ماسی کا نفع و نقصان

ماسی کا نفع و نقصان

[بچوں کے لئے لکھی گئی کہانی، جس میں بڑوں کے لئے بھی دعوتِ فکر ہے، اس لئے وہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔]

جب اگلے روز نوراں کام کے لئے آئی تو بیگم قاضی نے اس سے کہا: ”نوراں کل تم نے اچانک اپنی کہانی ادھوری چھوڑ کر چلے جانے کا اعلان کر دیا اور چونکہ تم نے ہسپتال جانا تھا، اس لئے تمہیں روکنا ممکن نہیں تھا۔ تمہارے جانے کے بعد مَیں سوچتی رہی کہ تم نے محض اپنی آپ بیتی کی تمہید ہی سنائی ہے، اصل واقعات تو ابھی باقی ہیں“۔ بیگم قاضی کی بات درست تھی ،مگر نوراں اپنے بارے میں بہت کچھ کہنے اور سننے سنانے کو زیادہ پسند نہ کرتی تھی۔ اس نے مختصر سا جواب دیا: ”محترمہ کہتے ہیں یار زندہ صحت باقی“! اللہ نے چاہا تو ملاقاتیں جاری رہیں گی اور مزید تبادلہ¿ خیالات بھی ہوتا رہے گا۔ مجھے تو اس روز مزا آتا ہے جس روز آپ کی زبان سے سیرتِ نبوی یا صحابہ و صحابیات کے واقعات سنتی ہوں.... بچپن میں مجھے ایک ”خالہ جی“ صحابہ و صحابیات کے واقعات سنایا کرتی تھیں۔ مَیں نے ان سے قرآن پاک پڑھاتھا۔ وہ بے حد نیک اور خدا خوف خاتون تھیں۔ انہوں نے گاﺅں کی تمام بچیوں کو قرآن پاک پڑھایا تھا اور کبھی کسی سے کوئی معاوضہ وصول نہیں کیا۔ گاﺅں کی تمام بچیاں ان کو خالہ جی کہتیں اور ان کا بے حد احترام کرتی تھیں۔ وہ ہر بچی کونصیحت فرمایا کرتی تھیں کہ زندگی بھر نماز روزے کی پابندی کرنا اور ہر نماز کے بعد دعا میں میرے لئے بھی مغفرت و بخشش کی دعا ضرور کرتے رہنا“ ۔

”نوراں! ہمارے معاشرے میں یہ ایک بہت بڑا صدقہ¿ جاریہ تھا۔ اس طرح کے خواتین و حضرات ہمارے معاشرے کا بہت بڑا سرمایہ تھے۔ اب تو ایسے لوگوں کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئی ہیں۔ آج کل اللہ کی رضا کے لئے کسی کو پڑھانے سکھانے کا تصور ہی ختم ہوگیا ہے۔ انسان مشین بن کر رہ گیا ہے۔ مادہ پرستی نے ہماری اعلیٰ اقدار ہم سے چھین لی ہیں اور ہم اندھا دھند مغرب کی بے خدا تہذیب کے پیچھے بھاگے چلے جارہے ہیں۔ اچھا نوراں! یہ بتاﺅ کہ تمہاری شادی کیسے ہوئی اور تمہارے میاں کیا کرتے ہیں“؟ بیگم صاحبہ نے پوچھا۔

نوراں نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا: ”بیگم صاحبہ آپ نے ایک ایسا موضوع چھیڑ دیا ہے، جسے بیان کرنے کی بھی میرے اندر ہمت نہیں.... بہرحال آپ نے پوچھا ہے تو عرض ہے کہ میرے منہ بولے والدین نے میری شادی سے پہلے مجھ سے بھی میری رائے پوچھی۔ جو لوگ میرا رشتہ لینا چاہتے تھے، ان کی شہرت اچھی تھی، مگرکسے معلوم تھا کہ میرا ہونے والا شوہر اندر سے کیسا ہے؟ میری شادی ہوگئی، اللہ نے مجھے یکے بعد دیگرے تین بیٹے بھی عطا کئے۔

 بد قسمتی سے میرا شوہر ایک غلط کارگینگ کے ساتھ شامل ہو کر ڈاکے ڈالنے لگا۔ مجھے علم ہوا تو مَیں بہت پریشان ہوئی، مگر اب مَیں کیا کرسکتی تھی؟ میرے لئے کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ خدا کا بندہ گرفتار ہوا، جیل چلا گیا اور وہاں اس نے نشہ کرنا شروع کر دیا۔ میرا چھوٹا بیٹا تین ماہ کا تھا، جب میرا خاوند جیل گیا۔ جیل ہی میں نشے کی وجہ سے چار سال بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔ اس کے خاندان اور میرے منہ بولے ماں باپ کے پورے خاندان کے لئے یہ بہت بڑا صدمہ بھی تھا اور بدنامی کی وجہ سے بہت زیادہ پریشانی بھی۔ یہ دونوں شریف خاندان تھے۔ اس شخص نے ان کو کہیں کا نہ چھوڑا........سچ کہتے ہیں کہ ایک مچھلی پورے جل(تالاب) کو گندا کردیتی ہے۔ یہ میری زندگی کا دردناک اور نقصان دہ پہلو تھا“۔

نوراں اتنی بات کرکے بے ساختہ رونے لگی۔ بیگم قاضی نے اسے تسلی دی کہ چلو جو قسمت میں تھا، وہ مل گیا، اب تم اللہ سے دعا کرو کہ تمہارے بچوں کو تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور ہاں نوراں! مَیں معذرت خواہ ہوں، مجھے معلوم نہیں تھا کہ تمہاری یہ داستان اتنی دردناک ہے۔ اچھا یہ تو بتاﺅ کہ تم لوگ گاﺅں سے شہر کیسے اور کب منتقل ہوئے“ ۔

نوراں نے اپنے آنسو پونچھ کر کہا: ”بیگم صاحبہ میری ایک بچپن کی سہیلی شہر میں رہتی تھی، اس کے میاں ایک بڑی فیکٹری کے اندر اکاﺅنٹس کے شعبے میں کام کرتے تھے۔ اس نے گاﺅں میں میری حالت دیکھ کر مجھ پر ترس کھایا اور مجھے میرے بچوں سمیت اپنے ساتھ یہاں لے آئی۔ ان کے پاس فیکٹری کے احاطے میں ایک مکان تھا، جس میں ایک کمرہ الگ تھا۔ مجھے اس کمرے میں رہائش دی گئی اور ایک فیکٹری افسر کے گھر میں نے سال بھر کام کیا۔ افسر کی بیگم بہت سخت مزاج اور غصیلی عورت تھی۔ بات بات پر ڈانٹنا، بلکہ بعض اوقات گالیوں تک نوبت پہنچ جانا معمول کی بات تھی۔ بہرحال یہ بھی زندگی کا ایک تجربہ تھا، جوں توں کرکے ایک سال گزرا تو وہ افسر اور میری سہیلی کے خاوند دونوں کا تبادلہ ایک دوسری فیکٹری میں ہوگیا اور وہ ہری پور چلے گئے۔

مَیں نے سوچا کہ اب میرا کیا بنے گا، مگر جانے سے قبل میری سہیلی کے میاں نے ایک اور افسر سے بات کرلی، چنانچہ مَیں اس نئے گھر میں کام کرنے لگی۔ یہاں انہوں نے مجھے نوکروں کے لئے بنے ہوئے چھوٹے سے کوارٹر میں رہنے کی سہولت دی اور گھر کے سارے کام، صفائی سے لے کر باورچی خانے اور کپڑوں کی دھلائی اور استری سے لے کر کار دھونے تک کی خدمات میرے سپرد کردیں۔ یہ نسبتاً ایک نرم خو خاتون تھی ،مگر دن رات کے کسی بھی لمحے حکم صادر کردیتیں کہ اب یہ کام کرو اور اب یہ کام کرو۔ بہرحال کام کا معاوضہ بھی وہ لوگ مجھے پورا دیتے تھے، اس لئے ان کا حکم بے جانہیںکہا جاسکتا“؟....

”جسٹس طفیل کے ہاں تم کیسے پہنچیں“؟.... بیگم صاحبہ نے سوال کیا۔ نوراں نے کہا: ”ہاں تو اس نیک سیرت خاندان کے ہاں میرے جانے کی کہانی بھی عجیب ہے۔ مَیںجس فیکٹری افسر کے گھر میں کام کرتی تھی، ان کی اہلیہ نے مجھے بتایا کہ ان کا تبادلہ ہو گیا ہے ،لہٰذا مَیں اپنے لئے کوئی اور کام ڈھونڈ لوں۔ مَیں اسی تلاش میں تھی کہ جج صاحب کے دفتر میں کام کرنے والے ایک محرر کی بیوی نے مجھ سے کہا کہ جج صاحب بہت نیک آدمی ہیں اور ان کو گھر میں کام کرنے والی ماسی کی ضرورت ہے۔ محرر کا گھر ہمارے گھر کے قریب ہی تھا۔ مَیں ان کے ساتھ جج صاحب کے گھر گئی تو طبیعت خوش ہوگئی۔ وہ دو میاں بیوی تھے اور اس قدر نفیس و مہربان کہ میںتصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ یوں ان فرشتہ صفت انسانوں کی خدمت کا موقع ملا۔ اللہ ان کو بہترین اجر سے نوازے“۔

”اچھا نوراں! تم نے اپنے بچوں کے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں بتائی“۔ بیگم صاحبہ نے پوچھا۔ ”جی محترمہ، اللہ کا شکر ہے کہ مَیں بچوں کی جانب سے بالکل مطمئن ہوں۔ میرا بڑا بیٹا یوسف اس وقت کالج میں بارہویں کلاس میںپڑھ رہا ہے۔ اسے اللہ نے بہت اچھا دماغ دیا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اپنی محنت سےہی اس نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

