2016ء میں بھی کمرشل تھیٹر مقبول رہا ،فحاشی کے الزام میں فنکاروں کو نوٹس

2016ء میں بھی کمرشل تھیٹر مقبول رہا ،فحاشی کے الزام میں فنکاروں کو نوٹس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(فلم رپورٹر) سال 2016ء میں بھی کمرشل تھیٹر مقبول رہا لیکن اس میں زیادہ بہتری نہیں آئی کیونکہ ماضی کی طرح اس سال بھی تھیٹروں میں غیر معیاری سکرپٹ ،جگت بازی اور روایتی ڈانس کی حکمرانی رہی۔لاہور کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں رہی ،کئی فنکاروں کے درمیان لڑائی جھگڑے،قسمت بیگ کو قتل کردیا گیا،فحاشی کے الزام میں فنکاروں کو نوٹس ،صائمہ خان کی تھیٹرپر واپسی،کئی فنکاروں کے درمیان صلح اور فنکاروں کے بیرون ملک شوز،تھیٹر لے زیادہ تر سپرسٹاروں نے ٹی وی شوکے ذریعے لاکھوں روپے کمائے ۔کمرشل تھیٹر کو پاکستان میں تفریح کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے جس کی تاریخ بہت پرانی ہے کیونکہ تھیٹر کوماضی میں ابتدائی درسگاہ سمجھا جاتا تھا اورزیادہ تر آنے والے نئے فنکاروں کو یہی مشورہ دیا جاتا تھا کہ وہ فلم ،ٹی وی کرنے سے پہلے کچھ عرصہ تھیٹر پر کام کریں۔ پاکستانی کمرشل تھیٹر نے ماضی میں بے شمار نامور رائٹر،ڈائریکٹراورایکٹر پیدا کئے جنہوں نے ایسا یادگارکام کیا جو آج بھی ناقابل فراموش ہے ۔اس زمانے میں کمرشل تھیٹر پر بہت شائستہ اور سلجھے ہوئے ڈرامے پیش کئے جاتے تھے،جگت بازی اور مزاح ہوتا تھا لیکن بہت ہی اچھے طریقے سے ،نہ تو کسی رشتے کی تضحیک کی جاتی تھی اور نہ کسی کی توہین کی جاتی تھی ،پھر ایک ایسادور بھی آیا جب کمرشل تھیٹر میں ڈانس شامل کرلیا گیا جس کی وجہ سے ڈرامے کی مقبولیت میں تو اضافہ ضرورہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ فحاشی میں اضافہ ہوا جسے کنٹرول کرنے کے لئے حکومت کو مانیٹرنگ ٹیمیں بنانا پڑیں لیکن اس کے باجود بھی زیادہ بہتری نہ آئی تو حکومت کو مزید سختی کرنا پڑی لیکن اس کے باوجود سنجیدہ طبقے نے کمرشل تھیٹرسے منہ موڑ لیا۔اب صورت حال یہ ہے کہ لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ ،فیصل آباد،راولپنڈی اورملتان میں کمرشل تھیٹر بہت مقبول ہے جہاں نہ صرف مقامی فنکار کام کرتے ہیں بلکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے بہت سے مقبول فنکاروں کو بھی وہاں مدعوکیا جاتا کیونکہ مقامی پرستاروں کی خواہش ہوتی ہے کہ لاہور کے سپرسٹار وہاں آکر کام کریں جس کے لئے وہ زیادہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔کمرشل تھیٹر کے ریگولر پروڈیوسرزمیں ارشد چوہدری،سخی سرور، چنگیز اعوان، چوہدری ذوالفقارعلی، محمد یوسف،قیصرثناء اللہ،حمزہ بٹ، علی رضا، اسحق چوہدری لالہ شہزاد اور ملک طارق نمایاں ہیں جو سارا سال باقاعدگی سے مختلف تھیٹروں میں ڈرامہ کرتے ہیں جبکہ تھیٹر کے فنکاروں میں ظٖفری خان، ساجن عباس،طارق ٹیