منافع خور میدان میں!

منافع خور میدان میں!

یوم پیدائش حضرت عیسیٰ علیہ السلام(کرسمس) خیریت سے گزر گیا۔ سانحۂ پشاور کے بعد غم اور خوف کا ماحول ہے، پاکستان کے عیسائی شہریوں نے احساس کیا اور جتنی سادگی اختیار کر سکتے تھے کی اور دُعائیہ محافل کا بھی انعقاد کیا، حکمرانوں اور انتظامیہ نے معقول حفاظتی انتظامات بھی کئے تھے۔ پاکستان سے باہر عیسائی ممالک میں تو25دسمبر سے یکم جنوری(نئے سال) تک تقریبات جاری رہتی ہیں۔ پاکستان میں بھی نیو ایئر نائٹ کا شوق پورا کیا جاتا ہے۔ اس بار اس کے لئے بھی یہی توقع کی گئی ہے کہ احتیاط کی جائے گی۔ سانحۂ پشاور کے پیش نظر ہو گی۔ یوں بھی عیسوی نیا سال ربیع الاول کے مقدس مہینے میں آ رہا ہے، احترام سب پر واجب ہے۔کرسمس کا ذکر امن و امان کے حوالے سے کیا گیا تاہم ایک دوسرا مقصد بھی ہے وہ یہ کہ ترقی یافتہ اور عیسائی ممالک سے ہمیشہ یہ خبریں موصول ہوتی ہیں کہ ان ممالک کے تاجر کرسمس کے موقع پر سیل لگا دیتے ہیں اور اشیاء ضرورت 50فیصد سے بھی زیادہ سستی کر دیتے ہیں اور پیدائش حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس طرح مناتے ہیں، جبکہ معمول کے مطابق بھی منافع خوری نہیں کی جاتی۔

اب ذرا اپنے مُلک کو دیکھ لیں، ربیع الاول کا مقدس مہینہ، رسول اکرم ؐ پیغمبر آخر الزمان، ختم الرسل ؐ کی آمد مبارک اور ہم نے پٹرولیم سستا ہو جانے کے بعد بھی کسی شے کے نرخوں میں کمی نہیں کی، بلکہ اضافہ ہی کیا ہے۔ اب شوگر اور پولٹری مافیا بھی میدان میں آ گیا ہے۔چینی کے تھوک نرخوں میں کم از کم ڈیڑھ روپے فی کلو اضافہ کیا گیا۔ برائلر انڈے108 روپے درجن سے کم ہو کر99روپے فی درجن تک آئے، ان کو 110روپے درجن کیا گیا اور اب116روپے درجن فروخت ہو رہے ہیں۔ مرغی کے نرخ جو 140 روپے فی کلو تک آ گئے تھے،225روپے فی کلو کر دیئے گئے ہیں، سبزیوں اور پھلوں کی قیمت بھی کم کرنے کی بجائے بڑھائی جا رہی ہے، اچھا سیب 130سے150روپے کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔کیلا جو بہت عام ہے اس کے نرخ بھی 80سے100روپے درجن تک ہیں۔ یہ نرخ ریڑھی بازار کے ہیں۔ لبرٹی اور بیڈن روڈ پر قیمتیں سُن کر ’’ونڈو شاپنگ‘‘ کر لی جاتی ہے۔ خشک میوہ جات کو سردی کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ سے کہیں دور کر دیا گیا ہے۔یہ منافع خور عجیب چیز ہیں۔ آمد مصطفی ؐکا جشن مناتے ہیں، چراغاں کرتے ہیں اور میلاد کراتے ہیں، لیکن اللہ کے بندوں پر رحم نہیں کرتے، جن کے لئے محسن انسانیت ؐ نے احکام دے رکھے ہیں۔ادھر ہمارے حکام اور انتظامیہ کے کل پرزے اپنا وہ کام بھی نہیں کرتے جو اُن کے ذمہ ہے کہ کم از کم مصنوعی مہنگائی تو نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم کریں۔ انسانوں کا کردار کب تبدیل ہو گا، حکومت کے کار پر درازوں کو ادھر توجہ دینا ہو گی۔ دوسری صورت میں عوام کی پریشانی کون حل کرے گا؟

مزید : اداریہ