تحریک انصاف اور آنے والے ماہ و سال

تحریک انصاف اور آنے والے ماہ و سال

تحریک انصاف کب بالغ ہوگی؟۔ دو تین کو چھوڑ کر باقی ماندہ قائدین کس وقت نبض شناس ہوں گے؟۔ جمود کو بڑھتا مرکزی تنظیمی ڈھانچہ، کمزور صوبائی عہدے دار اور آمریت کی سرحدوں پر دستک دیتے ضلعی صدور کے درمیان آخر کس طرح مربوط روابط استوار ہو پائیں گے؟۔ کیا ”سارے ووٹ ہمارے“کے خودساختہ تصور برتری کو لیڈرشپ کے دماغ سے کھرچا جا سکتا ہے؟۔ کیا انقلابیوں کی قیادت نے ،خود کو سوچے سمجھے بغیر داغے بیانات تک محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟۔ یہ کس ارتھ شاستری نے باور کروایا ”اب نہیں تو کب“ اور ”ہم نہیں تو کون“ جیسے نعروں کی بدولت کبھی دو تہائی اکثریت بھی حاصل کی جا سکتی ہے؟۔ مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتے قائدین کیوں نہیں بھانپ پائے ، عام لوگوں کے نزدیک عمران خان کی چاہت اور تحریک انصاف سے وابستگی دو علیحدہ علیحدہ سبجیکٹ ہیں۔ خیبر پختونخوامیں آخر وہ کونسا آسمانوں سے اترا ہوا نظام لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں جو پہلا ترقیاتی سال ہی ہڑپ کر چکا ہے؟۔ نوے دن۔۔۔۔پہلے نوے دن میں تھرتھلی مچانے کا عزم پشتون سرزمین پر کیوں دم توڑ رہا ہے؟۔کیا چیلنجز میں گھری شہری سیاست سے کنی کتراتے ہوئے، جوگیوں کی مانند گوٹھوں میں منکوں کی تلاش کو تحریک انصاف نے مستقلا اپنی پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے؟۔منظر عام پر ایک اکیلا عمران خان۔۔۔ اکیلا عمران خان۔۔۔سیکنڈ، تھرڈ حتی کہ فورتھ لیول کی لیڈر شپ تک گمنامیوں کے اندھیروں میں ڈوب رہی ہے۔پارٹی الیکشن سے قبل، جماعتی مقبولیت کا جو طوفان اٹھا، مہینوں ہوئے اس کی گرد تک کلر زدہ زمینوں میں دفن ہوچکی ہے۔ فی الوقت سائیں سائیں کرتی عدم دلچسپی کی ہوائیں اور چار سال کچھ ماہ کی برداشت جیسا دشوار مرحلہ درپیش ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی تنظیمی ڈھانچہ کن افراد کے گرد گھوم رہا ہے؟۔ چند قرابت دار مرد اور اکا دکا ذہین خواتین۔ کون ، کہاں اور کیا پالیسیاں بنا رہا ہے،سوشل میڈیا کے جہادیوں کو بھی علم نہیں۔ مرکزی سطح پر حقیقتا کوئی authoritative باڈی ہوتی تو خیبر پختونخوا میں واضح کارکردگی دکھانے کی حکمت عملی ترتیب پا چکی ہوتی۔ اگر آنے والے چھ ماہ میں تحریک انصاف کوئی بڑا بریک تھرو نہ دے سکی تو آدھی مقبولیت تنقید نگاروں کے زبان و قلم کی نذر ہو جائے گی۔ عمران خان کو مبالغہ آرائی کی حد تک گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اپنی پوزیشنیں بچانے کی خاطر اوپر سے نیچے تک ہر کوئی دھاندلی۔۔۔۔دھاندلی۔۔۔۔اور دھاندلی کے بین ڈال رہا ہے۔ اسی رونے پیٹنے کی منحوسیت متوقع بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کا انجر پنجر ہلا کر رکھ دے گی۔ بنیادی نکتہ یہ ٹھہرا ،اگر کوئی جماعت یا بااثر کہلوایا جانے والا فرد محدود پیمانے پر بلدیاتی پولنگ میں کرپشن بھی نہیں روک سکتا، تو پھر اسے سیاست کرنے کی بجائے مغز حلیم یا گردوں ،کپوروں کی ریڑھی لگا لینی چاہئے۔ دھاندلی بارے اتنا شور کیوں مچایا جا رہا ہے؟ شاید دوپہر کے اس خواب کے ٹوٹنے پر جو زمینی حقائق سے قدرے دوری پر تھا۔ یہ کیسی دھاندلی تھی جو میدان سیاست میں لہو بکھیرنے والی پیپلز پارٹی نے بالآخر ہضم کر لی؟۔ جسے چوہدری شجاعت اور پرویز الہی کے سوااصحاب ق کی اکثریت نے عمل کا نتیجہ سمجھ کر گلے سے لگا لیا؟۔نان ایشوز میں الجھنے سے پہلے ان مرکزی قائدین کی رگ شرارت کا سدباب کیجئے جو کسی صورت صوبوں میں محنت کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہے۔پی ٹی آئی اگر زوال پذیر ہوئی تو ذمہ دار صوبائی قیادتیں ہی ہوں گی۔

