دستاویز ۔ ایک مسلسل تجربہ جو ماضی سے مستقبل کی روشنی تلاش کرتا ہے اور مجھے میرے تصرف میں رکھتا ہے ، میری آزادیوں کو مشروط کرتا ہے اور میرے امکانات کا رخ ایک طے شدہ راستے کی جانب موڑتا رہتا ہے ۔ میں اس تجربے کی دریافت ہوں اور اسی رفتہ کا آئندہ ہوں ‘ ۔

 اگر اپنے سماج کی روائتی ٹرمینالوجی استعمال کروں تو آصف ہمایوں اور مجھ پر اس جن کا سایہ ایک ہی وقت میں پڑا تھا ، لیکن میں ڈر گیا اور بی بی سی سے وابستگی کے دوران میرے اندر کا آسیب انگریز جن مولویوں نے نکال دیا ۔ یوں اس بچے کھچے ڈھانچے میں ایک اینگلو انڈین بد روح رہ گئی جو لیکچر تو انگریزی میں دینا پسند کرتی ہے ، مگر آلو انڈہ پکانے کی ترکیب صرف اردو میں بیان کر سکتی ہے ۔ آصف ہمایوں کو قابو میں رکھنے کے لئے جن نے کہیں زیادہ زور سے جپھہ مارا ، اتنے زور سے کہ اس نے ’ نا دریافت شدہ اسرار کے سمندر میں تیرتے ہوئے ، اوجھل ہوتے ہوئے ، ابھرتے ہوئے جزیرے‘ نہ صرف خود دیکھ لئے بلکہ آصف کو بھی چپکے سے وہ انفرا ریڈ عینک تھما دی جو اتھاہ اندھیرے میں دور تک کا مشاہدہ کر لینے کی خاصیت رکھتی ہے ۔

 اس سے یہ نہ سمجھ لیجئے کہ پروفیسر آصف ہمایوں نے شاعری کی مسافت میں جو ’ہر پہر کا آسماں‘ دیکھا وہ کسی اور کی آنکھوں سے تھا ۔ ایسا ہر گز نہیں کیونکہ مصنف کے اپنے الفاظ میں ’ میں نے اپنے شعور کی جس اقلیم میں اپنی عمر کا بیشتر حصہ گزارا ہے اس میں ایک ڈرا ڈرا سا ہجر ہمیشہ میرا ہمسفر رہا ہے ۔ میں نے شائد محبت آشنا دنوں کو حرز جاں بنا لیا ہے ، لہذ اپنی فکر کی کی راہیں متعین کرنے میں اس ہجر کی اہمیت کو نظر انداز کرنا میرے لئے قدرے مشکل ہے ۔ دل و چشم کے راستوں سے در آنے والا یہ ہجر ، یہ بنجارہ ، گو میری نظر میں آباد حسن کے علاقوں سے سرسری گزرا ، میرے دل کے لہو میں ضرور شامل رہا ہے جس سے میرے وجود کے جذبے سیراب ہوئے ہیں ۔ تاہم اس کی اصل سے میری جان پہچان محض واجبی سی رہی ہے ‘ ۔

 آصف ہمایوں کے شعری مجموعہ کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھیں تو شاعر کی طرح آپ بھی ’ہر پہر کا آسماں‘ دیکھنے لگتے ہیں ۔ پھر بھی انفرا ریڈ عینک کے بغیر پتا نہیں چلتا کہ آپ کے آگے آگے جو دو سوٹڈ بوٹڈ ہیولے ٹوئے ٹبوں میں گرتے پڑتے چل رہے ہیں ان میں سے جن کون سا ہے اور چمٹا ہوا کسے ہے ۔ دھونی دھمانے اور ڈولی کھلانے والے پروفیشنل ان موقعوں پہ پبلک سروس کمیشن کی طرح صرف مشہور مشہور سوال پوچھا کرتے ہیں ، جیسے ’اوئے جو کوئی بھی ہے ، ظاہر ہو جائے‘ ۔ اب سوال کرنا یا نہ کرنا ، آپ کے اختیار میں ہے ۔ میں تو یہ شعری مجموعہ اب تیسری بار پڑھنے لگا ہوں تاکہ دونوں جنات میں قد و قامت کا فرق مجھے اور کم دکھائی دینے لگے ۔ پیش ہیں آصف ہمایوں کی غزل کے کچھ شعر اور نظم کا ایک اقتباس :

 بنام زندگی ہم پر کھلے ہیں

 یہ جتنے روشنی کے در کھلے ہیں

 یہاں اک روک ہے حد نظر کی

 ذرا آگے سبھی منظر کھلے ہیں

 وہ مل چکا ہے مجھے یا ابھی ملا ہی نہیں

 یہ مرحلہ تو مری جستجو کا تھا ہی نہیں

 نئی صدائیں ، نئی باز گشت لائی ہیں

 ان کا سنگ عجب ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں

 ہرے ساونوں میں

 اگر بادلوں کے تھکے قافلے پربتوں پر اترنے لگیں گے

 ہوا کی نمی آنکھ کے روزنوں سے گزرنے لگے گی

 سنیں گے چھتوں پر برستی گھٹا کی صداﺅں میں آواز دل کی

 شناسا سی دھڑکن میں گفتار دل کی

 ہمیں راستوں میں بکھرنے کا موسم اکٹھا کرے گا۔

 ئی شاعری کی ا فرا ریڈ عی ک

 مرزا غالب کو ظرف غزل کی ت گی کا شکوہ تھا اور علامہ اقبال بھی حرف راز شئیر کر ے کے لئے یہ شرط عائد کر گئے کہ ’خدا مجھے فس جبرئیل دے تو کہوں‘ ۔ میرے دوست پروفیسر آصف ہمایوں ے رجحا ساز شاعر ہو ے کا دعوی تو ہیں کیا ، مگر مسئلہ اس کا بھی وہی ہے جو غالب و اقبال کا تھا ۔ اسی لئے تو وہ ا سا ی مشاہدے کے معلوم وسیلوں کا زاد سفر اٹھائے بڑی مستعدی سے امعلوم کا پیچھا کر رہا ہے ۔ یہ الگ بات کہ مسافتوں کی اس یم آباد قلمرو کی بے زمی سرحدیں کسی موٹر وے کے ساء تک ہیں پہ چتیں ۔ صرف ا جا ی پگڈ ڈیوں کے ٹوئے ٹبے ہیں اور ایک بھولی بسری سی گو ج کہ ’راہواں وچ ٹھیڈے کھا ظراں ما یاں‘ ۔ مگر آصف ہمایوں کی چالاکی دیکھیں کہ اس ے ٹھیڈے کھا ے اور پھر چل پڑ ے کے تجربہ کو شعری روز امچہ کا سر امہ ب ا لیا ہے ، جس کا سب ٹائیٹل ہے ’ہر پہر کا آسماں‘ ۔

 زما ی حوالے سے تو تخلیقی مسافتوں کے ٹوئے ٹبے بعد کا مرحلہ ہیں ، لیک سفر کا آغاز سول لائی ز کے اس کو ے سے ہو گیا تھا جس مقام پر اسلامیہ کالج کی سڑک جی سی والے یو ہاسٹل کے باہر لوئر مال سے جا لپٹتی ہے ۔ اسلامیہ کالج یوں اہم ہے کہ یہیں قا و کی ایو گ کلاس میں جب ہم پہلی بار ملے تو گلابی جاڑوں میں بھی آصف ہمایوں موٹی ا دو ی تہہ والی چمڑے کی جیکٹ میں دھ سے ہوئے تھے ، جسے دیکھ کر جورسپروڈ س کے استاد ے ط ز کیا ’آپ کو بہت سردی لگتی ہے ا ‘ ۔ ’جی ہاں ‘ آصف ے یہ جواب حیرا ک غیر جا بداری سے دیا تھا ۔ اسی طرح میں ے ا آش ا چہروں سے گھبرا کر پچھلے ب چ کی طرف مڑتے ہوئے جب آہستہ سے پوچھا کہ اب تک کت ا کورس پڑھ چکے ہیں تو جیکٹ پوش ے مسکرا کر ک دھے اچکا دئے ، جیسے کہہ رہا ہو کہ مجھے کیا پتا یا یہ کہ اس سے آخر فرق ہی کیا پڑتا ہے ۔

 اس د کی مسافت مال روڈ کے ا ار کلی چوک تک رہی جہاں سے سیدھے ہاتھ کوئی تی سو قدم پر آصف ہمایوں ے سم آباد موڑ کے لئے تا گہ پکڑا اور میں الٹی سمت میں دکا وں کی رو قیں دیکھتا ہوا موچی ، میکلوڈ ، ٹیش کی صدا کا پیچھا کر ے لگا ۔ یاری کے باضابطہ وٹیفکیش میں چوبیس گھ ٹے لگے جب کلاس ختم ہوتے ہی آصف کی دعوت پر ہم آج کی فوڈ سٹریٹ کے حساب سے بائیں طرف کی تیسری دکا میں جا گھسے تھے ۔ ٹیوب لائٹ کے یچے سفید پیالوں میں گاڑھے دودھ والی کشمیری چائے جو میرے اجداد ے ا ت اگ چھوڑ ے سے پہلے کبھی ہ پی ہوگی ۔ لیک فی الحال بات ’مظلوم کشمیریوں‘ کی ہیں ، دو ہم عمر دوستوں کی ہورہی ہے ج میں سے سوشیالوجی کا گولڈ میڈلسٹ صبح کے اوقات میں پ جاب یو یورسٹی میں پڑھا ے لگا اور برطا وی سفارتخا ہ کی گٹ پٹ سے مسلح ج اب شاہد ملک گور م ٹ کالج میں ۔

 کالج ، یو یورسٹی اساتذہ کو ہمارے پ جاب کے لوگ بلا لحاظ مذہب و سل و ت خواہ پروفیسر صاحب کہتے آئے ہیں بلکہ مخفف کے طور پر دیگر سول ا ور فوجی عہدوں کی طرح ’میج صاب ، ڈاک صاب ، پروفیس صاب‘ ۔ اس کا کوئی اور فائدہ تو ہ ہوا ، لاءکی کلاس میں کچھ یم قا و ی رعائتیں ضرور حاصل ہو گئیں ۔ جیسے ایک استاد کی طرف سے ، جو بعد ازاں چیف جسٹس کے م صب تک پہ چے ، کبھی کبھار یہ دعوت کہ سب کے سام ے آکر ذرا لیکچر دہرا دیجئے ۔ یوں ایک گھ ٹہ بعد ہی دو پیریڈ کی حاضری لگوا لی ے کا امکا پیدا ہو جاتا ۔ کلاس سے کھسک ے کی اضافی کشش یہ تھی کہ گور م ٹ کالج والے وجوا ے سات ماہ کی رکی ہوئی ت خواہ یکمشت مل ے پر موٹر بائیک خریدلی اور یو یورسٹی کے پروفیس صاب ے وہ صاب دا ی کار جسے رواں رکھ ے کے لئے ہمیں پہلی بار پرا ے پرزوں والے بلال گ ج کے مشرق مغرب کا پتا چلا ۔

 لاہور کی سڑکوں پہ ’تراپڑ تراپڑ‘ گھوم ے کی کہا ی ہے تو دلچسپ کہ ا مکالمات افلاطو کے دورا آصف ہمایوں بیشتر وقت ریسیو گ ای ڈ پہ ہوتے ۔ ایک تو اس لئے کہ میں ے پ جابی محاورے کے مطابق ، چ د سال پہلے سے شاعری کو ’مو ہہ شو ہہ‘ مار ا شروع کر دیا تھا ۔ دوسرے طبیعت می وہ جولا ی کہ آصف کی موٹر کی طرح اسپیڈ کا پیڈل تو ٹھیک ٹھاک مگر بریکیں فیل اور کلچ وائر خدا جا ے کب کی ٹوٹی ہوئی ۔ میرے دوست کی علمیت ، فکری بصیرت بلکہ روحا ی پختگی ایک اور سطح کی تھی ۔ چ ا چہ فوج اور عوام کی صف آرائی کے پس م ظر میں کہا گیا میرا پھڑکتا ہوا صحافیا ہ کلام س س کر بھی اس کے تبصروں کی رفتار چار فقرے فی یوم سے آگے ہ بڑھ سکی ۔ ب دہ کو یہ حکیما ہ کتہ کسی ے بہت بعد میں سمجھایا کہ تخلیقی ذہ کے چپ چپیتے لوگ اپ ی مرضی سے بحث ہار تے اور مد مقابل کا دل جیت لیتے ہیں ۔

