مسلم کش گجرات فسادات نے ‘روح‘ ہلاکر رکھ دی تھی: نریندر مودی

مسلم کش گجرات فسادات نے ‘روح‘ ہلاکر رکھ دی تھی: نریندر مودی
مسلم کش گجرات فسادات نے ‘روح‘ ہلاکر رکھ دی تھی: نریندر مودی

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک )بھارتی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کردہ امیدوار نریندر مودی نے کہا ہے کہ گجرات میں ان کی وزارت اعلی کے دور میں ہونے والے مذہبی فسادات نے ان کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ گزشتہ روز اپنے ایک بلاگ میں انہوں نے اس موضوع پر پہلی مرتبہ اس انداز سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ان فسادات کے متاثرین کے غم میں شریک ہیں اور انہیں ان فسادات سے شدید تکلیف پہنچی تھی۔ واضح رہے کہ مودی کو سن 2002 میں ہونے والے ان فسادات کے تناظر میں گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف انتہا ءپسند ہندوں کے انتقامی حملوں کو ان کی آشیرباد حاصل تھی۔ بھارت میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والے یہ فسادات سن 1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد کے سب سے خونریز واقعات تھے، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ اپنے بلاگ میں مودی نے لکھا کہ میں روح کے اندر تک ہل گیا تھا، مجھے صدمہ تھا، غم تھا، دکھ تھا، درد تھا، تکلیف تھی۔ کبھی کبھی لفظ نہیں ہوتے کہ آپ کسی غیر انسانی عمل کو ہوتا دیکھیں، تو آپ کا اندر خالی ہو کر رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جیسے یہ تکلیف میرے لیے حد سے زیادہ نہ ہو، مجھ پر میرے اپنوں، میرے اپنے گجراتی بھائیوں اور بہنوں کے قتل کے الزامات تک لگا دیے گئے۔ واضح رہے کہ فروری 2002 میں ہندو یاتریوں کی ایک ٹرین کو آگ لگائی جانے کے بعد گجرات میں ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے تھے۔ ان فسادات میں مجموعی طور پر ایک ہزار افراد مارے گئے تھے۔

مزید : بین الاقوامی