صوبوں میں پی ٹی آئی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟۔ لیکن رکئے پہلے یہ فیصلہ کیجئے پی ٹی آئی تنظیمی بنیادوں پر بڑی پارٹیوں میں شمار ہوتی بھی ہے یا نہیں؟۔ بلوچستان اور سندھ، پی ٹی آئی غائب۔ نہ کارکن نہ لیڈر۔ بس آگے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں جھانکنے کی ضرورت نہیں۔ خیبر پختونخوا سراسیمگی اور بدحواسی کا شکار ہو چکا۔ پنجاب میں رہنما ایک دوسرے کو رگڑنے اور پھل فروشوں کا سروے کرنے سے ہی تائب نہیں ہو رہے۔ ایک بزرگ کے ہاں بڑی مشکلوں سے فریج آئی۔ مارے خوشی کے وہ ہر آنے جانے والے کو مبارکباد دیتے اور بار بار فریج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تالی بجاتے۔ انہوں نے ایک دن میں اتنی مبارکبادیں دے ڈالیں کہ رات کمپریسر ہی پٹاخہ مار گیا۔ بزرگ نے گھبرا کر چپکے سے گیلری کی راہ پکڑی اور بیٹا ساری رات نقصان کا تخمینہ لگاتا رہا۔ خیبر پختونخوا میں بھی کچھ ایسا ہی چل رہا ہے۔ کبھی سوشل میڈیا پر کوئی مبارکباد کا شور بلند کرتا ہے کہ جی ایسا نظام آنے والا ہے جو سرکاری ملازمین کی حاضری کو خودکار طریقے سے مانیٹر کرے گا۔ اب چند ٹکوں میں بکتی اس حاضری مشین کا ”عظیم انقلاب“ سے کیا تعلق؟۔ کبھی کوئی جوشیلا یکدم رات کے پچھلے پہر چیخیں مارتا ہواکہتا ہے تبدیلی آچکی ، صرف عقل کے اندھوں کو نظر نہیں آ رہی۔ پٹواری، تھانیدار، بجلی چور، گیسی قزاق، منشیات، اسلحے کے سمگلر سبھی اپنی اپنی جگہوں پر ڈٹے اس تاریخ ساز ضرب کے منتظر ہیں جو نظام بدلنے والے ہتھوڑے سے انہیں لگائی جائے گی۔ صرف سچائی جیسے جذباتی ہتھیار سے معاشرے کے سیدھے سادے افراد کو بلیک میل کرنا کسی صورت انقلاب نہیں۔ یہ ہتھیار بھی اسی وقت کارگر ہوتا ہے جب ذہانت اور محنت کا کمبینیشن بنایا جائے۔ تحریک انصاف کے پاس ایسا کمبینیشن بنانے والے موجود ہیں۔ کیا علیم خان اور عمر ڈار کا کردار نازک وقت میںمالی قربانی دینے تک ہی محدودر ہے گا؟۔ ایسے کارکن بھلا کب تک ساتھ چلیں گے، جن کے اچھے مشوروں پر ناک بھوں چڑھائی جائے ۔ یہ مشورے کیا ہیں؟۔ ضلعوں، تحصیلوں میں کارکنوں کو متحرک کرنا اور نئی شمولیتوں کے لئے ضلعی صدور کو آرام دہ کمروں سے باہر نکالنا۔

 

ضلعی عہدیدار آمریت کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں؟۔ جب ٹاسک، رزلٹ اور احتساب ناپید ہو جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ پارٹی الیکشن جیسے تباہ کن تجربے کی بدولت اوسط ذہانت اور بنجر سیاسی اپروچ کے حامل افراد بڑے عہدوں پر قابض ہوگئے۔ گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور لاہور جیسے چند علاقوں کو چھوڑ کر بقیہ ملک کے تنظیمی عہدیداران ورکنگ کی بجائے بالائی چھت کے پنجرے میں قید کبوتروں کی طرح غٹر غوں کررہے ہیں۔ وہ جماعت بھلا انقلاب کی جانب کامیابی سے کس طرح بڑھ سکتی ہے جس کے پرائمری یونٹس کیڑا لگی کپاس کی مانند اپنا وجود سنبھالنے سے ہی انکاری ہوچکے ہوں۔ پی ٹی آئی کی شکست میںضلعی قیادتوں کے کمزور فیصلوں نے بھی پورا کردار ادا کیا۔اسی طرح پارٹی الیکشن سے قبل افسانوی ممبر شپ کے نام پر پورے نیٹ ورک نے مکمل ڈھٹائی کے ساتھ عمران خان سے غلط بیانی کی ۔ کہا گیا کروڑ سے زائد افراد تحریک انصاف کے ممبر بنائے جا چکے ہیں۔ ثبوت کے طور پر بوریاں بھر بھر کر ممبر شپ کاپیاں اسلام آباد آفس میں جمع کروائی گئیں۔ انہی کاغذ کے ٹکڑوں کی بنیاد پر عمران خان نے کلین سویپ کے دعوے کرنا شروع کر دیے۔اصل حقیقت یہ تھی ساٹھ فیصد ممبر شپ گھروں، دفتروں میں بیٹھ کر کی گئی۔چار پانچ انقلابیوں کا ٹولہ، ایک درجن بال پوائنٹس اور موبائل کمپنیوں سے شہریوں کے کوائف کی لسٹیں۔ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ایسے افراد کو بھی پی ٹی آئی کا ممبر بنا دیا گیا جو سیاست سے دور رہنا پسند کرتے تھے۔ کیا حقیقی انقلابی جماعتیں ،ابتدائی ممبر شپ میں ،اس قدر بہیمانہ طریقے سے ہیرا پھیری کرتی ہیں؟۔ کلچر۔۔۔۔تحریک انصاف کو بھی اپنے کارکنوں میں سرایت کرتے اس آسیبی کلچر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں اکثریت ذاتی مفاد کے سوا کسی نظریے پر یقین نہیں رکھتی۔اسی کلچر کی ایک شاخ کا مفہوم ہے ”ہم سچے دوسرے جھوٹے“۔ نہ بابا نہ ، اس طرح نہیں ، یہ میدان سیاست ہے۔ یہاں فتح اس کی جو مکمل پرفارم کرسکے۔ جو بیک وقت گانا بھی گا سکے اور گلے سے طوطا مینا کی آوازیں بھی نکال سکے۔

 کیا پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدور پرفارم کرنے کے موڈ میں ہیں؟۔ مشکل بہت ہی مشکل، یہ اپنی بقاءکی خاطر ہر ممکن کوشش کریں گے، اگلے انتخابات تک کوئی ایسا بڑا نام شامل نہ ہو پائے جو انہیں چیلنج کر سکے۔ ویسے بھی پنجاب کے تمام ٹکٹ ہولڈرز خود کو یقین دلاچکے ہیں انہیں بذریعہ دھاندلی ہروایا گیا تھا، لہذا اگلی دفعہ بھی ٹکٹ کا حق انہی کا بنتا ہے،اور اگر ٹکٹ انہیں ہی ملنی ہے تو پھر بڑے ناموں اور نئی شمولیتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔ عمران خان اس اپروچ کو مزید پھیلنے سے روکیں۔خان کی حد تک نظریات اور افکار کی سچائی میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن صفوں میں ڈھیر وں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو دن رات تبدیلی کا نعرہ بھی بلند کرتے ہیں اور ساتھ بغل میں” سینکڑوں فٹ لمبا درجن بھر چوڑا“ چمکدار چھرا بھی لگایا ہوتا ہے۔ انقلاب،انقلاب کی باتوں سے دل بہلانے کے بعد وہ یہی چھرہ معاشرے کی کمر میں بھی گھونپتے ہیں، اسی چھرے سے ٹیکس بھی چوری کیا جاتا ہے، ٹکٹیں بھی خریدی جاتی ہیں ، یاروں دوستوں کو بے دردی سے استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ اور آخرمیں پھر سچا کہلوانے کی ضد بھی پوری کی جاتی ہے۔ پوری شرح صدر کے ساتھ کہا جا سکتا ہے اس میں عمران خان کا کوئی قصور نہیں۔ لوگ بھی بڑے عجیب ہیں ۔۔۔۔اتنے عجیب کہ خود تو تبدیل ہوتے نہیں اور پھر عمران خان سے وضاحت طلب کرتے ہیں تبدیلی کیوں نہیں آ رہی۔ تبدیلی آئے گی اور لازما آئے گی۔ لیکن یاد رہے evolution پروسیس مزید سو سال کی قربانی مانگتا ہے،اتنی دیر تک جی بہلانے کو نعرے ہی سہی۔ البتہ یہ دوسری بات ہے نعروں میں لپٹے انقلاب بھی بالآخر سرمایہ داروں کے ہاتھ ہی بکتے ہیں۔ آنے والے ماہ و سال کی تدبیر تحریک انصاف کی پرواز کا فیصلہ کر دے گی۔

مزید : کالم