بڑے نواب صاحب انور قدوائی کی یاد میں

بڑے نواب صاحب انور قدوائی کی یاد میں
 بڑے نواب صاحب انور قدوائی کی یاد میں

  



وہی گلیاں تھیں، اُن کی گلی بھی وہی تھی، اُس گلی میں اُن کا گھر اور اس کے درو دیوار بھی وہی تھے۔ گھر کے باہر بڑی تعداد میں دوست احباب بھی موجود تھے۔ سب لوگ ان کی ہی باتیں کر رہے تھے جبکہ وہ اپنے گھر کے اندر جسدِ خاکی پر سفید کفن اوڑھے منتظر تھے کہ جنازہ کب اٹھایا جائے گا۔ جی ہاں۔۔۔ ہم انور قدوائی کا ذکر کر رہے ہیں۔ جمعہ کی شام اچانک ان کی طبیعت خراب ہوئی تو ان کے صاحبزادے انہیں گاڑی میں لے کر شیخ زید ہسپتال روانہ ہوئے لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ہی انور قدوائی کی روح پرواز کر گئی اور یوں ایک اچھے انسان کی شاندار صحافتی اننگز اختتام کو پہنچی۔ لاہور پریس کلب سے موبائل فون پر ان کے انتقال کی خبر ملی تو ہم نے حیرت اور صدمے کی کیفیت میں اپنے اللہ سے دعا مانگی ’’اللہ پاک، انور قدوائی کے ساتھ برسوں پرانی تعلق داری میں اگر مجھے اُن سے کوئی گلہ شکوہ پیدا ہوا یا کسی حوالے سے میرا ان پر کوئی بوجھہے، تو میں نے سب کچھ معاف کیا، پیارے اللہ پاک آپ بھی معاف فرما دیں!‘‘

انور قدوائی سے ہماری ملاقاتوں کا آغاز 1978ء کے اوائل میں ہوا۔ روزنامہ ’’امروز‘‘ سے ہم نے صحافت کا آغاز کیا تھا۔ اپنے صحافتی کیرئیر کے ابتدائی چھ سال راولپنڈی، اسلام آباد اور ایک سال سپیشل ڈیوٹی 1977ء کے عام انتخابات اور پھر پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی تاریخی تحریک نفاذ نظام مصطفی ؐ کی کوریج کے لئے ملتان میں قیام پذیر رہنے کے بعدہم لاہور آئے تو جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء شباب پر تھا ہمیں ایک اور سپیشل ڈیوٹی کا ’’پروانہ‘‘ تھما دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کا سپیشل بینچ تشکیل دے کر احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ شروع کیا گیا تھا۔ ہماری سپیشل ڈیوٹی اس مقدمے کی کوریج کرنا تھی۔ ہمیں منیر نیازی کا یہ شعراکثر یاد آیا کرتا تھا۔

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

مَیں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

بھٹو صاحب کو لاہور ہائیکورٹ کے سپیشل بنچ نے سزاے موت کا حکم سنایاتو اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی جس کی سماعت اسلام آباد میں ہونے لگی تو ہماری رپورٹنگ کی ذمہ داریوں میں سے بھٹو کیس خارج کر کے دو تین سیاسی و دینی جماعتوں اور شہری تقریبات (پریس کانفرنسوں، سیمیناروں اور جلسوں کی کوریج) کو شامل کر دیا گیا۔ ایسی ہی تقریبات میں انور قدوائی سے ہفتے میں کئی بار ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے سجاد کرمانی جو بعدمیں ’’نوائے وقت‘‘میں چلے گئے، عموماً قدوائی صاحب کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ ایک تقریب میں وہ نوٹس نہیں لے رہے تھے۔ ہمارے پوچھنے پر بتایا کہ چیف رپورٹر صاحب نے میری ڈیوٹی نہیں لگائی مگر (سجاد کرمانی کی طرف اشارہ کرکے بتایا)’’ چچاّ‘‘ نے کہا کہ میرے ساتھ رہو تو میں ان کی محبت میں بیٹھا ہوا ہوں۔(وہ کبھی کبھی دوستوں اورملنے والوں کو لاڈ پیار میں ’’چچاّ‘‘ کہا کرتے تھے)۔ ان کی اس بات سے ہمیں انور قدوائی تعلق نباہنے والے دوست لگے۔

مختلف سیاسی اور شہری تقریبات کی کوریج کے لئے ہمارا اور انور قدوائی کا ٹیلی فون پر رابطہ رہتا۔ وہ کبھی فرمائش کرتے کہ بھئی ممتاز میاں آپ ہمارے ’’نوائے وقت‘‘ کے دفتر آ جاتا، آپ کے موٹرسائیکل پر ہم اکٹھے فنکشن میں جائیں گے۔ ان دنوں ہمارے پاس موٹرسائیکل تھی، قدوائی صاحب آٹو رکشہ استعمال کرتے یا اپنے کسی سیاسی یا کاروباری دوست کی گاڑی منگوا لیا کرتے تھے۔ ہم نے کچھ عرصے بعد اپنی ضرورت کے تحت نیا سکوٹر خرید لیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ کہنے لگے’’یار! یہ کام آپ نے اچھا کیا۔ موٹرسائیکل پر مَیں ذرا ’’ایزی فیل‘‘نہیں کرتا ہوں۔ سکوٹر پر آرام سے بیٹھوں گا۔یوں ہمارا ایک ساتھ رہنے کا بہانہ بن گیا۔ قدوائی صاحب قد کاٹھ اور مونچھوں کے علاوہ اپنی آواز سے ایک رعب دار شخصیت لگتے تھے۔ سیاسی حلقوں میں ان کی جان پہچان بہت زیادہ تھی۔وہ بہت ملنسار تھے۔ سیاسی لیڈروں اور بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ ان کی خوب بنتی تھی۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ مصروفیت کی وجہ سے کسی پریس کانفرنس یا جلسے میں نہ پہنچ سکتے تو فرمائش کرتے کہ ٹیلی فون پر خبر انہیں لکھوا دوں۔ اگر ہم کہتے کہ یہاں فون کی سہولت نہیں(ان دنوں موبائل فون کی سہولت نہیں تھی) تو وہ کہتے، یار!میرے دفتر آ جاؤ۔ ہم ہنس کر کہتے کہ میں اپنے دفتر جا کر خبر دینے سے پہلے آپ کو خبرلکھواؤں واہ بھئی واہ۔ آپ بڑے نواب صاحب ہیں!‘‘ وہ جھنجھلا کر کہتے ’’چچاّ‘‘ وقت ضائع نہ کریں، آپ ہمارے دفتر تشریف لائیں اور بس!‘‘ ان کی اس محبت بھری فرمائش پر ہم بے بس ہو جاتے اور ’’نوائے وقت‘‘ کے دفتر پہنچنے کے لئے چل پڑتے ۔

انور قدوائی پیار کرنے والی شخصیت تھے۔صحافی دوستوں کا خیال رکھتے تھے۔خبر شیئر کرنے یا لفٹ لینے کے لئے اپنے دوستوں سے تکلف نہیں کیا کرتے تھے۔ان کا اعتماد اور محبت بھرا انداز ہمیں بہت پسند تھا کبھی کبھی ہمیں کہتے کہ آج آپ مجھے اقبال ٹاؤن میرے گھر تک لفٹ دیں۔ پہلی بار میں ان کے ساتھ جہانزیب بلاک ان کے گھر آیا تو اصرار کر کے روک لیا کہ کھانا تیار ہے، کھا کر جائیں۔ کھانا کھانے کے بعد صحن میں لگے ہوئے بیسن پر ہاتھ دھوتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ ان کے صاحبزادے نے ہاتھوں میں تولیہ سنبھال رکھا ہے۔ خوشی ہوئی کہ قدوائی صاحب انپے بچوں کی خوب تربیت کر رہے ہیں۔ ان کی ایک ’’خوبی‘‘ اور بھی تھی، اس خوبی کا ذکر ہمارے رفیق کار خادم حسین چودھری نے بھی اپنے کالم میں کیا ہے۔ہوا یوں کہ ایک تقریب میں شرکت کے لئے اکٹھے جانے کا پروگرام بنا تو وہ کہنے لگے کہ آپ مجھے گھر سے لیتے جائیں۔ اگرچہ اس کے لئے لمبا چکر لگانا پڑتا، ہم نے حامی بھر لی اور مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے پہنچ گئے، ان کے صاحبزادے ہمارے منتظر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ابا معذرت کر رہے تھے کہ ان کے دوست نے گاڑی بھجوا دی تو وہ روانہ ہو گئے۔ آپ راستے میں تھے اس لئے اطلاع نہ دے سکے۔ بہت غصہ آیا، تقریب میں پہنچ کرسارا غصہ نکالا کہ آپ بڑے نواب صاحب ہیں۔ بے وفا اور مطلب پرست ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ وہ ہنستے رہے اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن وہ اکثر اس سلسلے میں وعدہ خلافی کرتے اور ’’زچ‘‘ کرنے کے لئے کہتے ’’بھلے کا زمانہ نہیں میں نے سوچا کہ آپ کو بلا وجہزحمت ہوگی۔ خیر، چلئے اب آپ ہمیں پان کھلائیں۔‘‘

