حضور پاکﷺکی ولادت سے ساری کائنات مستفید ہوئی،امیر محمد اکر م اعوان

حضور پاکﷺکی ولادت سے ساری کائنات مستفید ہوئی،امیر محمد اکر م اعوان

لاہور(سٹاف رپورٹر)حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت سے ساری کائنات مستفید ہوئی مومن تو مومن کافر کو بھی جو دنیاوی نعمتیں مل رہی ہیں ان کا واسطہ بھی حضور ﷺ کی ذات ہے اس میں مسلمان اور غیرمسلم سب شریک ہیںان خیالات کااظہار شَیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ اور تنظیم الاخوان کے امیر حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان نے ایوان اقبال ایجرٹن روڈ میں ہونے والی” بعثت رحمت عالم ﷺ“ کانفرنس کے شرکاءسے اپنے ویڈیو خطاب میں کیا اس موقع پر ناظم اعلیٰ صاحبزادہ عبدالقدیراعوان،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس(ر) خواجہ محمد شریف،خالد محمود چشتی نے بھی خطاب کیا۔ مولانا امیر محمد اکرم اعوان نے کہا کہ یقینا اللہ نے مومنوںپر اور مسلمانوں پر بہت بڑا احسان کیا اس لیے مسلمانوں کو بعثت عالی کو نہیں بھولنا چاہئے ۔انھوں نے کہا کہ جب کلام الٰہی کی کیفیت اللہ کے رسول ﷺ کے قلب اطہر سے ہو کر مومن کے دل میں اترتی ہے تو وہ سارے وجود کا تزکیہ کردیتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ نفاذاسلام کی بہترین مثال خلافت راشدہ کا دور ہے۔

 اس دور میں ریکارڈ فتوحات کے باوجودکسی عورت کی چیخ ،کسی بوڑھے کے آنسو اور نہ کسی بچے کی آہ سننے کو ملتی ہے۔آج ایسی بدامنی ہے کہ گھر گھر لڑائی جھگڑا ،شہرشہر قتل ہورہے ہیں، جنگ کا سماں ہے دوچاردن کے لیے لوگ سوگوار ہوتے ہیںمگر بدلتا کوئی نہیں۔انھوں نے کہا کہ جو شخص خلوص دل سے توبہ کر کے اپنی زندگی کو دین اسلام کے مطابق ڈھال لیتا ہے تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر پوری دنیا میں آگ لگی ہوئی ہو تو تب بھی اس کے دل میں آگ نہیں بلکہ امن اور سکون ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ مومن کو بعثت عالی کی بات کرنی چاہیے جہاں سے کلمہ طیبہ نصیب ہوا،جہاں سے نورایمان عطا ہوا،جہاں سے اسلام کی ابتداءہوئی،جہاں سے بندے کا تعلق اللہ سے قائم ہوا۔ناظم اعلیٰ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ صاحبزادہ عبدالقدیر اعوان نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس ماہ مبارک میں اظہار محبت کے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں جن میں رواجات کو زیادہ فروغ دیا جاتا ہے اور اس بارگاہ کے آداب کا بالکل خیال نہیں کیا جاتا حالانکہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اپنی آواز کو میرے حبیبﷺ کی آواز سے اونچا مت کرو، یہ نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں خبربھی نہ ہو۔اور سب سے بڑا اظہار محبت بندہ ¿ مومن کے اپنے عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی میں تعلیمات نبویﷺ پر عمل پیرا ہے۔ ملک میں موجودہ بدامنی اور انتشار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت تمام سیاسی ودینی جماعتیں جو اپنے ذاتی اختلافات کو بھلاکر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں، اس اتحاد کو آئندہ کیلئے برقرار رہنا چاہیے تاکہ ملک دشمن عناصر جو ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں انکا مقابلہ کیا جاسکے۔ انہوں نے حکمرانوں پر زور دیتے ہوئے کہاکہ جس طرح ان پر پوری قوم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اسی طرح اس بارے میں بھی جواب دہ ہونا پڑیگا اسلیے انہیں جو وقت ملا ہے اسے ملک وقوم کی سلامتی کیلئے وقف کردیں اسی میں انکی بقاءہے۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

مزید : میٹروپولیٹن 1