تحفہ وصول کرنے کے بعد شکریہ کا خط لکھنے کا حیرت انگیز فائدہ تحقیق میں سامنے آ گیا

تحفہ وصول کرنے کے بعد شکریہ کا خط لکھنے کا حیرت انگیز فائدہ تحقیق میں سامنے آ ...
تحفہ وصول کرنے کے بعد شکریہ کا خط لکھنے کا حیرت انگیز فائدہ تحقیق میں سامنے آ گیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) سالگرہ، کرسمس، عیدین اور دیگر اہم تہواروں اور مواقع پر لوگ ایک دوسرے کو تحائف تو بھیجتے ہیں لیکن تحائف وصول کرنے والے اکثر شکریے کا خط لکھنا بھول جاتے ہیں، لیکن جو لکھتے ہیں ان کیلئے خوشخبری ہے کہ اس کا انہیں بہت فائدہ ہوتا ہے۔برطانوی محکمہ ڈاک نے اس بارے میں ایک تحقیق کی ہے جس میں معلوم ہوا کہ 80 فیصد لوگ کہتے ہیں کہ اگر انہیں شکریے کا خط موصول ہوا تو وہ اگلی دفعہ کہیں زیادہ بہتر اور مہنگا تحفہ دیں گے۔ اسی طرح 50 فیصد سے زائد کا کہنا تھا کہ اگر انہیں تحفے کے بدلے شکریے کا خط نہ لکھا گیا تو وہ اگلی دفعہ نسبتاً سستا تحفہ دیں گے، جبکہ 20 فیصد کا کہنا تھا کہ جو لوگ انہیں شکریے کا خط نہیں لکھتے وہ انہیں دوبارہ کبھی بھی تحفہ نہیں دیتے۔اکثر نے بتایا کہ شکریے کے خط سے ان کی مراد یہ ہے کہ محض چند الفاظ میں شکریہ ادا کردیا جائے، یہی بہت کافی ہے۔ تحقیق میں شامل اکثر لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ شکریے کی تحریر دو ہفتے میں موصول ہوجانا ضروری ہے اور اس کے بعد موصول ہونے والے شکریے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگرچہ آپ یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں خط کی کوئی اہمیت نہیں لیکن اس تحقیق نے اس خیال کو غلط ثابت کردیا ہے اور خصوصاً تحائف کے شکریے کیلئے خط کی اہمیت کو بالکل واضح کردیا ہے۔ور میں زیتون کو مذہبی اہمیت حاصل تھی، اگرچہ یہ مذہب اسلام، عیسائیت یا یہودیت سے قبل کے عقائد پر مشتمل تھا اور وہ لوگ زیتون کو خوشحالی، خوش بختی اور ذرخیزی کی علامت سمجھتے تھے۔

مزید : صفحہ آخر