امن مذاکرات کی خاطر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کیلئے تیار ہیں، شامی صدر

امن مذاکرات کی خاطر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کیلئے تیار ہیں، شامی صدر

دمشق (آن لائن)شامی صدر بشار الاسد نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے تین سال بعد کہا ہے کہ دمشق حکومت امن مذاکرات کی خاطر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے لیے تیار ہے لیکن مغرب نواز اپوزیشن نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ بر طا نو ی خبر رساں ادارے نے دمشق سے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر بشار الاسد نے ماسکو حکومت کی ثالثی میں اپوزیشن کے ساتھ ابتدائی مشاورت کا حصہ بننے کی حامی بھر لی ہے تاکہ امن مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے۔شامی سرکاری ٹیلی وژن نے وزرات خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دمشق حکومت ماسکو میں اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ابتدائی مشاورت کے لیے تیار ہے تاکہ عوامی امنگوں کے مطابق موجودہ بحران کا حل تلاش کیا جا سکے۔یہ امر اہم ہے کہ شام میں قیام امن کے لیے جنیوا میں دو مرتبہ مذاکرات کا انعقاد کیا گیا تھا لیکن یہ ناکام ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں کم ازکم دو لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق شام کے امن مذاکرات میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں کیونکہ شام کے ایک تہائی علاقوں پر قابض زیادہ طاقتور اسلامی انتہا پسند ابھی تک اس لڑائی کے خاتمے کی کسی کوشش میں شامل نہیں کیے گئے ہیں۔دوسری طرف اپوزیشن رہنما اس مخصوص حوالے سے روس کے کردار کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

کیونکہ اس تمام بحران میں کریملن نے ہمیشہ صدر بشار الاسد کی حمایت ہی کی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ روس اس خانہ جنگی میں شامی حکومت کو اسلحہ بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ترکی میں قائم شامی اپوزیشن نیشنل کولیشن نامی گروہ کے سربراہ ہادی البحرہ نے قاہرہ میں عرب لیگ کے چیف نبیل العربی سے گفتگو کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افواہیں تو ہیں لیکن درحقیقت شام میں قیام امن کے لیے کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔البحرہ ںے مزید کہا، ’’روس کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ البحرہ نے جنیوا ٹو مذاکرات کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ شامی حکومت امن مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہی نہیں ہے۔دریں اثناء4 روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ رواں ماہ شامی اپوزیشن کے تمام گروہ شام میں قیام امن کے لیے ایک مشترکہ سوچ اختیار کرتے ہوئے دمشق حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا عمل شروع کریں۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ کون سا اپوزیشن گروہ ان مذاکرات کا حصہ بنے گا۔

مزید : عالمی منظر