4 سال گزر گئے لڑکی کو اغوا کرکے قتل کرنیوالے ملزمان کو سزا نہ مل سکی, پولیس پر ملی بھگت کا الزام

4 سال گزر گئے لڑکی کو اغوا کرکے قتل کرنیوالے ملزمان کو سزا نہ مل سکی, پولیس پر ...

 لاہور(کرائم سیل)فیکٹری ایریا کے علاقہ میں شادی سے انکار پرنو جوان نے لڑکی کو قتل کر کے لاش دریائے راوی میں بہادی۔پولیس نے 4سال بعد ملزمان کو گرفتار کیا لیکن عدالت میں چالان کمزور پیش کیا جس کی وجہ سے ملزمان کی ضمانت ہو گئی۔تفصیلا ت کے مطابق فیکٹری ایریا کے علاقہ نظام پورہ کی رہائشی نجمہ فردوس محلہ میں ہی کسی کے ہاں گھریلو ملازمہ تھی۔ان کے گھر میں تصور ،سعید اور یوسف وغیرہ کا آنا جانا تھا،اسی دروان وہ نجمہ فردوس کو اغوا کر کے لے گئے جس کے بعد مغویہ کی والدہ حفیظاں بی بی نے تھانہ فیکٹری ایریا میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر وایا لیکن 4سال تک ملزمان کا کو ئی پتہ نہ چل سکا ۔4سال بعدملزمان گرفتار ہو ئے تو پو لیس نے کیس کاکمزور چالان جمع کر وایاجس کی وجہ سے ملزمان کی ضمانت ہو گئی ۔انویسٹی گیشن آفیسر فاروق رانجھا نے بتایا کہ ملزم کے لڑکی کے ساتھ تعلقات تھے اور لڑکی اس کو ملنے کے لیے بارہ دری آئی تھی جہاں پر ملزم نے اس کو شادی کے لیے کہا لیکن وہ نہ ما نی جس پر ملزم نے اس کا گلا دباکرمو ت کے گھاٹ اتار دیا۔پولیس نے اس کا چالان بالکل درست جمع کر وایا ہے۔مقتولہ کی والدہ ، بہن اور بھائی نے روز نامہ’’ پاکستان‘‘ سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ ملزمان کی ضمانت ہو گئی ہے ،اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو پو را خاندان وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے خود کشی کر لے گا۔

مزید : علاقائی