 اس مرحلے پر اگلے ڈرامائی سی کی جھلک کے لئے مجھے گورڈ کالج کے اس ڈائی گ روم کا پردہ اٹھا ا پڑے گا ، جہاں ایک د کھڑکی سے یلے درختوں کے تازہ پتے دیکھ کر میں ے اپ ے سی ئر سید وزیر الحس سے ذرا تر گ میں کہہ دیا کہ قوی صاحب ، آج صبح بہار کا قشہ ہے ۔ ’یا بہار صبح کہہ لیجئے ‘ یہ تھا مخصوص لہجہ کا جواب ، جسے س کر م ہ سے کلا ’سر ، آپ ہر بات کا جذر کال دیتے ہیں‘ ۔ لیک ڈائی گ روم کی اسٹیج پر ، جسے سب ے ہمیشہ پروفیسرز میس کہا ، فی الوقت کھیل کا مرکزی کردار اردو ادب کا یہ شریف ال فس استاد ہیں ۔ ہ ہی واقعات کا وہ تسلسل جس ے بطور مدرس ولائت میں ’اعلی تعلیم‘ کے بعد مجھے دوبارہ آصف ہمایوں سے یوں ملوایا کہ اس کا سفی ہءغم دل کسی مرغ باد ما کے بغیر پ جاب کی کئی خشک گودیوں کا چکر کاٹ کر میرے ساتھ ہی راولپ ڈی کی تعلیمی ب درگاہ پہ ل گر ا داز ہو گیا ۔

 یہاں تک تو ڈرامہ ہے اوپری سطح کا جسے میں ے ہی ہیں ، پر سپل عزیز محمود زیدی ، وائس پر سپل مطیع اللہ خا ، توصیف تبسم ، مقصود جعفری ، مرزا حامد بیگ اور ’ایکس افیشو‘ پروفیسر شاہد مسعود سمیت میس میں چائے کے خم ل ڈھا ے والے سبھی اظری ے دیکھا ۔ مگر ایک کھیل پردے کے پیچھے بھی ہوا کرتا ہے ۔ کم لوگ جا تے ہیں کہ آج سے پچاسی سال پہلے اس تاریخی کالج میں ٹی بوائے کی وکری شروع کر ے والے چاچا زما ے کم گ صاحب اور سٹورٹ صاحب کے دور کو یاد کرتے ہوئے کئی بار پروفیسرز میس کے ’پکی تھاں ‘ ہو ے کا اشارہ دیا تھا ۔ خاص طور پہ کالج روڈ والے عقبی گیٹ کا یم دائرہ جس کے یچے ایک سردار صاحب کا گھوڑا دف ہے ۔ اپ ی کہوں تو میں ے خود میس کی بیک اسٹیج پر ا سا ی شکل کے ایک ج کو سگریٹ پیتے ، شعر س اتے اور موڈ ہو تو قہقہہ لگاتے دیکھا ہے ۔

 آفتاب اقبال شمیم ام کے اس ج کا ہر سال دو سال بعد کوہ قاف پھلا گ کر پ ڈی سے پیک گ یو یورسٹی پہ چ جا ا تو سب کی سمجھ میں آتا ہے اور یہ بھی کہ اس ج کی جا کسی دور دراز محل میں لٹکے ہوئے پر اسرار پ جرے کے طوطے میں ہیں ، بلکہ اس کی ظموں میں ہے ۔ میں ے یہ تیجہ کیسے کالا ، یہ بتا ے کی کوشش تو کر سکتا ہوں ، پر مجھ سے ’جمال یار کا دفتر رقم ہیں ہوتا ‘ ۔ بس آفتاب شمیم کے اولی مجموعہ کا یہ پہلا اعلا امہ پڑھ لیجئے کہ ’ میرا حافظہ میری ف ا اور بقا کا حوالہ ہے اور میری تاریخ اس ف ا و بقا کی جدلیت کی دستاویز ۔ ایک مسلسل تجربہ جو ماضی سے مستقبل کی روش ی تلاش کرتا ہے اور مجھے میرے تصرف میں رکھتا ہے ، میری آزادیوں کو مشروط کرتا ہے اور میرے امکا ات کا رخ ایک طے شدہ راستے کی جا ب موڑتا رہتا ہے ۔ میں اس تجربے کی دریافت ہوں اور اسی رفتہ کا آءدہ ہوں ‘ ۔

