افغانستان میں داعش کے اثرورسوخ پر اظہار تشویش

افغانستان میں داعش کے اثرورسوخ پر اظہار تشویش

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر پاکستان روس اور چین کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے افغان طالبان رہنماؤں پر پابندیاں نرم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے اور افغان مسئلہ کے حل کے لئے آئندہ ہونے والے مذاکرات میں افغانستان کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ افغانستان میں غیر ملکی مداخلت کے حوالے سے کابل انتظامیہ ہی نہیں، اس کے ہمسایہ ملکوں کے لئے نت نئے مسائل سنگین صورت میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ اگرچہ ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کے بعد کابل انتظامیہ کو باقاعدہ بریفنگ نہیں دی گئی لیکن یہ بات حوصلہ افزأہے کہ اس مسئلہ پر آئندہ ہونے والے اجلاس میں کابل انتظامیہ کو بطور خاص شامل کیا جائے گا۔ اس معاملے میں تشویشناک پہلو تو یہ ہے کہ افغانستان میں داعش کے اثرورسوخ کے بارے میں بعض واقعات کی وجہ سے کئی کہانیاں سننے کو ملتی رہی ہیں تاہم باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ داعش کا اثر ورسوخ اتنا زیادہ بھی نہیں کہ فوری طور پر خطے کے ممالک تشویش میں مبتلا ہو جائیں۔ افغانستان میں داعش کے ایجنٹ اور رابطہ کار تو ہو سکتے ہیں، جن سے اتنا زیادہ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ دہشت گرد تنظیم داعش کے حوالے سے روس، چین اور پاکستان کی تشویش فطری ہے، اس مسئلہ کو پہلی فرصت میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ طالبان رہنماؤں پر پابندیاں نرم کرنے کی تجویز درست ہے تاکہ طالبان اپنی توانائیاں داعش کے حوالے کر کے تخریبی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا کوئی سلسلہ شروع نہ کرسکیں۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے تازہ ترین موقف سے واضح ہو گیا ہے کہ اگر خطے کے ملکوں کی طرف سے امریکہ کو مداخلت سے باز رکھنے کے لئے کوئی اتحاد بنایا گیا یا کوئی اشتراک عمل پر پیش رفت ہوئی تو افغان طالبان اسے مثبت عمل سمجھیں گے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ داعش کو اپنا اثر ورسوخ بڑھانے سے روکنے کی موثر حکمت عملی کو حتمی شکل ضرور دے دی جائے۔ داعش کے حوالے سے کوئی بھی کارروائی (چھوٹی یا بڑی) قابل برداشت نہیں ہو نی چاہئے۔ صورت حال کا تقاضا ہے کہ افغانستان کے مشرقی حصوں یا ملحقہ علاقے، داعش کو وار کرنے کا کوئی موقع نہیں ملنا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -