کچھ کر گزرنے کا وقت

کچھ کر گزرنے کا وقت
 کچھ کر گزرنے کا وقت

  

 وطن عزیز کی آج کل کی صورت حال کے حوالے سے مجھے ایک کہانی یاد آتی ہے جو کبھی پڑھائی تھی کہ ایک شخص اپنے اندر کے خوف سے ڈر کر درخت پر پناہ لیتا ہے۔ وہاں اُسے سب سہولتیں میسر ہوتی ہیں لیکن خوف اسے سونے نہیں دیتا جس قدر وہ ڈرتا ہے اس کے اندر کا خوف بھیڑیے کا روپ دھار کر اسی قدر بڑا ہوتا جاتا ہے بالآخر وہ ہمت کرتا ہے اور اسی درخت کی توڑی ہوئی ٹہنی کے ساتھ اس بھیڑیے کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہاتھی جتنا بھیڑیا ایک شاخ سے مقابلہ نہیں کرپاتا اور دھڑام سے گر جاتا ہے۔ اس طرح درخت پر رہنے والے کو حقیقی آزادی کی دولت نصیب ہوتی ہے ورنہ وہ شخص خوف ہی میں رہتا کہ اس کا بھیڑیا بڑا ہورہا تھا اور درخت زمین میں دھنستا جارہاتھا۔ آج وطن عزیز کو بھی کئی بھیڑیے ڈرا رہے ہیں کوئی یہ نہیں چاہتا کہ سزائے موت دی جائے، کوئی چاہتا ہے کہ ان کی این جی اوز کے خلاف کارروائی نہ ہو، کوئی اسلحے کی پکڑ دھکڑ اور کوئی اپنے پسندیدہ مذہبی یا لسانی عسکریت پسند گروہ کے خلاف کارروائی نہیں چاہتا۔ معاشی میدان میں بجلی پٹرول کو سستا نہ کرنے کے خواہاں بھیڑیے الگ ہیں، اگرچہ ان بھیڑیوں کے پیچھے غیر ملکی آقا ہیں اور مختلف ممالک کے مفادات کی لڑائی ہمارے ملک میں لڑی جارہی ہے۔ ان میں گوادر کا ترقی نہ کرنا، چین کو تجارتی راستہ نہ ملنا، بھارتی بالادستی قبول کرنا، دہشت گردی کی جنگ کو پاکستان منتقل کرنا، ملک کو اندر سے کھوکھلا کرنا جیسے مقاصد کار فرما ہیں لیکن پشاور دھماکے نے جہاں آپس میں دست و گریباں قوم کو معجزاتی طور پر یکجاء کردیا ہے، سیاستدانوں کے تمام مسائل پس پشت چلے گئے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ نے اولین ترجیح حاصل کرلی ہے۔ میڈیا نے بھی پلک جھپکتے ہی قبلہ بدل لیا ہے اور پشاور واقعے کے کلپ بلا تعطل دکھائے جارہے ہیں اور اور ایک فضاء بنائی جارہی ہے۔ اب جب یہ سازگار ماحول میسر آہی گیا ہے تو حکومت کو بھی ان بھیڑیوں کو شکست دینے کے لئے غیر معمولی اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہیں کسی ایک مذہبی، لسانی یا غیر ملکی گروپ کی دھونس میں آئے بغیر ہر دہشت گرد کو پھانسی دی جائے، ایسی تمام این جی اوز جو غیر ملکی فنڈنگ پر چل رہی ہیں پر کڑی نظر رکھنے، جرم ثابت ہونے پر بند کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر ممالک کے باشندے، کرنسی اور ہتھیار پکڑے جانے پر اُن سے باضابطہ احتجاج کی ضرورت ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں دوسرے ممالک کے لئے کام کرنے والے ہمدردی کے خلاف اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوام کو اس سلسلے میں ہاٹ لائن نمبر فراہم کئے جائیں تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرسکیں۔ این سی سی طرز پر شہریوں کو شہری دفاع کی تربیت اور مختلف فرائض پر مامور کیا جاسکتا ہے۔ ان کو بجلی، پٹرول اور دیگر اشیاء میں چھوٹ کے کارڈ تقسیم کئے جاسکتے ہیں جنہیں دکھا کر شہری دفاع میں معاون شہریوں کو اشیاء خوردونوش یوٹیلٹی سٹورز سے پچاس فیصد تک ارزاں دستیاب ہوں، اس طرح آنے والی لاگت یقیناً ہر جگہ پولیس یا فوج کو تعینات کرنے کی لاگت سے کم ہوگی۔ اس طرح ان افراد کی مدد سے حکومت آبادیوں میں جزوی کرفیو لگا کر غیر ملکی باشندوں کو نکال باہر کرے۔ پرانے شناختی کارڈ منسوخ کرے، نئے بنانے کا طریقہ شفاف بنایا جائے تاکہ ہمارے شناختی کارڈ اور سبز پاسپورٹ کی حرمت بحال ہو۔ اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش تو پہلے ہی کی جاچکی ہے۔ رہا امداد دینے والے اداروں یا رعائتیں دینے والے اداروں کے ناراض ہونے کا ڈر تو جناب کوئی بھی دکاندار نہیں چاہے گا کہ اس کا گاہک مر جائے۔ ملک ہے تو اُن کا قرض اور اس پر سود ملنے کی امید ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان بھیڑیوں کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں کیونکہ درخت چھوٹا ہورہا ہے اور بھیڑیے بڑے ہورہے ہیں۔

مزید : کالم