دہشت گرد تنظیمیں امریکہ کی پیداوار ہیں ،مولانا گل نصیب

دہشت گرد تنظیمیں امریکہ کی پیداوار ہیں ،مولانا گل نصیب

 شیرگڑھ (نامہ نگار) جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے قتل وغارت سے اسلام کی اور حکمرانوں کے دینی مدارس پر چھاپوں سے پاکستان کی خدمت نہیں ہورہی ہے داعش ، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں امریکہ کے پیداوار ہیں پشاورکا سانحہ ملا ،پگڑی اور داڑھی کو بدنام کرنے کی گہری عالمی سازش ہے طاقت ، سیکیورٹی ایجنسیاں اور فورسز حکومت کے پاس ہے جب کہیں بھی کوئی دہشت گردانہ واقعہ پیش آتا ہے حکمران سارا نزلہ دینی مدارس پر گراتے ہیں 9/11 کا واقعہ امریکہ میں پیش آیا جبکہ دہشت گردی کی جنگ ہم پر مسلط کی گئی سانحہ پشاورجیسے اندوہناک واقعے کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ ، آئی جی پی اور سی پی او جیل میں ہونے چاہئے تھے وزیر اعلیٰ کو سانحہ پشاور کے نتیجے میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہئے تھا وہ گزشتہ روز میاں عیسیٰ لوند خوڑ کے مقام پر اسیر مالٹا ( مولانا عزیر گل )کانفرنس سے خطاب کررہے تھے کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیراور سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا محمد قاسم ، سابق صوبائی وزیر حافظ اختر علی عزیزی ، تحصیل امیر حافظ محمد سعید ، ممتاز عالم دین علامہ محمد صدیق ، ضلعی سیکرٹری اطلاعات مولانا قیصرالدین اور یو سی میاں عیسیٰ کے امیر مولانا نصیر احمد نے بھی خطاب کیا اس موقع پر سابق ایم پی اے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا امانت شاہ حقانی ، سابق امیدوار پی کے 27 محمد شاہد خان اور جے یو آئی کے دیگر قائدین بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ حکومت نے سانحہ پشاور کے فوراََ بعد دینی مدارس کے خلاف تادیبی کاروائیوں کا جو سلسلہ شروع کیا ہے قابل مذمت ہے حکمران مغرب کے اشاروں پر اسلام اور دینی مدارس کو بدنام کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں یہاں کسی قسم کی دہشت گردی کی تربیت نہیں دی جارہی ہے جو حکمران دینی مدارس کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں وہ پہلے مسلح تربیت دینے والے مراکز کو بند کریں انہوں نے کہا کہ جہاں دینی مدارس، ملا ، داڑھی اور پگڑی کو بدنام کرنے کی گہری سازشیں جاری ہے وہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اور محض دہشت گردی کے قیاس اور گمان پر دینی مدارس کو تادیبی کاروائی کا نشانہ بنانا نظریہ پاکستان کے خلاف ہے

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیادوں میں علماء کا خون پسینہ شامل ہیں اسلام کے نظرئے پر بننے والے ملک کے لئے چلنے والے تحریک کی قیادت اسلام سے بے خبر شخص کے ہاتھوں میں دینا کہاں کا منطق ہے پاکستان کسی کے خواب کے نتیجے میں نہیں بنا بلکہ تحریک پاکستان میں علماء کے خون اور سروں کی قربانیاں شامل ہیں انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء کی بحیثیت جماعت یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ کارکنان کی جذبات صحیح سمت میں استعمال کریں جہاں اور کہیں بھی جذبات کو صحیح سمت میں استعمال میں نہیں لائے گئے ہیں وہاں چلنے والی تحاریک کا نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلا ہے انہوں نے کہا کہ اسلام کا نفاذ اسلحہ کے زور پر ناممکن ہے جب تک اسلام کے نفاذ کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ ریاستی طاقت سے زیادہ طاقت نہ ہوں تو جذبات میں آکر اسلحہ اٹھانا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے پاکستان میں زور اور زبردستی سے اسلام کا نظام نہیں آسکتا ہے بلکہ اس مقصد کے لئے سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنانا ہوگا انہوں نے کہا کہ صوفی محمد سے لے کر آج تک اسلحہ اٹھانے والوں نے اپنے کارکنان کے جذبات کو صحیح سمت میں استعمال نہ کرسکے جس کا نتیجہ پوری قوم بھگت رہی ہے انہوں نے کہا کہ مغرب کا ایجنڈہ ہے کہ دنیا کے وسائل پر قبضہ کرکے دنیا کے تہذیب اور تمدن کا چہرہ مسخ کرنے کے لئے دنیا کو گلوبل ویلج بناسکیں اس مقصد کے لئے آئی ایم ایف ، نیٹو فورسز ،این جی اوز اور میڈیا سرگرم عمل ہیں انہوں نے کہا کہ مصر ، عراق ، لیبیا اور افغانستان اس لئے زیر عتاب آئیں کہ وہ دنیا کے وسائل پر قبضے کے راستے میں رکاؤٹ سمجھے جا رہے تھے انہوں نے کہا کہ ہم جنس پرستی ، زنا اور نکاح کا خاتمہ جیسی کوششیں نوجوان نسل کی بے راہ روی کی کوشش ہے انہوں نے اس موقع پر اسیر مالٹا میاں عزیر گل کاکا خیل کی خدمات اور شیخ الہند کے ساتھ جدوجہد میں قدم قدم پر ساتھ دینے کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آج اگر دنیا کے نقشے پر اسلامیہ جمہوریہ پاکستان موجود ہے تو یہ ان علماء کرام کی خدمات اور جدوجہد کا نتیجہ ہے انہوں نے اس موقع پر اعلان کیا کہ 15جنوری کو پشاور میں امن عامہ اور تحفظ دینی مدارس کانفرنس کا انعقادکیا جائے گا جس میں صوبہ بھر سے لاکھوں کارکنان شرکت کریں گے

مزید : علاقائی