طاقت کا جواب طاقت

طاقت کا جواب طاقت

نظریات میں بڑی طاقت اور خیالات میں انتہائی قوت ہوا کیے ۔غلط سلط،الم غلم اور فضول و مجہول نظریات و خیالات بھی اگر پرورش و پرداخت کے بعد پنپ جائیں اور طاقت پکڑ لیں تو پھر وہ اونچی اونچی سلطنتوں کا شیرازہ اور بڑی بڑی حکومتوں کا تختہ الٹ پھینک سکتے ہیں ۔ شیخ الجبل کا اپنے فدائیوں کو نظریے کے ساتھ ’’ حشیشین ‘‘ پلا کر سلجوقی سورماؤں سے لوہا لینا ..........ہٹلر کے دماغ میں جرمن نسل کی بہتری و برتری کا سودا سمانا اور دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دینا .......... اہلِ یہود کا یہ خیال خام کہ وہ اللہ کے بر گزیدہ بندے (chosen people) ہونے کے باعث دنیا کی قیادت و سیادت کے سزا وارہیں ،اسی لئے عالمی سطح پراپنی گرفت برقرار رکھنے کے لئے ان کا چالیں چلنا ..........اور طالبان کا بے سرو سامانی کے عالم میں بھی ریاست کی طاقت سے ٹکر لینا ..... اس دعوے کی روشن دلیلیں ہیں ۔

کرہ ارض میں ،کائنات میں جتنی بھی تبدیلیاں آئیں اور آتی ہیں ،وہ خیالات کی طاقت اور نظریات کی قوت ہی کی بدولت معرضِ وجود میں آیا کیے ۔جب کسی جماعت یا جتھے کو سماج میں ........ابنِ خلدون کی زبان میں عصبیت اور میکا ولی کے الفاظ میں طاقت حاصل ہو جائے تو پھر ریاستی قوت سے اسے شکست و مات دینا آسان نہیں ۔سادہ و سہل اور صاف و صریح الفاظ میں سوال اٹھانا چاہئے کہ پھر طالبان سے معاملہ کیسے ممکن ہے ؟محض سوال ہی کفایت نہیں کرتا ۔شائستہ و شستہ اور مہذب و مودب لب ولہجے میں علمائے کرام ،فقہائے عظام ،دانشوروں اور صحافیوں کو اس سوال کی ہتھیلی پر جواب کا سکہ بھی دھرنا چایئے۔

طالبان کی طاقت کا مخرج و منبع دو سمت و جہت پر محیط ہے :نظریاتی طاقت اور عسکری قوت۔نظریات انہیں افرادی قوت مہیا کرتے اور عسکریت انہیں کاری کارروائیوں پر اکسائے ہے ۔ان کے متداول منہج کے چیلنج کا جواب بھی ان کی مروج منڈی میں ہی دیا جا سکتا ہے کہ اس کے بغیر گذارہ اور چارہ نہیں بلکہ درست تر معنوں میں اس کے سوا کوئی دوسراراستہ بھی نہیں ۔نظریات کو مات علمی محاذ پر ممکن ہے اور مسلح کارروائی کا جواب مسلح میدان میں مشکل نہیں ۔با اسالیبِ مختلف یوں کہیے کہ گویا طالبان کو انہی کے سکوں میں ادائیگی کرنا ہو گی ۔اس کے لئے عسکری میدان میں ریاستی طاقت اور نظریاتی محاذ پر دلیل کا ہتھیار استعمال کرنا ضروری ٹھہرا۔ان دونوں محاذوں پر کامیابی کے زینے چڑھے بغیر پُرامن سماج یا ریاست کا خواب .......... محض خواب ہے ۔جاگتی آنکھوں سے دیکھا گیا سپنا ہے ،محض سطحی و سرسری تسلی ہے ۔وقتی تسلی کس کام کی ! عارضی شادابی میں نمو نہیں ہوتی ،پانی کے چند قطروں سے بیج نہیں پھوٹتے،خیال محض جاڑے کی چاندنی ہے ۔