 طفیل کے بیٹے میجر طارق اسے کبھی کبھار حوصلہ افزائی کے لئے کچھ رقم بھیج دیتے ہیں۔ اپنی تعلیم کے ساتھ وہ اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کی تعلیمی ضروریات کی بھی دیکھ بھال کرتا ہے، جس کے لئے کہیں ٹیوشن پڑھاتا ہے۔ نماز روزے کا اس قدر پابند ہے کہ صبح سویرے اپنے دونوں بھائیوں کو بھی اٹھاتا ہے اور اپنے ساتھ مسجد میں نماز کے لئے لے جاتا ہے۔ میرا دوسرا بیٹا طارق دسویں میں ہے ، وہ بھی بہت محنتی ہے، مگر اپنے بڑے بھائی کی طرح غیر معمولی ذہانت کا مالک نہیں ہے۔ سب سے چھوٹا بیٹا عُکاشہ آٹھویں میں پڑھتا ہے۔ وہ بھی بہت ذہین ہے اور سکالر شپ بھی حاصل کرتا ہے۔ اس کی بینائی کا مسئلہ تھا جو اللہ کے فضل سے عینک لگوانے کے بعد بالکل ٹھیک ہوگیا ہے۔ مَیں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میرے تینوں بیٹے اخلاق و کردار کے لحاظ سے بہت ہی اچھے ہیں۔ یہی میری دولت ہے اور یہی میری زندگی کا نفع بخش پہلوہے “ ۔

بیگم قاضی نے نوراں کی باتیں سنیں تو بہت خوش ہوئیں اور اس سے کہا: ”نوراں سچ پوچھو تو یہی اصل دولت ہے جس سے انسان کو دنیا و آخرت دونوں جگہ نفع ملتا ہے اور دل کو اس سے سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ اللہ تمہارے ہونہار بچوںکو سلامت رکھے۔ تمہیں نقصان کے بعد نفع مل گیا ہے۔ بد قسمتی یہ ہوتی ہے کہ نفع کے بعد نقصان ہوجائے۔ آج مَیں نے ساگ پکایا ہے۔ مجھ سے کبھی ڈھنگ کا ساگ نہیں پک سکا۔ البتہ تم سے اس روز مَیں نے ساگ پکانا سیکھ لیا تھا۔ مَیں نے تمہارے اور تمہارے بچوں کے لئے ایک ڈونگے میں کچھ ساگ ڈال کر الگ رکھ دیاہے۔ جاتے ہوئے وہ لیتی جانا ، پھر میری کارکردگی پر کل تبصرہ بھی ضرور کرنا“.... نوراں نے شکریہ ادا کیا اور کہا: ”محترمہ کھانے کی چیزوں پر کیا تبصرہ کرنا۔ ان کی تعریف ہی کرنی چاہیے ،کیونکہ یہی سنتِ رسول ہے“۔ جانے سے قبل نوراں نے بیگم صاحبہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا:” اچھا محترمہ اب اجازت دیں، کل ان شاءاللہ پھر ملیں گے اور ہاں بیگم صاحبہ! اللہ نے چاہا تو کچھ مزید باتیں بھی کریں گے، مگر مَیں آپ سے بھی کچھ سننا چاہتی ہوں“۔ نوراں نے مختصر سی بات کی۔ بیگم قاضی نے کہا: ”اچھا اس کی باری آئے گی تو دیکھیں گے، پہلے تو آپ ہی سے ابھی کچھ مزید سنناہے “ ۔

Ÿ’¤ œ  š˜ ¢  ›”

û‚ˆ¢¡ œ¥ ž£¥ žœ§¤ £¤ œ¦ ¤í ‡’ Ÿ¤¡ ‚¢¡ œ¥ ž£¥ ‚§¤ ‹˜¢„ª šœŽ ¦¥í ’ ž£¥ ¢¦ ‚§¤ ƒ§ ’œ„¥ ¦¤¡óú

