بے نظیربھٹو کو خراجِ عقیدت

بے نظیربھٹو کو خراجِ عقیدت
 بے نظیربھٹو کو خراجِ عقیدت

  

جیسے دہشت گردی کی لپیٹ میں آنے کے بعد آج ہر کوئی دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آواز بلند کر رہا ہے، لیکن اب بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ جنرل ضیائالحق کی پالیسیوں کا ثمر ہے اور جنرل ضیائالحقکی باقیات کی موجودگی میں دہشت گردی سے نجات ممکن نہیں۔ اسی طرح کرپشن کا رونا بھی ہر کوئی رو رہا ہے، لیکن بھول جاتا ہے کہ اس ملک کی سیاست میں کرپشن اتاری کس نے تھی؟ کیا یہ سچ نہیں روٹ پرمٹ اور بلدیاتی کونسلروں کے روٹ خریدنے کی ابتدا جنرل ایوب خان نے کی تھی ،نیز ریاستی طاقت اور پیسے کی قوت سے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ یہی حال انتخابی دھاندلیوں کا ہے، اس کی ابتداء بھی منظم شکل میں ایوبی دور میں ہوئی۔ مادر ملت کی شکست اسی کا شاخسانہ تھی۔ ورنہ اس سے پہلے الیکشن کروانے والی حکومت الیکشن ہار بھی جاتی تھی،لیکن جنرل ایوب کے بعد حکومت وقت کی انتخابی شکست قصہ پارینہ ٹھہری۔طویل عرصہ کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت میں منعقد انتخابات میں حکومت وقت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح آج لیڈرشپ کے فقدان کا نوحہ بھی ہر محفل میں سننے کو ملتا ہے، لیکن کوئی اس پر غور و فکر نہیں کرتا کہ ہماری سیاست سے قد آور رہنما ناپید کیوں ہو گئے ہیں؟27 اکتوبر کے سیاہ دن کے قریب آتے ہی مجھے خیال آیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر اس سوال کو قوم کے سامنے رکھا جائے اور اپنی سوچ کے مطابق اس کی وجوہات کو بھی سامنے لایا جائے۔ ممکن ہے اس بحث سے پاکستانی سیاست کے دیوالیہ پن کو سمجھنے میں آسانی ہو۔پچھلے پچاس پچپن سال سے ہماری اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کے مقدس فرض کو انجام دے رہی ہے۔ قائداعظمؒ اور لیاقت علی خان سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو تک ہم نے کتنے بین الاقوامی قد کاٹھ کے لیڈر مارے ہیں۔ مارشل لاء کے زیر سایہ کتنے بونوں کو لیڈر کے طور پر قوم پر مسلط کیا ہے اور ان میں سے بھی جس کا قد کاٹھ بنااس کو بھی کس طرح نشان عبرت بنایا ہے۔ اس پر غور کر لیجئے اور پھر سوچئے اب یہ رونا کیوں؟ سیاسی رہنما وہ جیسے بھی ہیں ، ان کا احتساب تو عوام کے ہاتھوں ہونا ہی ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ ، مارشل لاء، فوجی آمر، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور نجانے کون کون سے ادارے ہر لمحہ اس کام میں مصروف ہیں، مگر وہ جو سیاست دانوں کو ہر برائی کی جڑ قرار دیتے ہیں، ان کا کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود کہ خود اپنا بنایا ہوا آئین توڑیں یا آئین کی موجودگی میں آئین کی تضحیک کریں۔ ملک توڑیں یا جمہوری ادارے، عوامی امنگوں کا خون کریں یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، انسانی جانوں سے کھیلیں یا ملکی سلامتی سے۔ آج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معمولی سے معمولی کامیابی کا سہرا بھی ہر کوئی اپنے سر پر باندھنا چاہتا ہے، مگر ان دہشت گردوں کو تیار کرنے، مسلح کرنے کی ذمہ داری کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔جن دہشت گردوں نے ہمارے ہزاروں معصوم لوگوں کی جان لی ہے، ان کا تیار کرنے والوں کا احتساب کب ہوگا؟

محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کرکے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ Truth and Reconcilliation Commission بنائیں گے۔ میثاق جمہوریت کی بہت سی شقوں پر پیپلزپارٹی کے دور میں عمل ہو چکا ہے۔ میاں نوازشریف بھی اپنی بھرپور قوت سے مفاہمتی عمل کوآگے بڑھا رہے ہیں اور 1990ء کی دہائی والی سیاست کے احیاء کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ محترمہ کی شہادت کے ذمہ داروں کا آج تک فیصلہ نہیں ہوا۔آج ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان کے لئے خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کیا جا رہا ہے، لیکن جہاں اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے والے سیاست دانوں کی خدمت کا اعتراف کیا جاتا ہے، وہاں اسی سانس میں موجود سیاست دانوں کو گالیاں بھی دی جاتی ہیں، انہیں عوام دشمن، ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ گو تاریخ اپنے فیصلے صادر کر رہی ہے اور تاریخ ہی نے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کوحب الوطنی کی سند عطا کی ہے۔

1973ء کے آئین سے لے کر ایٹمی پروگرام تک سب پر ذوالفقار علی بھٹو کا نام ثبت ہو چکا۔ ویسے تو آپ کسی بھی سویلین ادارے کی بنیاد تلاش کریں تو ان میں سے اکثریت بھٹو کی رکھی ہوئی ملیں گی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے میزائل ٹیکنالوجی کا حصول اور جمہوری رویوں سے وابستگی آج سب مانتے ہیں۔ عوام سے اپنے تعلق کو مضبوط بنانے اور جمہوریت کو آگے بڑھانے میں انہوں نے جان کی بازی ہار دی اور آج قوم اس کا اعتراف کرتی ہے۔اس سب کے باوجود سیاست دانوں کو گالی دینا ایک فیشن بن گیا ہے۔ یاد رہے کہ فوجی آمروں کے دور میں بھی کسی کھلی عدالت میں کسی بھی سیاست دان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ شیخ مجیب الرحمن اور خان کے خلاف الزامات بھی ثابت نہیں کئے جا سکے، مگر پھر بھی سیاستدانوں کو بُرا کہنا عادت بن گئی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ Truth and Reconcilliation Commonion (سچائی اور مفاہمت کا کمیشن) بنایا جائے، جس کی تمام دستاویز تک رسائی ہو، تاکہ سچ لوگوں کے سامنے آ سکے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ سب سے احسن اقدام ہوگا۔ ویسے تو میاں نواز شریف مقروض ہیں، اس وعدے کے جو انہوں نے محترمہ کی لاش کنارے کھڑے ہو کر ان کا مشن پورا کرنے کا کیا تھا۔ میری میاں صاحب سے درخواست ہے کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم یہ وعدہ تو پورا کر دیجئے جو قوم کے ساتھ آپ کا اورمحترمہ بے نظیر بھٹو کا مشترکہ وعدہ ہے اور یہ بے نظیربھٹو کے لئے بے نظیر خراج عقیدت ہو گا۔

مزید :

کالم -