آرٹیکل370اور افسپا جیسے کالے قانون پر سمجھوتہ نہیں ہوگا،محبوبہ مفتی

آرٹیکل370اور افسپا جیسے کالے قانون پر سمجھوتہ نہیں ہوگا،محبوبہ مفتی

سرینگر(اے این این)مقبوضہ جموں کشمیر میں آرٹیکل 370آڑے آگیا ،بی جے پی کو مشکلات ،پی ڈی پی صدر نے آرٹیکل 370اور افسپا جیسے کالے قانون پر سمجھوتہ نہ کرنے پر دو ٹوک اوراصولی فیصلہ کرلیا۔پی ڈی پی نے نیشنل کانفرنس سے اتحاد پر غور کرنے کا بھی بتادیا۔مقبوضہ ریاست میں حکومت سازی کو لیکر سیاسی جوڑ توڑ کی کوششوں کی بیچ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے آرٹیکل370کے تحفظ اور آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کی واپسی جیسے بنیادی ایجنڈاپر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل کے معاملے پر کوئی بھی فیصلہ ریاست اور ریاستی عوام کے وسیع تر مفادمیں لیا جائے گا۔اس دوران پارٹی لیڈران کی بیان بازی سے پیدا شدہ انتشار کے پیش نظرپی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اعلان کیا ہے کہ صرف پارٹی ترجمان نعیم اختر کے بیان کو ہی پارٹی کا پالیسی بیان تصور کیا جانا چاہئے۔ ریاست میں فی الوقت نئی حکومت کے قیام کا کوئی فوری امکان نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ ابھی تک کوئی بھی سیاسی پارٹی حکومت بنانے کیلئے کسی دوسری پارٹی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ریاست کے گورنر این این ووہرا نے اگر چہ حکومت سازی کے سلسلے میں صلاح مشورے کیلئے حالیہ انتخابات میں سے بڑی بڑی پارٹیوں کے بطور سامنے آنے والی پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر جگل کشور شرما کو یکم جنوری کے روز راج بھون جموں طلب کیا ہے۔

لیکن فی الحال حکومت سازی کے حوالے سے مختلف سیاسی پارٹیوں کے مابین بات چیت کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اشتراک یا گٹھ جوڑ نہ ہونے کی صورت میں دونوں پارٹیاں حکومت کے قیام کے لئے گورنر سے مزید مہلت طلب کریں گی جبکہ بی جے پی اپنے حمایتی آزاد ممبران کی فہرست بھی گورنر کو پیش کرے گی۔ادھر نئی حکومت کی تشکیل کو لیکر طرح طرح کی اٹکلیوں کے بیچ سب سے بڑی پارٹی پی ڈی پی نے واضح کیا ہے کہ وہ آرٹیکل370اور آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ جیسے حساس معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔معلوم ہوا ہے کہ پارٹی نے بی جے پی کو بھی واشگاف الفاظ میں بتایا ہے کہ ان معاملات پر ٹھوس ضمانت ملنے کے بعد ہی بات آگے بڑھ سکتی ہے۔پارٹی کے ترجمان نعیم اختر نے ایک انٹرویو کے دوران اس بات کی تصدیق کی۔ان کا کہنا تھاابھی تمام آپشن کھلے ہیں ، ابھی تک کسی بھی پارٹی کے ساتھ مل کر نئی حکومت تشکیل دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت سازی کے تمام متبادل راستوں پربی جے پی سمیت مختلف پارٹیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کررہی ہے ۔تاہم انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہاکچھ ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق ہمارے بنیادی ایجنڈا سے ہے ، ان معاملات پر ہمیں اس بات کی ٹھوس یقین دہانی چاہئے کہ جو کوئی بھی پارٹی ہو، اسے یہ معاملات تسلیم کرنے ہونگے۔نعیم اختر نے یہ بات زور دیکر کہی کہ دفعہ370جو ریاست کو خصوصی درجہ دیتی ہے ،کا تحفظ پارٹی کا دیرینہ موقف ہے اور اس پر کسی قسم کاکوئی سمجھوتہ خارج از امکان ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی پی فورسز کو حاصل خصوصی اختیارات سے متعلق قانونافسپا کی واپسی کے اپنے موقف پر قائم اور تنازعہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ایک سیاسی عمل کی شروعات کے حق میں ہے۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا پی ڈی پی نئی حکومت میں باری باری وزیر اعلی کا عہدہ اپنے پاس رکھنے پر غورکرے گی؟تو پارٹی ترجمان نے بتایا کہ ابھی تک دیگر پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کا عمل اس مرحلے میں داخل نہیں ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کانگریس نے بھی حمایت کی پیشکش کی ہے جس پر غور کیا جارہا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی طرف سے غیر مشروط حمایت کی پیشکش کے بارے میں نعیم اختر نے کہا کہ ابھی تک این سی کی جانب سے اس طرح کی کوئی باضابطہ پیشکش موصول نہیں ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھاجب ایسی باضابطہ پیشکش موصول ہوگی تو اس پر یقیناًغور کرکے مستقبل کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ادھر حکومت سازی کو لیکرپی ڈی پی لیڈران کی طرف سے مختلف قسم کی بیان بازی کے پیش نظر پارٹی نے اپنے لیڈران کو بیان نہ دینے کا پابند بناتے ہوئے صرف پارٹی ترجمان نعیم اختر کے پالیسی بیان کو معتبر قرار دیا ہے ۔اس سلسلے میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے سنیچر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ صرف نعیم اختر کوپارٹی کے پالیسی معاملات پرمیڈیا کو بیان دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نعیم اختر کے بیان کو ہی مختلف معاملات پر پارٹی کا پالیسی بیان تصور کیا جانا چاہئے۔محبوبہ مفتی نے کہاموجودہ غیر یقینی سیاسی صورتحال میں میڈیا میں غیر ضروری بیان بازی سے صرف انتشار پیدا ہوتا ہے اور قیاس آرائیوں کو ہوا ملتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ایک ذمہ دار پارٹی ہے اورآئندہ حکمت عملی کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل ان کی پارٹی نہ صرف اپنے کارکنان بلکہ عوام کو ساتھ لیکر چلے گی۔اس ضمن میں پی ڈی پی صدر نے بتایامیں اپنے پارٹی کارکنان اور لوگوں کو اس بات کا یقین دلاتی ہوں کہ جو کوئی بھی فیصلہ لیا جائے گا ، وہ ریاست اور یہاں کے عوام کے وسیع تر مفاد میں لیا جائے گا۔

مزید : عالمی منظر