نوابزادہ نصراللہ خان اورمولانا شاہ احمد نورانی مستقل اور اہتمام کے ساتھ پاندان سے پان نکال کر کھایا کرتے تھے۔ انور قدوائی کبھی خود فرمائش کرکے پان کھاتے اور کبھی یہ سیاسی لیڈر خود پان پیش کرکے انور قدوائی سے محبت کا اظہار اور عزت افزائی کیا کرتے تھے۔ ان دونوں شخصیات سے ان کا بہت پیار تھا۔ خاص طور پر شاہ احمد نورانی صاحب ان سے بڑی محبت اور شفقت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ اس کی بڑی وجہ تو یہ تھی کہ انور قدوائی کے دادا دینی شخصیت تھے جبکہ والد کو قائد اعظم ؒ کے قریبی اور بااعتماد ساتھی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کا تعلق ’’نوائے وقت‘‘ سے تھا اور مجید نظامی صاحب دفتری معاملات میں انور قدوائی پر بے حد اعتماد کرتے تھے۔

انور قدوائی سے ہماری قربت اس وقت بہت زیادہ بڑھی، جب ہمارے بیٹ چارٹ کو بھاری بھرکم بنا دیا گیا۔ سینئر صحافی عبدالقادر حسن کو جنرل ضیاء الحق کی ہدایت پر روزنامہ ’’امروز‘‘ کا ایڈیٹر مقرر کر دیا گیا تھا۔ کچھ عرصے بعد وہ کسی بات پر چودھری خادم حسین سے ناراض ہو گئے تو ان کی ڈیوٹی تبدیل کر دی۔ ہمارے پاس ان دنوں گورنر، چیف منسٹر اورکچھ سیاسی و دینی جماعتوں اور سماجی اداروں کی رپورٹنگ تھی۔ عبدالقادر حسن صاحب نے تمام سیاسی جماعتوں اور بلدیاتی اداروں کی رپورٹنگ بھی ہمارے کھاتے میں ڈال دی۔ ہم نے کام کے بوجھ کا عذر پیش کیا، مگر وہ نہ مانے۔ ہم بھی کام سے گھبرانے والے نہیں تھے۔

قدوائی صاحب محبت کے زور پر اپنی بات منوایا کرتے تھے تو کبھی کبھی ہم بھی اپنی فرمائش منوا لیا کرتے تھے۔ ایک بار انہیں ہم نے بہت تنگ کیا۔ ہماری ہفتہ وار چھٹی تھی اور گورنر ہاؤس میں اہم بریفنگ ہنگامی طور پر دی گئی۔ ہمیں ایڈیٹر صاحب نے فون کرکے کہا کہ گورنر ہاؤس پہنچیں اور اپنے ساتھیوں سے چائے پیتے ہوئے سٹوری لے لیں۔ہم نے وہاں پہنچ کر انور قدوائی صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ وہ پہلے ہی لیٹ ہو رہے تھے، انہیں خبر دے کر ایک اہم نجی تقریب میں جانا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ آپ ’’جنگ‘‘ کے رپورٹرپرویز بشیر سے خبر لے لیں وہ بھی ہمارے تعاون گروپ میں شامل ہیں۔ مگر وہ اپنے دفتر پہنچ چکے تھے۔ قدوائی صاحب نے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن ہم نے انہیں ’’دھمکی‘‘ لگا دی کہ آج آپ نے کوئی بے وفائی کی توپھر مستقل’’کٹی‘‘ ہو جائے گی۔ پھر ویسے ہی ہوا، جیسا ہم چاہتے تھے ۔(جاری ہے)

مزید : کالم