بلاول ،بلا اور بُزدل خان

بلاول ،بلا اور بُزدل خان
بلاول ،بلا اور بُزدل خان

  


بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کے کسی سیانے نے، جواُن کے والد آصف علی زرداری بھی ہوسکتے ہیں، یہ سمجھا دیا ہے کہ پیپلزپارٹی کو اگر پھر سے زندہ کرنا اور جیالوں کے حوصلوں کو برقرار رکھنا ہے تو پھر بہادر بننا پڑے گا۔ سیکیورٹی کے نام پر بزدلوں کی طرح نظر سے غائب رہنے یا گول مول سیاسی باتیں کرنے سے بات نہیں بنے گی، یہی وجہ ہے کہ اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر ہونے والے جلسے سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری بہت بدلے ہوئے نظر آئے، انہوں نے اپنی تقریر کو بالکل اُسی ڈرامائی انداز میں پیش کیاجیسے کہ انہیں کہاگیا تھا، اُن کا اُردو لب لہجہ حیران کن حد تک بہت بہتر تھا اور بعض اہم مواقع پر اُنہوں نے جس جوش وجذبے سے جملے ادا کئے وہ اس بات کا پتہ دے رہے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری پر آصف علی زرداری بہت توجہ دے رہے ہیں اور غالباًماہرین خطابت کی ایک فوج ظفرموج اُنہیں تربیت دے رہی ہے۔

کہنے کو بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو ”بزدل خان“ کا خطاب دیا مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہی ”بزدل خان“ ایک ایسا سیاسی لیڈر ہے جو عوام کے درمیان کھڑا نظر آتا ہے، آج حکمرانی کا مزہ لوٹنے والے بھی اتنی جرا¿ت نہیں کرتے کہ کسی ٹرک پر سوار ہوکر ریلی کی قیادت کریں، اقتدار سے باہر رہنے والوں کی بات ہی دوسری ہے، لیکن عمران خان نے ابھی تک اپنی خُو نہیں چھوڑی اور ابھی چند روز پہلے ہی لاہور میں ریلی کی قیادت کرکے یہ ثابت کیا کہ لیڈرکو کسی خوف یا دھمکی کی وجہ سے گھر نہیں بیٹھ جانا چاہیے، بلاول بھٹو زرداری گڑھی خدا بخش میں سخت سیکیورٹی اور بلٹ پروف ڈائس کے پیچھے کھڑے ہوکر باتیں ضرور بہادرانہ کرگئے مگر اُنہیں ”بزدل خان“ سے آگے نکلنے کے لئے میدان میں آنا پڑے گا، بھنگڑے ڈالتے جیالوں کے جلوسوں میں شرکت کرنا ہوگی اور جس دہشت گردی کے خلاف انہوں نے لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے ،اُس کی مذمت کے لئے ایک بڑے احتجاج کااعلان کرکے اس میں اپنی شرکت سے بڑا پیغام دینا ہوگا، وہ اپنی ماں کے وارث ہیں تو انہیں بہادری کی اُس روش کو بھی اپنانا پڑے گا،جو ان کی ماں نے زندگی بھر اختیار کئے رکھی اور اس روش کو نبھاتے نبھاتے زندگی کی بازی ہار گئیں ۔

حقیقت تو یہی ہے کہ پیپلزپارٹی آج بھی ملک کی ایک بڑی جماعت ہے ،یہ اور بات ہے کہ لیڈر شپ کے فقدان کی وجہ سے اُس کو جو زوال آیا،اُس سے ابھی تک نہیں نکل سکی، ایسے میں اگر کوئی معجزہ اسے پھر سے ملک کی مقبول ترین جماعت بناسکتا ہے تو وہ بلاول بھٹو زرداری کی بہادری ہے، جو مصلحتیں اُن کے والد نے اختیار کئے رکھیں ان کی کم از کم پیپلزپارٹی کے مزاج سے کوئی مطابقت نہیں ،یہی وجہ ہے کہ خود جیالوں کے اندر بے دلی پیدا ہوئی اور گزشتہ انتخابات میں سیاسی مہم چلانے کے لئے کارکن تک دستیاب نہیں تھے، لگتا یہی ہے کہ آصف علی زرداری نے اپنے لئے جو راستہ منتخب کیا ہے وہ بلاول کو اُس پر نہیں چلانا چاہتے، اس کا اندازہ اس جلسے میں دونوں باپ بیٹوں کی تقاریر سے بھی ہوتا ہے ،آصف علی زرداری نے حکومت یا محمد نواز شریف کے خلاف کوئی بات نہیں کی جبکہ بلاول اُن پر گرجتے رہتے ہیں، خاص طور پر پنجاب میں دھاندلی کے الزامات اور پنجاب کی طالبان کے ساتھ ہمدردی کو انہوں نے کھل کر ہدف تنقید بنایا ۔

