گوگل سے پہلے لوگ سوالوں کے جواب کہاں سے حاصل کرتے تھے ؟انتہائی دلچسپ رپورٹ

گوگل سے پہلے لوگ سوالوں کے جواب کہاں سے حاصل کرتے تھے ؟انتہائی دلچسپ رپورٹ
گوگل سے پہلے لوگ سوالوں کے جواب کہاں سے حاصل کرتے تھے ؟انتہائی دلچسپ رپورٹ

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) آج ہمیں کسی بھی سوال کا جواب چاہیے ہو تو گوگل الٰہ دین کے چراغ کی طرح حاضر ہے جس سے کچھ بھی پوچھیں تو ایک سیکنڈ میں جواب پیش کردیا جاتا ہے، لیکن کبھی آپ نے غور کیا کہ گوگل سے پہلے لوگ اپنے سوالوں کے جوابات کس سے پوچھتے تھے؟اس مقصد کیلئے علم دوست ممالک کے لوگ بڑی بڑی لائبریریوں کو فون کرکے جواب طلب کرتے تھے اور جن کے پاس فون نہ ہوتا وہ لائبریری کے نام خط لکھ دیتے اگرچہ انہیں جواب کچھ ہفتوں کے بعد ہی موصول ہوتا۔ امریکا کی مشہور نیویارک پبلک لائبریری بھی ان اداروں میں سے ایک ہے جس سے لوگ سوالوں کے جوابات مانگتے تھے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی لائبریریوں میں سے ایک ہے جس میں تقریباً 6 کروڑ کتابیں ہیں۔ لائبریری اپنے انسٹا گرام سوشل میڈیا اکاﺅنٹ کے ذریعے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ٹائپ کئے ہوئے سوالات اور ان کے جوابات جاری کرتی رہتی ہے۔ اس اکاﺅنٹ کے ذریعے 1940ءسے 1980ءکے درمیان پوچھے گئے ڈھیروں دلچسپ سوالات آج کی جدید دنیا کے سامنے لائے گئے ہیں۔ ایک سوال 1946ءمیں کسی صاحب کی طرف سے پوچھا گیا اور وہ جاننا چاہتے تھے کہ چوہوں کو مارنے کیلئے بہترین دوا کونسی ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیوبا میں گرین ہاﺅس میں لگانے کیلئے بہترین شیشہ کونسا ہے۔ ایک خاتون نے جاننا چاہا کہ کالی مکڑی زندہ حالت میں زیادہ خطرناک ہے یا مردہ حالت میں۔ ایک خاتون نے پوچھا کہ اگر اس نے پارٹی میں مقررہ وقت سے زیادہ قیام کیا ہے تو میزبانوں کو شکریے کا خط لکھنا چاہیے یا نہیں۔ ایک صاحب نے تو یہ پوچھ لیا کہ کیا افلاطون، ارسطو اور سقراط ایک ہی شخص کے مختلف نام ہیں۔ اگرچہ یہ مزاحیہ سوالات ہیں لیکن لائبریری کو زیادہ تر سنجیدہ سوالات موصول ہوتے تھے۔ یقیناً آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ گوگل کے دستیاب ہوجانے کے بعد بھی لوگ لائبریری سے سوالات پوچھتے ہیں اور اب بھی ہر ماہ تقریباً 1700 سوالات موصول ہوتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر