عامر خان نے مذہبی ”پنڈتوں“ کا پول کھول دیا

عامر خان نے مذہبی ”پنڈتوں“ کا پول کھول دیا
عامر خان نے مذہبی ”پنڈتوں“ کا پول کھول دیا

  

عامر خان کی نئی فلم ”پی کے“ کو بھارتی شہریوں اور خصوصاً مذہبی علماءو تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ اس فلم کے اداکار عامر خان اور ڈائریکٹر راجکمار ہیرانی پر ایف آئی آر بھی درج کرائی جا چکی ہیں۔ ”پی کے“ نے بھلے ہی شائقین اور ناقدین کو متاثر کیا ہے تاہم اس فلم سے بڑی تعداد میں لوگوں کے جذبات بھی مجروح ہوئے ہیں جس کے بعد بھارتی سپریم کورٹ  میں اس فلم پر پابندی کیلئے درخواست بھی دائر کی گئی تاہم اسے یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا گیا کہ ”جس نے فلم نہیں دیکھنی ، وہ نہ دیکھے، یہ فلم بنیادی طور پر مذہبی توہم پرستی کے خلاف ہے“۔ آخر اس فلم میں ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے کروڑوں بھارتیوں کے جذبات مجروح ہوئے اور اس فلم کے ذریعے بھگوانوں کی ”توہین“ جیسے الزامات بھی عائد کئے جا رہے ہیں؟۔

اس کی اصل تفصیل تو آپ کو فلم دیکھنے کے بعد ہی معلوم ہو گی تاہم آپ کو مختصراً یہ بتاتے ہیں کہ فلم میں نام نہاد پنڈتوں، عاملوں اور دیگر مذہبی ”اداکاروں“ کے فراڈ کو کھل کر ناصرف چیلنج کیا گیا ہے بلکہ لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی بھی کی گئی ہے کہ ”صرف اس خدا کی عبادت کریں جس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے، اس خدا نہیں کی جسے پنڈتوں نے بنایا ہے اور جن کی مورتیاں مندروں میں رکھ کر منتیں مانگی جاتی ہیں اور چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں“۔ اس فلم میں عامر خان ”خلائی مخلوق“ کا کردار نبھا رہے ہیں جسے اس دنیا پر ریسرچ کیلئے بھیجا جاتا ہے۔ اس کے گلے میں ایک لاکٹ ہوتا ہے جو ایک طرح کا ریموٹ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی سپیس شپ کو سگنل بھیج کر واپس اپنے سیارے پر جا سکتا ہے۔ ”پی کے“ بھارتی ریاست راجستھان کے صحرا میں اترتا ہے جہاں اس کا ریموٹ چوری ہو جاتا ہے اور یہیں سے فلم کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔

”پی کے“ ریموٹ کی تلاش کیلئے دربدر پھرتا ہے لیکن ہر شخص اسے یہی کہتا ہے کہ ”تمہارا کام تو بھگوان ہی کر سکتا ہے“۔ اس کے بعد لاکٹ کی تلاش کیلئے ”پی کے“ پنڈتوں کے ”ہتھے“ چڑھ جاتا ہے جو اسے طرح طرح کے ”ٹوٹکے“ بتاتے ہیں اور تپسیا (عبادت) کراتے ہیں، ”پی کے“ جگہ جگہ ماتھا ٹیکتا ہے ، کبھی ننگے پاﺅں مندر جاتا ہے تو کبھی پلٹیاں مار مار کر، غرض یہ کہ ہر وہ کام جو کوئی بھی توہم پرست کرنے کو تیار ہو جاتا ہے ، ”پی کے“ بھی کرتا ہے لیکن اس کا ریموٹ نہیں ملتا۔ ”پی کے“ ایک مندر جانے سے پہلے باہر موجود دکان سے بھگوان کی مورتی کی قیمت پوچھتا ہے تو اسے مختلف مورتیوں کی مختلف قیمتیں بتائی جاتی ہیں جس پر وہ بھولا بھالا ”ایلین“ یہ بھی نہیں سمجھ پاتا کہ ” کیا 20 روپے والے ”بھگوان“ بھی 100 روپے والے ”بھگوان“ جیسا ہی کام کریں گے یا پھر بھگوان کا سائز اور قیمت بھی کام کی مناسب سے ہونی چاہئے؟ “

فلم کی ڈائریکشن اور عامر خان کی اداکاری کے باعث ناصرف مذہبی توہم پرستی کی تلخ حقیقتیں بے نقاب ہوتی ہیں بلکہ نام نہاد ”پنڈتوں“، ”بابوں“ ، ”پادریوں“ اور فراڈیوں کے بارے میں بھی دیکھنے والوں کو حقیقی معنوں میں آگاہی ملتی ہے۔ کوئی بھی باشعور شخص یہ فلم دیکھنے کے بعد اس بات پر یقین کر لے گا کہ خدا کو خوش کرنے کیلئے کسی چڑھاوے یا منتوں کی ضرورت نہیں بلکہ انسان ”ڈائریکٹ“ خدا سے رابطے میں رہ سکتا ہے اور اپنے اچھے اعمال اور اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چل کر اسے با آسانی راضی کر سکتا ہے اور اس کام کیلئے زمین پر موجود خدا کے ”منیجروں“ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

”پی کے“ کا لاکٹ ایک مشہور ”پنڈت“ جس کا نام ”تپسوی“ ہے، کے پاس پہنچ جاتا ہے جو اسے بھگوان کا ٹوٹا ہوا ”منکا“ بتا کر توہم پرست لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتا ہے اور ہر جائز و ناجائز کام کرتا ہے۔ ”تپسوی جی“ کسی بھی شخص کے مسئلے کا حل بتانے کیلئے ڈرامائی انداز میں آنکھیں بند کرتا ہے اور ہوا سے باتیں کر کے لوگوں کو یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ بھگوان سے پوچھ کر ہی سب مسئلوں کے حل بتاتا ہے۔ ”پی کے“ سمجھتا ہے کہ تپسوی جب بھگوان سے کال ملاتا ہے تو کال ریسیو کرنے والا بھگوان کا ”آپریٹر“ فراڈ کرتا ہے لیکن جلد ہی اسے یہ پتا چل جاتا ہے کہ فراڈیا اصل میں ”تپسوی“ اور اس طرح کے تمام پنڈت ہیں جو لوگوں کو ورغلانے کیلئے ایسی شعبدہ بازیاں کرتے ہیں۔

اس فلم میں پنڈتوں، عاملوں اور ایسے ”بابوں“ کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے جو مذہب کی آڑ میں مجبور اور توہم پرست لوگوں سے نا صرف مال بٹورتے ہیں بلکہ ان کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر طرح طرح کے غیر قانونی کام بھی کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ”پی کے“ نے پنڈتوں، عامل اور ان کے ماننے والوں کے دل تو مجروح کئے ہیں لیکن اس سے کسی عام شہری کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ فلم واقعی ”توہم پرستی“ کے خلاف ہے، مذہب کے نہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ یہ فلم اب تک کامیاب ہے اور لوگ اسے دیکھنے کیلئے سینماﺅں کا رخ کر رہے ہیں۔

مزید :

بلاگ -