 اگر اپ ے سماج کی روائتی ٹرمی الوجی استعمال کروں تو آصف ہمایوں اور مجھ پر اس ج کا سایہ ایک ہی وقت میں پڑا تھا ، لیک میں ڈر گیا اور بی بی سی سے وابستگی کے دورا میرے ا در کا آسیب ا گریز ج مولویوں ے کال دیا ۔ یوں اس بچے کھچے ڈھا چے میں ایک ای گلو ا ڈی بد روح رہ گئی جو لیکچر تو ا گریزی میں دی ا پس د کرتی ہے ، مگر آلو ا ڈہ پکا ے کی ترکیب صرف اردو میں بیا کر سکتی ہے ۔ آصف ہمایوں کو قابو میں رکھ ے کے لئے ج ے کہیں زیادہ زور سے جپھہ مارا ، ات ے زور سے کہ اس ے ’ ا دریافت شدہ اسرار کے سم در میں تیرتے ہوئے ، اوجھل ہوتے ہوئے ، ابھرتے ہوئے جزیرے‘ ہ صرف خود دیکھ لئے بلکہ آصف کو بھی چپکے سے وہ ا فرا ریڈ عی ک تھما دی جو اتھاہ ا دھیرے میں دور تک کا مشاہدہ کر لی ے کی خاصیت رکھتی ہے ۔

 اس سے یہ ہ سمجھ لیجئے کہ پروفیسر آصف ہمایوں ے شاعری کی مسافت میں جو ’ہر پہر کا آسماں‘ دیکھا وہ کسی اور کی آ کھوں سے تھا ۔ ایسا ہر گز ہیں کیو کہ مص ف کے اپ ے الفاظ میں ’ میں ے اپ ے شعور کی جس اقلیم میں اپ ی عمر کا بیشتر حصہ گزارا ہے اس میں ایک ڈرا ڈرا سا ہجر ہمیشہ میرا ہمسفر رہا ہے ۔ میں ے شائد محبت آش ا د وں کو حرز جاں ب ا لیا ہے ، لہذ اپ ی فکر کی کی راہیں متعی کر ے میں اس ہجر کی اہمیت کو ظر ا داز کر ا میرے لئے قدرے مشکل ہے ۔ دل و چشم کے راستوں سے در آ ے والا یہ ہجر ، یہ ب جارہ ، گو میری ظر میں آباد حس کے علاقوں سے سرسری گزرا ، میرے دل کے لہو میں ضرور شامل رہا ہے جس سے میرے وجود کے جذبے سیراب ہوئے ہیں ۔ تاہم اس کی اصل سے میری جا پہچا محض واجبی سی رہی ہے ‘ ۔

 آصف ہمایوں کے شعری مجموعہ کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھیں تو شاعر کی طرح آپ بھی ’ہر پہر کا آسماں‘ دیکھ ے لگتے ہیں ۔ پھر بھی ا فرا ریڈ عی ک کے بغیر پتا ہیں چلتا کہ آپ کے آگے آگے جو دو سوٹڈ بوٹڈ ہیولے ٹوئے ٹبوں میں گرتے پڑتے چل رہے ہیں ا میں سے ج کو سا ہے اور چمٹا ہوا کسے ہے ۔ دھو ی دھما ے اور ڈولی کھلا ے والے پروفیش ل ا موقعوں پہ پبلک سروس کمیش کی طرح صرف مشہور مشہور سوال پوچھا کرتے ہیں ، جیسے ’اوئے جو کوئی بھی ہے ، ظاہر ہو جائے‘ ۔ اب سوال کر ا یا ہ کر ا ، آپ کے اختیار میں ہے ۔ میں تو یہ شعری مجموعہ اب تیسری بار پڑھ ے لگا ہوں تاکہ دو وں ج ات میں قد و قامت کا فرق مجھے اور کم دکھائی دی ے لگے ۔ پیش ہیں آصف ہمایوں کی غزل کے کچھ شعر اور ظم کا ایک اقتباس :

 ب ام ز دگی ہم پر کھلے ہیں

 یہ جت ے روش ی کے در کھلے ہیں

 یہاں اک روک ہے حد ظر کی

 ذرا آگے سبھی م ظر کھلے ہیں

 وہ مل چکا ہے مجھے یا ابھی ملا ہی ہیں

 یہ مرحلہ تو مری جستجو کا تھا ہی ہیں

 ئی صدائیں ، ئی باز گشت لائی ہیں

 ا کا س گ عجب ہے کہ ٹوٹتا ہی ہیں

 ہرے ساو وں میں

 اگر بادلوں کے تھکے قافلے پربتوں پر اتر ے لگیں گے

 ہوا کی می آ کھ کے روز وں سے گزر ے لگے گی

 س یں گے چھتوں پر برستی گھٹا کی صداﺅں میں آواز دل کی

 ش اسا سی دھڑک میں گفتار دل کی

 ہمیں راستوں میں بکھر ے کا موسم اکٹھا کرے گا۔

مزید : کالم