‡‚ ž¥ Ž¢  ¢Ž¡ œŸ œ¥ ž£¥ ³£¤ „¢ ‚¤Ÿ ›•¤  ¥ ’ ’¥ œ¦é þþ ¢Ž¡ œž „Ÿ  ¥ ˆ œ ƒ ¤ œ¦ ¤ ‹§¢Ž¤ ˆ§¢ œŽ ˆž¥ ‡ ¥ œ ˜ž  œŽ ‹¤ ¢Ž ˆ¢ œ¦ „Ÿ  ¥ ¦’ƒ„ž ‡  „§í ’ ž£¥ „Ÿ¦¤¡ Ž¢œ  ŸŸœ   ¦¤¡ „§ó „Ÿ¦Ž¥ ‡ ¥ œ¥ ‚˜‹ Ÿ«¤¡ ’¢ˆ„¤ Ž¦¤ œ¦ „Ÿ  ¥ Ÿ‰• ƒ ¤ ³ƒ ‚¤„¤ œ¤ „Ÿ¦¤‹ ¦¤ ’ £¤ ¦¥í ”ž ¢›˜„ „¢ ‚§¤ ‚›¤ ¦¤¡ýýó ‚¤Ÿ ›•¤ œ¤ ‚„ ‹Ž’„ „§¤ ퟝŽ  ¢Ž¡ ƒ ¥ ‚Ž¥ Ÿ¤¡ ‚¦„ œˆ§ œ¦ ¥ ¢Ž ’  ¥ ’  ¥ œ¢ ¤‹¦ ƒ’ ‹  ¦ œŽ„¤ „§¤ó ’  ¥ ŸŠ„”Ž ’ ‡¢‚ ‹¤é þþŸ‰„ŽŸ¦ œ¦„¥ ¦¤¡ ¤Ž  ‹¦ ”‰„ ‚›¤ýýÚ žž¦  ¥ ˆ¦ „¢ Ÿž›„¤¡ ‡Ž¤ Ž¦¤¡ ¤ ¢Ž Ÿ¤‹ „‚‹ž¦¿ Š¤ž„ ‚§¤ ¦¢„ Ž¦¥ ó Ÿ‡§¥ „¢ ’ Ž¢ Ÿ ³„ ¦¥ ‡’ Ž¢ ³ƒ œ¤ ‚  ’¥ ’¤Ž„ª  ‚¢¤ ¤ ”‰‚¦ ¢ ”‰‚¤„ œ¥ ¢›˜„ ’ „¤ ¦¢¡à ‚ˆƒ  Ÿ¤¡ Ÿ‡§¥ ¤œ þþŠž¦ ‡¤ýý ”‰‚¦ ¢ ”‰‚¤„ œ¥ ¢›˜„ ’ ¤ œŽ„¤ „§¤¡ó Ÿ«¤¡  ¥   ’¥ ›Ž³  ƒœ ƒ§„§ó ¢¦ ‚¥ ‰‹  ¤œ ¢Ž Š‹ Š¢š Š„¢  „§¤¡ó  ¦¢¡  ¥ £¢¡ œ¤ „ŸŸ ‚ˆ¤¢¡ œ¢ ›Ž³  ƒœ ƒ§¤ „§ ¢Ž œ‚§¤ œ’¤ ’¥ œ¢£¤ Ÿ˜¢•¦ ¢”¢ž  ¦¤¡ œ¤ó £¢¡ œ¤ „ŸŸ ‚ˆ¤¡   œ¢ Šž¦ ‡¤ œ¦„¤¡ ¢Ž   œ ‚¥ ‰‹ ‰„ŽŸ œŽ„¤ „§¤¡ó ¢¦ ¦Ž ‚ˆ¤ œ¢ ”¤‰„ šŽŸ¤ œŽ„¤ „§¤¡ œ¦  ‹¤ ‚§Ž  Ÿ Ž¢¥ œ¤ ƒ‚ ‹¤ œŽ  ¢Ž ¦Ž  Ÿ œ¥ ‚˜‹ ‹˜ Ÿ¤¡ Ÿ¤Ž¥ ž£¥ ‚§¤ Ÿ™šŽ„ ¢ ‚Š““ œ¤ ‹˜ •Ž¢Ž œŽ„¥ Ž¦ ýý ó

þþ ¢Ž¡Ú ¦ŸŽ¥ Ÿ˜“Ž¥ Ÿ¤¡ ¤¦ ¤œ ‚¦„ ‚ ”‹›¦¿ ‡Ž¤¦ „§ó ’ –Ž‰ œ¥ Š¢„¤  ¢ ‰•Ž„ ¦ŸŽ¥ Ÿ˜“Ž¥ œ ‚¦„ ‚ ’ŽŸ¤¦ „§¥ó ‚ „¢ ¤’¥ ž¢¢¡ œ¢ ‹¤œ§ ¥ œ¥ ž£¥ ³ œ§¤¡ „Ž’ £¤ ¦¤¡ó ³‡ œž žž¦ œ¤ Ž• œ¥ ž£¥ œ’¤ œ¢ ƒ§ ¥ ’œ§ ¥ œ „”¢Ž ¦¤ Š„Ÿ ¦¢¤ ¦¥ó  ’  Ÿ“¤  ‚  œŽ Ž¦ ¤ ¦¥ó Ÿ‹¦ ƒŽ’„¤  ¥ ¦ŸŽ¤ ˜ž¤½ ›‹Ž ¦Ÿ ’¥ ˆ§¤  ž¤ ¦¤¡ ¢Ž ¦Ÿ  ‹§ ‹§ ‹ Ÿ™Ž‚ œ¤ ‚¥ Š‹ „¦¤‚ œ¥ ƒ¤ˆ§¥ ‚§¥ ˆž¥ ‡Ž¦¥ ¦¤¡ó ˆ§  ¢Ž¡Ú ¤¦ ‚„£¢ œ¦ „Ÿ¦Ž¤ “‹¤ œ¤’¥ ¦¢£¤ ¢Ž „Ÿ¦Ž¥ Ÿ¤¡ œ¤ œŽ„¥ ¦¤¡ýýî ‚¤Ÿ ”‰‚¦  ¥ ƒ¢ˆ§ó

 ¢Ž¡  ¥ …§ Œ¤ ³¦ ‚§Ž¤ ¢Ž œ¦é þþ‚¤Ÿ ”‰‚¦ ³ƒ  ¥ ¤œ ¤’ Ÿ¢•¢˜ ˆ§¤ ‹¤ ¦¥í ‡’¥ ‚¤  œŽ ¥ œ¤ ‚§¤ Ÿ¤Ž¥  ‹Ž ¦Ÿ„  ¦¤¡à ‚¦Ž‰ž ³ƒ  ¥ ƒ¢ˆ§ ¦¥ „¢ ˜Ž• ¦¥ œ¦ Ÿ¤Ž¥ Ÿ ¦ ‚¢ž¥ ¢ž‹¤   ¥ Ÿ¤Ž¤ “‹¤ ’¥ ƒ¦ž¥ Ÿ‡§ ’¥ ‚§¤ Ÿ¤Ž¤ Ž£¥ ƒ¢ˆ§¤ó ‡¢ ž¢ Ÿ¤Ž Ž“„¦ ž¤  ˆ¦„¥ „§¥í   œ¤ “¦Ž„ ˆ§¤ „§¤í ŸŽœ’¥ Ÿ˜ž¢Ÿ „§ œ¦ Ÿ¤Ž ¦¢ ¥ ¢ž “¢¦Ž  ‹Ž ’¥ œ¤’ ¦¥î Ÿ¤Ž¤ “‹¤ ¦¢£¤í žž¦  ¥ Ÿ‡§¥ ¤œ¥ ‚˜‹ ‹¤Ž¥ „¤  ‚¤…¥ ‚§¤ ˜– œ£¥ó

‚‹ ›’Ÿ„¤ ’¥ Ÿ¤Ž “¢¦Ž ¤œ ™ž– œŽ¤  œ¥ ’„§ “Ÿž ¦¢ œŽ Œœ¥ Œž ¥ žó Ÿ‡§¥ ˜žŸ ¦¢ „¢ Ÿ«¤¡ ‚¦„ ƒŽ¤“  ¦¢£¤í ŸŽ ‚ Ÿ«¤¡ œ¤ œŽ’œ„¤ „§¤î Ÿ¤Ž¥ ž£¥ œ¢£¤ ˆŽ¦  ¦¤¡ „§ó ¢¦ Š‹ œ ‚ ‹¦ Žš„Ž ¦¢í ‡¤ž ˆž ¤ ¢Ž ¢¦¡ ’  ¥  “¦ œŽ  “Ž¢˜ œŽ ‹¤ó Ÿ¤Ž ˆ§¢… ‚¤… „¤  Ÿ¦ œ „§í ‡‚ Ÿ¤Ž Š¢ ‹ ‡¤ž ¤ó ‡¤ž ¦¤ Ÿ¤¡  “¥ œ¤ ¢‡¦ ’¥ ˆŽ ’ž ‚˜‹ ’ œ¤ Ÿ¢„ ¢›˜ ¦¢£¤ó ’ œ¥ Š ‹  ¢Ž Ÿ¤Ž¥ Ÿ ¦ ‚¢ž¥ Ÿ¡ ‚ƒ œ¥ ƒ¢Ž¥ Š ‹  œ¥ ž£¥ ¤¦ ‚¦„ ‚ ”‹Ÿ¦ ‚§¤ „§ ¢Ž ‚‹ Ÿ¤ œ¤ ¢‡¦ ’¥ ‚¦„ ¤‹¦ ƒŽ¤“ ¤ ‚§¤ó ¤¦ ‹¢ ¢¡ “Ž¤š Š ‹  „§¥ó ’ “Š”  ¥   œ¢ œ¦¤¡ œ  ¦ ˆ§¢àà’ˆ œ¦„¥ ¦¤¡ œ¦ ¤œ Ÿˆ§ž¤ ƒ¢Ž¥ ‡žâ„ž‚á œ¢  ‹ œŽ‹¤„¤ ¦¥ó ¤¦ Ÿ¤Ž¤  ‹¤ œ ‹Ž‹ œ ¢Ž  ›”  ‹¦ ƒ¦ž¢ „§ýýó

 ¢Ž¡ „ ¤ ‚„ œŽœ¥ ‚¥ ’Š„¦ Ž¢ ¥ ž¤ó ‚¤Ÿ ›•¤  ¥ ’¥ „’ž¤ ‹¤ œ¦ ˆž¢ ‡¢ ›’Ÿ„ Ÿ¤¡ „§í ¢¦ Ÿž ¤í ‚ „Ÿ žž¦ ’¥ ‹˜ œŽ¢ œ¦ „Ÿ¦Ž¥ ‚ˆ¢¡ œ¢ „Ÿ¦Ž¤ ³ œ§¢¡ œ¤ …§ Œœ ‚ £¥ ¢Ž ¦¡  ¢Ž¡Ú Ÿ«¤¡ Ÿ˜Ž„ Š¢¦ ¦¢¡í Ÿ‡§¥ Ÿ˜ž¢Ÿ  ¦¤¡ „§ œ¦ „Ÿ¦Ž¤ ¤¦ ‹’„  „ ¤ ‹Ž‹ œ ¦¥ó ˆ§ ¤¦ „¢ ‚„£¢ œ¦ „Ÿ ž¢ £¢¡ ’¥ “¦Ž œ¤’¥ ¢Ž œ‚ Ÿ „›ž ¦¢£¥ýý ó

 ¢Ž¡  ¥ ƒ ¥ ³ ’¢ ƒ¢ ˆ§ œŽ œ¦é þþ‚¤Ÿ ”‰‚¦ Ÿ¤Ž¤ ¤œ ‚ˆƒ  œ¤ ’¦¤ž¤ “¦Ž Ÿ¤¡ Ž¦„¤ „§¤í ’ œ¥ Ÿ¤¡ ¤œ ‚¤ š¤œ…Ž¤ œ¥  ‹Ž œ£¢ …’ œ¥ “˜‚¥ Ÿ¤¡ œŸ œŽ„¥ „§¥ó ’  ¥ £¢¡ Ÿ¤¡ Ÿ¤Ž¤ ‰ž„ ‹¤œ§ œŽ Ÿ‡§ ƒŽ „Ž’ œ§¤ ¢Ž Ÿ‡§¥ Ÿ¤Ž¥ ‚ˆ¢¡ ’Ÿ¤„ ƒ ¥ ’„§ ¤¦¡ ž¥ ³£¤ó   œ¥ ƒ’ š¤œ…Ž¤ œ¥ ‰–¥ Ÿ¤¡ ¤œ Ÿœ  „§í ‡’ Ÿ¤¡ ¤œ œŸŽ¦ ž „§ó Ÿ‡§¥ ’ œŸŽ¥ Ÿ¤¡ Ž¦£“ ‹¤ £¤ ¢Ž ¤œ š¤œ…Ž¤ š’Ž œ¥ §Ž Ÿ¤¡  ¥ ’ž ‚§Ž œŸ œ¤ó š’Ž œ¤ ‚¤Ÿ ‚¦„ ’Š„ Ÿ‡ ¢Ž ™”¤ž¤ ˜¢Ž„ „§¤ó ‚„ ‚„ ƒŽ Œ … í ‚žœ¦ ‚˜• ¢›„ ž¤¢¡ „œ  ¢‚„ ƒ¦ ˆ ‡  Ÿ˜Ÿ¢ž œ¤ ‚„ „§¤ó ‚¦Ž‰ž ¤¦ ‚§¤  ‹¤ œ ¤œ „‡Ž‚¦ „§í ‡¢¡ „¢¡ œŽœ¥ ¤œ ’ž Ž „¢ ¢¦ š’Ž ¢Ž Ÿ¤Ž¤ ’¦¤ž¤ œ¥ Š¢ ‹ ‹¢ ¢¡ œ „‚‹ž¦ ¤œ ‹¢’Ž¤ š¤œ…Ž¤ Ÿ¤¡ ¦¢¤ ¢Ž ¢¦ ¦Ž¤ ƒ¢Ž ˆž¥ £¥ó

Ÿ«¤¡  ¥ ’¢ˆ œ¦ ‚ Ÿ¤Ž œ¤ ‚ ¥ í ŸŽ ‡ ¥ ’¥ ›‚ž Ÿ¤Ž¤ ’¦¤ž¤ œ¥ Ÿ¤¡  ¥ ¤œ ¢Ž š’Ž ’¥ ‚„ œŽž¤í ˆ  ˆ¦ Ÿ«¤¡ ’  £¥ §Ž Ÿ¤¡ œŸ œŽ ¥ ž¤ó ¤¦¡  ¦¢¡  ¥ Ÿ‡§¥  ¢œŽ¢¡ œ¥ ž£¥ ‚ ¥ ¦¢£¥ ˆ§¢…¥ ’¥ œ¢Ž…Ž Ÿ¤¡ Ž¦ ¥ œ¤ ’¦¢ž„ ‹¤ ¢Ž §Ž œ¥ ’Ž¥ œŸí ”š£¤ ’¥ ž¥ œŽ ‚¢Žˆ¤ Š ¥ ¢Ž œƒ¢¡ œ¤ ‹§ž£¤ ¢Ž ’„Ž¤ ’¥ ž¥ œŽ œŽ ‹§¢ ¥ „œ œ¤ Š‹Ÿ„ Ÿ¤Ž¥ ’ƒŽ‹ œŽ‹¤¡ó ¤¦  ’‚„Ç ¤œ  ŽŸ Š¢ Š„¢  „§¤ ퟝŽ ‹  Ž„ œ¥ œ’¤ ‚§¤ žŸ‰¥ ‰œŸ ”‹Ž œŽ‹¤„¤¡ œ¦ ‚ ¤¦ œŸ œŽ¢ ¢Ž ‚ ¤¦ œŸ œŽ¢ó ‚¦Ž‰ž œŸ œ Ÿ˜¢•¦ ‚§¤ ¢¦ ž¢ Ÿ‡§¥ ƒ¢Ž ‹¤„¥ „§¥í ’ ž£¥   œ ‰œŸ ‚¥ ‡ ¦¤¡œ¦ ‡’œ„ýýîà

