فوجی عدالتیں مخصوص وقت کیلئے اور صرف دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے قائم ہوں گی،پرویز رشید

فوجی عدالتیں مخصوص وقت کیلئے اور صرف دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے قائم ہوں ...

                    اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ماضی میں ملٹری کورٹس جمہوریت کو ختم کرنے کیلئے استعمال کی جاتی تھیں تاہم اس مرتبہ خصوصی عدالتیں جمہوریت، لوگوں کے جمہوری حقوق کے تحفظ اور دہشت گردوں کے ٹرائلزکو یقینی بنائے گی۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں نے ماضی کی تاریخ بالخصوص آمریت کے دور کے حوالے سے جب آئین معطل یا منسوخ تھا کے پس منظر میں خصوصی عدالتوں کے فیصلے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اب یہ عدالتیں پاکستان کے آئین سے اپنا وجود لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عدالتیں مخصوص وقت کیلئے اور صرف دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے مخصوص مقصد کیلئے قائم ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے افغانستان میں امن اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا ہمارے اپنے ملک کیلئے ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے خطہ میںامن و استحکام کے ایشوز پر افغانستان کی قیادت کو ایک ہی پیج پر لانے کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے کیونکہ امن دونوں ممالک کیلئے ایک مشترکہ اثاثہ ہے۔ پرویز رشید نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے انتخابی مہم کے دوران اپنے منشور میں تین ایز شامل کئے جن میں انتہا پسندی کا خاتمہ، توانائی اور معیشت شامل ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران معاشی اور توانائی کے محاذوں پر نمایاں پیش رفت ہوئی تاہم یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی ملک امن کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا اس لئے دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کی خوشحالی کیلئے ضروری ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالتیں صرف دہشت گردی کے کیسز نمٹائیں گی۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتیں اس ایشو پر متحد ہیں اور اس بات کے تعین کیلئے قانون سازی کی جائے گی کہ کس قسم کے کیسز ان عدالتوں کو بھیجے جائیں اور ان کے مینڈیٹ کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مدارس نہ صرف ان طلبائ کو تعلیم دیتے ہیں جو اپنے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے بلکہ ان کی رہائش کی بھی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ بعض عناصر ان کا غلط استعمال کرتے ہیں اور اس لئے مدارس کو تعلیمی دھارے میں لانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک فنڈنگ کا تعلق ہے یہ صرف مدارس تک محدود نہیں کوئی بھی بیرونی ملک سے یا کسی اور غیرقانونی ذریعہ سے فنڈ حاصل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کی جانب سے قائم کردہ ورکنگ گروپ مدارس کی آرگنائزیشن کے ساتھ مشاورت کریں گے تاکہ ایک سسٹم تیار کیا جاسکے جس کے تحت مدارس اپنے امور شفاف طریقے سے چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور کا واقعہ قومی سانحہ تھا اور اس دن سے حکومت اور قومی قیادت پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے نہ صرف پالیسیاں تیار کرنے پر توجہ دے رہی ہے بلکہ ان پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔وزیراعظم اسی روز پشاور پہنچے اور بری فوج کے سربراہ نے کابل کا دورہ کیا جو افغان قیادت کے ساتھ بامقصد بات چیت کے بعد واپس پہنچ گئے۔ مزید برآں نیشنل ایکشن پلان کمیٹی نے سات روز میں اپنی تجاویز مکمل کیں اور ورکنگ گروپوں نے اپنے ٹاسک کی تکمیل کیلئے دو سے تین دن لئے ہیں اس کے علاوہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث مجرموں سزائے موت دی جارہی ہے اس لئے یہ کہنا نامناسب ہے کہ عملدرآمد کا عمل سست ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور پوری دنیا کو اس لعنت سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنا ہے‘ جہاں تک سزائے موت کا تعلق ہے صرف پاکستان ہی وہ ملک نہیں جہاں مجرموں کو سزائے موت دی جاتی ہے، دنیا کے دیگر ممالک اور امریکہ کی بعض ریاستیں بھی مجرموں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور دنیا کو ان فیصلوں کا احترام کرنا ہوگا۔ پرویز رشید نے کہا کہ حکومت کی ترجیح پاکستان کی حفاظت اور تحفظ ہے اور اس مقصد کیلئے تمام اقدامات کئے جارہے ہیں جن میں معصوم بچوں کے قاتلوں کو سخت سزا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔نیکٹا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ متعلقہ اداروں کے درمیان انٹیلی جنس کی شراکت کیلئے ایک میکنزم تیار کرے گا۔ مزید برآں نیکٹا شیئرڈ ڈیٹا کا تجزیہ کرے گا اور اس سلسلے میں فیصلوں پر عملدرآمد کرے گا۔ قومی سیکیورٹی اداروں کی مدد سے ایک میکنزم تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک نظریاتی پہلو کی بھی حامل ہے اور دہشت گردوں کے نظریات کے خاتمے کیلئے میڈیا کو ایک اہم کردار ادا کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گرد عملی طور پر اسلحہ اور گنز سے کارروائیاں کرتے ہیں جبکہ نظریاتی طور پر وہ اپنے نظریات کو فروغ دیتے ہیں جس کا مقصد ایسے ذہن تیار کرنا ہے جو مرنے اور مارنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں جو دہشت گردی کو ایک مقدس مشن تصور کرتے ہیں اور جنت میں جانے کا یقینی ٹکٹ تصور کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قوم کو مستقبل کی نسلوں کو ان غیرانسانی قاتلوں کے شکنجے سے بچانا ہے اگر آج ہم نے سخت اقدامات نہ اٹھائے تو دہشت گرد ملک کو قبرستان بنا دیں گے جس کی کسی قیمت پر اجازت نہیں دی جائے گی۔ آئی ڈی پیز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے آئی ڈی پیز کے گھروں پر قبضہ کیا، انہیں یرغمال بنایا تاہم اب آئی ڈی پیز آزاد ہیں جو جلد اپنے متعلقہ علاقوں میں آباد ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات مسلم لیگ (ن) نے نہیں کرائے بلکہ وہ ایک نگران سیٹ اپ کے تحت ہوئے، حکومت اب بھی سمجھتی ہے کہ اگر کسی کو شک یا تحفظات ہیں اس معاملے کا جائزہ لیا جائے اور کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے۔ پاکستان میں انتخابی نظام شبہات سے بالاتر ہونا چاہئے جس پر سب کا یقین ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں فیصلے کرتی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پارلیمنٹ میں واپس آئیں گے اور جمہوریت اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کیلئے حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے

مزید : صفحہ اول