غیر سرکاری تنظیموں کی لازمی رجسٹریشن کا فیصلہ

غیر سرکاری تنظیموں کی لازمی رجسٹریشن کا فیصلہ

حکومت نے غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی تمام مقامی اور غیر ملکی این جی اوز کے لئے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ خود کو اکنامک افیئرزڈویژن میں رجسٹرڈ کروائیں، اپنے بنک اکاﺅنٹس اور ملنے والی امداد کا بھی اعلان کریں۔ اگر این جی اوز پاکستان سے باہر سے جاری ہونے والی معاشی امداد بشمول رقوم ، خدمات او ر سازوسامان پاکستان کے اندر استعمال کرنے کی خواہشمند ہیں تو انہیں حال ہی میں اکنامک افیئرز ڈویژن کی طرف سے جاری کئے گئے نئے اصولوں پر کاربند ہونا پڑے گا۔ غیر ملکی امداد وصول کرنے والی کسی بھی غیر رجسٹرڈ تنظیم کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان این جی اوز کو ایک نظام کے تحت لانے کے لئے ای سی سی کی جانب سے فیصلے کے بعد جاری پالیسی نو ٹیفیکیشن کے مطابق ہر آرگنائزیشن اپنی بیرونی امداد اور اس کے ساتھ وابستہ تمام قواعد و ضوابط اور تمام بنک اکاﺅنٹس ای سی سی کے سامنے واضح کرنے کی پابند ہوگی۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد غیر ملکی اور ملکی این جی اوز کے قابل اعتراض کام پر نظر رکھنا ہے۔

ملک میں غیر ملکی ایجنسیوں کے دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث ہونے اور علاقائی اور نسلی منافرت کو ہوا دینے میں ملوث ہونے کی بنا پر حکومت کا یہ فیصلہ اہم ہے۔ ہماری ایجنسیاں بار ہا اس بات کی نشاندہی کرچکی ہیں کہ دہشت گردی میں ملوث گروہوں اور ملکی سالمیت کے خلاف سرگرم ملکی افراد کو غیر ملکی امداد حاصل ہے ، اس سلسلے میں امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کا نام لیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کو اللہ نے بے حد وسائل سے نوازا ہے۔ ہمارے اپنے معدنی ، آبی اور زرعی وسائل کے علاوہ افرادی قوت بھی عدم توجہی کا شکار ہے۔ قوم و ملک کے لئے حقیقی منافع بخش اور اہم ترقیاتی منصوبوں کی طرف توجہ نہیں دی جارہی ۔ ان کے سلسلے میں معاملہ آگے بڑھتا ہے تو خفیہ ہاتھ ایسے منصوبوں کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ ملکی معدنیات اور زراعت سے بھرپور فائدہ اٹھانے ا ور نئی صنعتوں کے لئے جدید ٹیکنالوجی ملک میں لانے کے لئے ، نئے ڈیم اور پن بجلی کے منصوبے شروع کرنے کے لئے، اورپی آئی اے، سٹیل ملز اور ریلوے جیسے عظیم قومی اداروں کو خسارے سے نکال کر منافع بخش اداروں کے طور پر مضبوط بنانے کے کام کئے جائیں تو اس سے ملکی معیشت کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنیادیں مہیا کی جاسکتی ہیں، ملکی معیشت کو اس کے اصل پوٹینشل کے مطابق متحرک کر دیا جائے ، اس راستے میں حائل بعض لوگوں کی چیرہ دستیوں کا خاتمہ ہو جائے تو پھر ہمیں کسی بھی ملک سے کسی طرح کی مالی امدادکی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اس وقت تک ملک میں پڑھے لکھے اور ہنر مندنوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ ملک میں اسی ارب روپے سے زائد مالیت کی سبزیاں اور پھل ہر سال ضائع ہوجاتے ہیں ۔ نوجوانوں کی کاروباری اور انتظامی سرگرمیوں کو صحیح سمت دی جائے تو وہ پھلوں اور سبزیوں کے علاوہ ملک میں سالانہ اربو ں ر وپے کے ضائع ہونے والے غلہ کو بھی محفوظ کرکے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لئے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ ملک میں قیمتی پتھر وں کے ذخائر کی کل مالیت پورے مڈل ایسٹ کے تیل کی مالیت سے زیادہ ہے۔ اگر ہم اس پتھر کو ضائع ہونے سے بچا لیں اسے نکالنے کے لئے لیزر کٹرز کی جدید ٹیکنالوجی اپنائیں اور اپنے ہاں قیمتی پتھر کی کٹنگ اور پالشنگ کے مراکز قائم کریں تو اپنے لاکھوں نوجوانوں کو اس کاروبار سے روزگار فراہم کرنے کے علاوہ ہم یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں اپنا قیمتی پتھر فروخت کرکے اس کی سو گنا تک زائد قیمت وصول کرسکتے ہیں۔

نئے بندتعمیر کرکے ہم چار کروڑ ایکڑ نئی اراضی کو زیر کاشت لا سکتے ہیں ، موجودہ زرعی پیداوار میں کئی گنا زیادہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ ناممکن نہیں ۔ خود بھارتی ایجنسیوں کے حوالے سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان میںکالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرانے کے لئے سندھ اور خیبر پختونخوا کے سیاستدانوں کے درمیان اربوں روپیہ سالانہ تقسیم کیا جارہا ہے۔ جنرل ایوب خان کے زمانے تک پاکستان میں عالمی ڈونر ایجنسیز کی طرف سے ہمارے ہر طرح کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے صرف متعلقہ سرکاری محکموں ہی کو فنڈز مہیا کئے جاتے تھے جو اپنے محکمانہ نیٹ ورک کے ذریعے ان کے موثر اور مناسب خرچ کے ذمہ دار ہوا کرتے تھے۔ لیکن بھٹو دور میں اس سلسلے میں نرمی کر دی گئی ۔ بہت سے مقامی لوگوں نے غیر ملکی امداد سے نجی سطح پر این جی اوز قائم کرکے صحت، انسانی حقوق، غربت کے خاتمے، خواتین اور بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے کے بہانے کام شروع کیا۔ ان میں سے بعض کو کروڑوں ڈالرز سالانہ کے فنڈز ملنے لگے۔ ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے اس قدر زیادہ ہوگئی کہ ان پر کسی کا نظر رکھنا بھی محال ہوگیا۔ جنرل ضیا ءالحق کے دور میں مغربی ممالک سے جہاد افغانستان کے سلسلے میں تعاون حاصل کیا گیا لیکن یہ سب کچھ آئی ایس آئی کے سپرد رہا۔ کسی حلیف ملک کی خفیہ ایجنسی کومجاہدین کے کسی گروپ سے براہ راست رابط قائم نہیں کرنے دیا گیا۔ لیکن جنرل ضیا ءالحق کی شہادت کے فوراً ہی بعد امریکی سی آئی اے نے جہادی گروپوں سے براہ راست رابطہ قائم کرلیا۔ بھارتی ایجنسی را کو بھی پاکستان میں پرپرزے نکالنے کا موقع ملا۔ پرویز مشرف دور میں امریکی ایجنسی بلیک واٹر اور مختلف دوسری خفیہ ایجنسیوں کو پاکستان میں اپنا نیٹ ورک قائم کرکے سرگرم ہونے کا موقع مل گیا۔ پاکستان کی سلامتی اور ملکی استحکام کے خلاف سرگرم ایسی ایجنسیوں نے اپنے تنخواہ دار لوگوں کا نیٹ ورک زیادہ تر این جی اوز کے ذریعے ہی قائم کیا ۔ این جی اوزجو عالمی ڈونر ایجنسیز کے علاوہ بیرونی خفیہ اداروں سے بھی فندز وصول کرتی ہیں پاکستانی معاشرے میں بہت آسانی سے گھومتی پھرتی اور فلاحی کاموں کے پردے میں اپنے مذموم مقاصد کے لئے کام کرتی ہیں۔