غور کیا جائے تو پیپلزپارٹی کے پاس اس وقت بلاول بھٹو زرداری کے سوا دکھانے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ پیپلزپارٹی 2018ءسے پہلے عام انتخابات نہیں چاہتی۔ آصف علی زرداری اس حوالے سے بالکل واضح پیغام دے چکے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو وہ مفاہمت ہو سکتی ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور آصف علی زرداری میں 2008ءسے موجود ہے، تاہم دوسری بڑی وجہ بلاول بھٹو زرداری کی بطور لیڈر پرورش و پرداخت ہے۔ خود بلاول نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ 2018ءکے انتخابات میں بھٹو فیملی کے تمام بچے سیاست میں ہوں گے۔ گویا بلاو ل کے ساتھ ساتھ بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھی میدان میں ہوں گی۔ بلاول بھٹو کی پچھلی اور حالیہ تقریر کو غور سے دیکھا اور سنا جائے تو ایک واضح فرق نظر آتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بلاول بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اظہار پر عبور کے بعد یقینا انہیں عوام کے درمیان تواتر سے لایا جائے گا، تاکہ اس تاثر کو زائل کیا جا سکے کہ بلاول بھٹو زرداری ساری زندگی ملک سے باہر رہے اور انہیں ملکی سیاست، مسائل اور عوامی ثقافت سے کوئی واقفیت نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن بلاول بھٹو زرداری کے بیانات پر کوئی سخت ردعمل ظاہر نہیں کرتی۔ اس کا اول و آخر ہدف تو اب پی ٹی آئی اور عمران خان ہیں اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے دھواں دار بیانات یا تقریر سے کوئی سیاسی ہلچل نہیں مچ سکتی، نہ ہی یہ پیپلزپارٹی کا مقصود ہے۔ ایسے میں صرف یہی نکتہ سامنے رہ جاتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو پاکستانی سیاست سے مانوس کرنے کے لئے یہ ساری مشق کی جا رہی ہے۔ اس مشق کا بنیادی سبق یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو ایک نڈر اور بہادر نوجوان بنا کر پیش کیا جائے۔ ایک ایسا نوجوان جو دہشتگردوں کو للکار رہا ہے۔ جو حکومت کو بھی یہ مشورہ دے رہا ہے کہ وہ دہشتگردوں سے اپنے مبینہ ہمدردانہ تعلق کو ختم کرے اور ایسا کرنے کی صورت میں وہ خود بھی شیر کے حق میں نعرے لگائیں گے۔ بہادری کا تاثر دینے کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ جو رہنما اس وقت بہادری کی علامت بنا ہوا ہے۔ اسے ہدف بنایا جائے، سوایسا ہی کیا گیا اور عمران خان کو تقریر نویسوں نے ”بزدل خان“ کا نام دیکر بلاول بھٹو زرداری کو سبق یاد کرایا۔

شنید یہ بھی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو لاڑکانہ سے ضمنی الیکشن کے ذریعے قومی اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لگتا ہے پیپلزپارٹی کے چیئرمین کو پوری طرح سیاست میں ”ان“ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ بلاول ابھی سیاست میں نہیں آئیں گے۔ اپنی تعلیم مکمل کریں گے مگر اب حکمت عملی تبدیل کر لی گئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ تقریر سے واضح ہو گیا ہے کہ انہیں اس خلاءکو پورا کرنے کے لئے ٹاسک دیدیا گیا ہے، جو اس وقت سابق صدر آصف علی زرداری کے سیاست میں حصہ نہ لینے اور دوسرے کسی رہنما کی قومی سطح پر پذیرائی نہ ہونے کے باعث پیپلزپارٹی میں نظر آتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کب تک صرف د ہشتگردوں کو للکار کے اور سیاسی مخالفین پر سخت جملے کس کر اپنے سیاسی قد کو بڑھاتے رہیں گے۔ عوامی مسائل تو اور بہت سے ہیں، جن پر موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا جا سکتا ہے۔ مثلاً مہنگائی، کرپشن اور انرجی کے بحران کا مسئلہ، اگر ان معاملات میں بلاول بھٹو زرداری اپنے والد کی دی ہوئی مفاہمانہ پالیسی پر ہی کار بند رہتے ہیں تو پھر رفتہ رفتہ ان کی شخصیت پر بھی روایت کا غلاف چڑھ جائے گا۔ ان پر بھی وہی چھاپ لگ جائے گی جو پوری پیپلزپارٹی اور خود ان کے والد آصف علی زرداری پر لگی ہوئی ہے۔

صرف عمران خان کو ہدف تنقید بنا کر اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن عوام میں اپنا مقام برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، تو انہیں اس پر نظرثانی کرنی چاہئے، کیونکہ یہ حکمت عملی اب تادیر ان کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ جب خورشید شاہ اور پرویز رشید پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف ایک ہی قسم کی زبان بولتے ہیں، تو صاف لگتا ہے کہ اصولی اپوزیشن عمران خان ہیں۔ آصف علی ز رداری کی ترجیحات میں تو ”بلے“ کو قابو میں رکھنا سب سے اہم ہے۔ کیونکہ وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا بلا ناجائز راستے سے دودھ پینے کی کوشش نہ کرے۔ لیکن دودھ اور بلے کے اس کھیل میں جو چیز نظر انداز ہو رہی ہے، وہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی ہے۔ جس کا سبب ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نا انصافی، بے روزگاری اور ہوش ربا مہنگائی ہے۔ مستقبل میں سیاستدان اگر کسی بلے کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔تو ان پہلوﺅں پر توجہ دیں سیاست میں بڑھک بازی اور جملہ سازی کی تکنیک اب بہت پرانی ہو چکی ہے۔ ان باتوں سے وقتی طور پر تالیاں ضرور بجتی ہیں مگر جلد ہی سب کچھ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اگر واقعتاً ایک بڑے لیڈر کے طور پر ابھرنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں عوام کو اگلے پانچ سال کی تاریخوں پر نہیں ٹالنا چاہئے بلکہ اپنی جماعت کو عوامی سوچ کی آئینہ دار بناتے ہوئے آج کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے حقیقی اپوزیشن کا کردار اپنانا چاہئے۔ اگر وہ عمران خان کو سیاسی میدان میں شکست دینا چاہتے ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

مزید : کالم