دلدوز اور دلخراش سانحہ پشاور کے بعد عسکری جارحیت اور حکومتی اقدامات کسی فجرِ جدید کی نوید دینے چلے ہیں ،گماں گزرتا ہے سنگدلی و سفاکی اور تباہی و تباہ کاری کی ناؤ کنارے آن لگی ہے ،خونخوار درندوں کے جہاز کا عرشہ لرزا چاہتا ہے ،وحشت و بربریت کے آفتاب کا بے گورو کفن جنازہ از بس افق میں اُٹھا چاہتا ہے ۔سیاسی اور عسکری قیادت کا طالبان کی تفریق و تقسیم کا امتیاز ختم کر کے بلا تخصیص کارروائی کرنے کا عزمِ صمیم اس بات کا اعلان ہے کہ میدان اور محاذ میں قدم اٹھ چکے ۔اب دہشت گردقوموں کو ہمارے قدموں پر گرنا ہو گا۔خصوصی فوجی عدالتوں کا قیام اس امر کا اعلامیہ ہے کہ ریاست کے والی وارث امن کے لئے یکسو اوریکساں ہو چکے ۔البتہ دہشت گردوں کے نظریے اور بیانیے کے باب میں محاذو میدان سنسان اور سونے پڑے ہیں ۔صحافیوں اور دانشوروں کا قافلہ تو افتاں و خیزاں آگے بڑھ کران کی مخالفت اور مزاحمت کر رہا جبکہ علمائے کرام کے منبروں اور فقہائے عظام کے درس و ارشادمیں .......’’یاں خاموشی ہے سب کے جواب میں ‘‘۔

یہ نظریے اور بیانیے بھی عجب ہوتے ہیں ،عجب تر ہوتے ہیں ۔ابتدائے آفرنیش سے تاایں دم انسان نظریوں اور بیانیوں کا خام مال ٹھہرا۔جس طرح انجن کو ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے ،فیکٹریوں اور کارخانوں کو خام مال کی ۔تب مصنوعات بنتیں اور مال تیار ہو کر نکلتا ہے ۔اسی طرح انسان بھی مہم جوؤں کے لئے خام مال کا کام دیتا ہے ۔کبھی تاجِ شاہی کے لئے اس کے کشتوں کے پشتے لگ جاتے ہیں ،کبھی یہ انقلاب کے لئے لاکھوں کی تعداد میں کٹ مرتا ہے اور کبھی جمہوریت اور شریعت کے نام پر زندہ درگور ہو جاتا ہے ۔ہر نظریہ ایک فیکٹری ہے،ہربیانیہ ایک کارخانہ ٹھہرا......جس کے لئے انسانی خون درکارہوتا ہے ۔صد ہائے دریغ کہ انسان تاریخ کے ہر دور میں خام مال کی طرح استعمال ہوتا آیا ہے ۔

جانے کس ستم ظریف نے ’’اچھے طالبان ‘‘ اور ’’ برے طالبان‘‘ کی اصطلاح ایجاد واختراع کی تھی ۔یہ دو مرکبی اصطلاح کے موجد و مختر کو معلوم ہونا چایئے تھا کہ سانپوں ،درندوں اور عفریتوں کی جبلت و سرشت کو اچھے اور برے خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا ۔بچھوؤں کی دم میں نشتر اور سانپوں کے منہ میں زہر کے ذخیرے ........ان میں تقسیم کیسی اور تفریق کیوں ؟ اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردوں کے نظریے اور بیانیے پر بلاخوف لومتہِ لائم تنقیدی نگاہ ڈالی جائے اور پوری جرات سے راست محاکمہ اور صائب محاسبہ کیا جائے ۔جب تک ہم مباحثے کی میز پر ان کا تنقیدی تجزیہ نہیں کرتے ،تب تک ہمیں اس بات کا واقعی اندازہ نہیں ہو سکتا کہ پانی مرتا کہاں ہے ۔

مزید : کالم