گذشتہ کچھ برسوں میں ان کا پھیلاﺅ اور مشکوک اور منفی سرگرمیاں محب وطن حلقوں کے لئے سخت پریشانی کا سبب رہی ہیں۔ یہ حقیقت بھی سب کے سامنے ہے کہ سچے کھرے پاکستانیوں اور اپنی ثقافت اور اعلی اخلاقی اقدار کے حامی لوگوں کو اس طرح کی عالمی ڈونر ایجنسیز کی طرف سے کبھی کوئی فنڈز نہیں دیئے گئے۔ بعض این جی اوز کے اچھے کاموں کے برعکس ایسا زیادہ تر تنظیموں کے مذموم کاموں ہی کی وجہ سے ہے کہ خیبر پختونخوا اور ملک کے دوسرے علاقوں میں بعض لوگوں کی طرف سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مخالفت کی جاتی ہے۔ ایک زمانے میں سماجی بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں این جی اوز کے کردار کو یہ سمجھ کر قبول کیا گیا تھا کہ سرکاری محکموں میں بری طرح سرایت کرجانے والی کرپشن ( فنڈز میں گھپلے کرنے اور نچلے لوگوں تک کچھ بھی نہ پہنچنے دینے کی بنا ءپر) سرکاری اداروں کی بدنامی کا باعث بن چکی تھی۔ عالمی ڈونرز کی طرف سے بھی یہ جواز پیش کیا گیا کہ وہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے غریب ترین طبقات کے لئے امداد دیتے ہیں لیکن سارے امدادی فنڈز مختلف حیلوں بہانوں سے اوپر کی سطح پر محکموں کے افسروں ہی کی جھولیوں میں پہنچ جاتے ہیں غریب لوگوں کو ان سے فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں مختلف معاشروں میں پہلے سے موجود سماجی خدمت کے لئے مختلف قسم کے کام کرنےوالی تنظیموں کو فنڈز مہیا کرکے ان کے کام کو موثر بنانا اور وسعت دینا ڈونر ایجنسیز کے لئے زیادہ قابل قبول تھا،توقع یہی تھی کہ اس کے بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔ ایک وقت تک ڈونر ایجنسیز کی طرف سے حکومتی نگرانی میں این جی اوز کو فنڈز مہیا کئے گئے یا بیرونی این جی اوز نے خود پاکستان میں یہ کام حکومت کی باقاعدہ منظوری سے شروع کیا ، لیکن یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ اس کے پھیلاﺅ اور وجود کا صحیح ادراک اور شعور حکمرانوں کو بھی نہ رہا۔ پاکستان کی دشمن قوتیں مختلف طریقوں سے ان این جی اوز کی آڑ میں پاکستان میں آکر گھس گئیںاور تیزی سے اپنا کام کرنے اور پاکستان کے لئے خوفناک نتائج پیدا کرنے لگیں۔

حکومت کی طرف سے این جی اوز کے لئے خود کو رجسٹر کرانے کی پابندی اور ان کے اکاﺅنٹس پر نظر رکھنے کافیصلہ بہت اہم ہے۔ جب تک پاکستان مخالف لوگ کھلے عام پاکستان میں دندناتے پھریں گے پاکستان کے کسی بھی مسئلہ کا حل تلاش نہیں کیا جاسکے گا۔ یہ لوگ ہمیں آگے بڑھنے سے روکنے اور ہر طرح کی پسماندگی اور بے بسی سے دوچار کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ۔ پاکستان سے عداوت اور نفرت رکھنے والوں کے لئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئیے۔

جہاں تک ملک کے اندر سے مخیر حضرات سے یا تارکین وطن پاکستانیوں سے فندز حاصل کرکے فلاحی ادارے چلانے اور عوام کی خدمت کرنے والوں کا تعلق ہے ان میں بہت سے نیک نام لوگ موجود ہیں جنہوں نے مثالی کام کئے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھہ ہی ساتھ سینکڑوں فراڈ تنظیمیں بھی لوگوں سے اربوں روپے سالانہ بٹور رہی ہیں۔ بڑے پیمانے پر زکوہ اور صدقات دینے والوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ایسی تنظیموں کے معاملات کی جانچ پڑتال کرسکیں جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اگر ہر طرح کے فلاحی اور خیراتی کام کرنے والے لوگوں کے لئے تنظیم بنانے اور اس کے قواعد و ضوابط اور مقاصد کا تعین کرکے انہیں رجسٹر کرانا ضروری قرار دے دیا جائے اور ان تنظیموں پر یہ پابندی بھی عائد کردی جائے کہ وہ اپنے لئے ہر طرح کے فنڈز صرف کراسڈ چیک کی صورت میں تنظیم کے بنک اکاﺅنٹ ہی میں لیں گے ایک پیسہ بھی اس کے بغیر کہیں سے وصول نہیں کرسکیں گے ، اپنے حسابات کو شفاف اور کھلا رکھیں گے تو پھر ملک کے اپنے مخیر حضرات کے اربوں روپے کا بہتر مصرف ہوسکے گا، جس کے بعد ہمیںعالمی ڈونر ایجنسیز سے فنڈز لینے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔

مزید : اداریہ