þþ‡’…’ –š¤ž œ¥ ¦¡ „Ÿ œ¤’¥ ƒ¦ ˆ¤¡ýýîà ‚¤Ÿ ”‰‚¦  ¥ ’¢ž œ¤ó  ¢Ž¡  ¥ œ¦é þþ¦¡ „¢ ’  ¤œ ’¤Ž„ Š ‹  œ¥ ¦¡ Ÿ¤Ž¥ ‡ ¥ œ¤ œ¦ ¤ ‚§¤ ˜‡¤‚ ¦¥ó Ÿ«¤¡‡’ š¤œ…Ž¤ š’Ž œ¥ §Ž Ÿ¤¡ œŸ œŽ„¤ „§¤í   œ¤ ¦ž¤¦  ¥ Ÿ‡§¥ ‚„¤ œ¦   œ „‚‹ž¦ ¦¢ ¤ ¦¥ 힦½ Ÿ«¤¡ ƒ ¥ ž£¥ œ¢£¤ ¢Ž œŸ Œ§¢ Œ ž¢¡ó Ÿ«¤¡ ’¤ „ž“ Ÿ¤¡ „§¤ œ¦ ‡‡ ”‰‚ œ¥ ‹š„Ž Ÿ¤¡ œŸ œŽ ¥ ¢ž¥ ¤œ Ÿ‰ŽŽ œ¤ ‚¤¢¤  ¥ Ÿ‡§ ’¥ œ¦ œ¦ ‡‡ ”‰‚ ‚¦„  ¤œ ³‹Ÿ¤ ¦¤¡ ¢Ž   œ¢ §Ž Ÿ¤¡ œŸ œŽ ¥ ¢ž¤ Ÿ’¤ œ¤ •Ž¢Ž„ ¦¥ó Ÿ‰ŽŽ œ §Ž ¦ŸŽ¥ §Ž œ¥ ›Ž¤‚ ¦¤ „§ó Ÿ«¤¡   œ¥ ’„§ ‡‡ ”‰‚ œ¥ §Ž £¤ „¢ –‚¤˜„ Š¢“ ¦¢£¤ó ¢¦ ‹¢ Ÿ¤¡ ‚¤¢¤ „§¥ ¢Ž ’ ›‹Ž  š¤’ ¢ Ÿ¦Ž‚  œ¦ Ÿ¤¡„”¢Ž ‚§¤  ¦¤¡ œŽ’œ„¤ „§¤ó ¤¢¡   šŽ“„¦ ”š„  ’ ¢¡ œ¤ Š‹Ÿ„ œ Ÿ¢›˜ Ÿžó žž¦   œ¢ ‚¦„Ž¤  ‡Ž ’¥  ¢¥ýýó

þþˆ§  ¢Ž¡Ú „Ÿ  ¥ ƒ ¥ ‚ˆ¢¡ œ¥ ‚Ž¥ Ÿ¤¡ œ‚§¤ œ¢£¤ ‚„  ¦¤¡ ‚„£¤ýýó ‚¤Ÿ ”‰‚¦  ¥ ƒ¢ˆ§ó þþ‡¤ Ÿ‰„ŽŸ¦í žž¦ œ “œŽ ¦¥ œ¦ Ÿ«¤¡ ‚ˆ¢¡ œ¤ ‡ ‚ ’¥ ‚žœž Ÿ–Ÿ£  ¦¢¡ó Ÿ¤Ž ‚ ‚¤… ¤¢’š ’ ¢›„ œž‡ Ÿ¤¡ ‚Ž¦¢¤¡ œž’ Ÿ¤¡ƒ§ Ž¦ ¦¥ó ’¥ žž¦  ¥ ‚¦„ ˆ§ ‹Ÿ™ ‹¤ ¦¥ó ’ˆ¤ ‚„ ¤¦ ¦¥ œ¦ ƒ ¤ Ÿ‰ „ ’¥¦¤ ’  ¥ ƒ ¤ „˜ž¤Ÿ œ ’ž’ž¦ ‡Ž¤ Žœ§ ¦¢ ¦¥ó

–š¤ž œ¥ ‚¤…¥ Ÿ¤‡Ž –Ž› ’¥ œ‚§¤ œ‚§Ž ‰¢”ž¦ š£¤ œ¥ ž£¥ œˆ§ Ž›Ÿ ‚§¤‡ ‹¤„¥ ¦¤¡ó ƒ ¤ „˜ž¤Ÿ œ¥ ’„§ ¢¦ ƒ ¥ ‹¢ ¢¡ ˆ§¢…¥ ‚§£¤¢¡ œ¤ „˜ž¤Ÿ¤ •Ž¢Ž¤„ œ¤ ‚§¤ ‹¤œ§ ‚§ž œŽ„ ¦¥í ‡’ œ¥ ž£¥ œ¦¤¡ …¤¢“  ƒ§„ ¦¥ó  Ÿ Ž¢¥ œ ’ ›‹Ž ƒ‚ ‹ ¦¥ œ¦ ”‚‰ ’¢¤Ž¥ ƒ ¥ ‹¢ ¢¡ ‚§£¤¢¡ œ¢ ‚§¤ …§„ ¦¥ ¢Ž ƒ ¥ ’„§ Ÿ’‡‹ Ÿ¤¡  Ÿ œ¥ ž£¥ ž¥ ‡„ ¦¥ó Ÿ¤Ž ‹¢’Ž ‚¤… –Ž› ‹’¢¤¡ Ÿ¤¡ ¦¥ í ¢¦ ‚§¤ ‚¦„ Ÿ‰ „¤ ¦¥í ŸŽ ƒ ¥ ‚¥ ‚§£¤ œ¤ –Ž‰ ™¤Ž Ÿ˜Ÿ¢ž¤ ¦ „ œ Ÿžœ  ¦¤¡ ¦¥ó ’‚ ’¥ ˆ§¢… ‚¤… ˜¬œ“¦ ³…§¢¤¡ Ÿ¤¡ ƒ§„ ¦¥ó ¢¦ ‚§¤ ‚¦„ ¦¤  ¦¥ ¢Ž ’œžŽ “ƒ ‚§¤ ‰”ž œŽ„ ¦¥ó ’ œ¤ ‚¤ £¤ œ Ÿ’£ž¦ „§ ‡¢ žž¦ œ¥ š•ž ’¥ ˜¤ œ ž¢ ¥ œ¥ ‚˜‹ ‚žœž …§¤œ ¦¢¤ ¦¥ó Ÿ«¤¡ žž¦ œ “œŽ ‹ œŽ„¤ ¦¢¡ œ¦ Ÿ¤Ž¥ „¤ ¢¡ ‚¤…¥ Šž› ¢ œŽ‹Ž œ¥ ž‰— ’¥ ‚¦„ ¦¤ ˆ§¥ ¦¤¡ó ¤¦¤ Ÿ¤Ž¤ ‹¢ž„ ¦¥ ¢Ž ¤¦¤ Ÿ¤Ž¤  ‹¤ œ  š˜ ‚Š“ ƒ¦ž¢¦¥ ýý ó

‚¤Ÿ ›•¤  ¥  ¢Ž¡ œ¤ ‚„¤¡ ’ ¤¡ „¢ ‚¦„ Š¢“ ¦¢£¤¡ ¢Ž ’ ’¥ œ¦é þþ ¢Ž¡ ’ˆ ƒ¢ˆ§¢ „¢ ¤¦¤ ”ž ‹¢ž„ ¦¥ ‡’ ’¥  ’  œ¢ ‹ ¤ ¢ ³ŠŽ„ ‹¢ ¢¡ ‡¦  š˜ Ÿž„ ¦¥ ¢Ž ‹ž œ¢ ’ ’¥ ’œ¢  ¢ –Ÿ¤    ”¤‚ ¦¢„ ¦¥ó žž¦ „Ÿ¦Ž¥ ¦¢ ¦Ž ‚ˆ¢¡œ¢ ’žŸ„ Žœ§¥ó „Ÿ¦¤¡  ›”  œ¥ ‚˜‹  š˜ Ÿž ¤ ¦¥ó ‚‹ ›’Ÿ„¤ ¤¦ ¦¢„¤ ¦¥ œ¦  š˜ œ¥ ‚˜‹  ›”  ¦¢‡£¥ó ³‡ Ÿ«¤¡  ¥ ’ ƒœ¤ ¦¥ó Ÿ‡§ ’¥ œ‚§¤ Œ§  œ ’  ¦¤¡ ƒœ ’œó ž‚„¦ „Ÿ ’¥ ’ Ž¢ Ÿ«¤¡  ¥ ’ ƒœ  ’¤œ§ ž¤ „§ó Ÿ«¤¡  ¥ „Ÿ¦Ž¥ ¢Ž „Ÿ¦Ž¥ ‚ˆ¢¡ œ¥ ž£¥ ¤œ Œ¢ ¥ Ÿ¤¡ œˆ§ ’ Œž œŽ ž Žœ§ ‹¤¦¥ó ‡„¥ ¦¢£¥ ¢¦ ž¤„¤ ‡  í ƒ§Ž Ÿ¤Ž¤ œŽœŽ‹¤ ƒŽ œž „‚”Ž¦ ‚§¤ •Ž¢Ž œŽ ýýà  ¢Ž¡  ¥ “œŽ¤¦ ‹ œ¤ ¢Ž œ¦é þþŸ‰„ŽŸ¦ œ§ ¥ œ¤ ˆ¤¢¡ ƒŽ œ¤ „‚”Ž¦ œŽ ó   œ¤ „˜Ž¤š ¦¤ œŽ ¤ ˆ¦¤¥ 휤¢ œ¦ ¤¦¤ ’ „ª Ž’¢žø ¦¥ýýó ‡ ¥ ’¥ ›‚ž  ¢Ž¡  ¥ ‚¤Ÿ ”‰‚¦ œ “œŽ¤¦ ‹ œ¤ ¢Ž œ¦éþþ ˆ§ Ÿ‰„ŽŸ¦ ‚ ‡„ ‹¤¡í œž   “£ žž¦ ƒ§Ž Ÿž¤¡ ¥ ¢Ž ¦¡ ‚¤Ÿ ”‰‚¦Ú žž¦  ¥ ˆ¦ „¢ œˆ§ Ÿ¤‹ ‚„¤¡ ‚§¤ œŽ¤¡ ¥í ŸŽ Ÿ«¤¡ ³ƒ ’¥ ‚§¤ œˆ§ ’   ˆ¦„¤ ¦¢¡ýýó  ¢Ž¡  ¥ ŸŠ„”Ž ’¤ ‚„ œ¤ó ‚¤Ÿ ›•¤  ¥ œ¦é þþˆ§ ’ œ¤ ‚Ž¤ ³£¥ ¤ „¢ ‹¤œ§¤¡ ¥í ƒ¦ž¥ „¢ ³ƒ ¦¤ ’¥ ‚§¤ œˆ§ Ÿ¤‹ ’  ¦¥ ýý ó

مزید : کالم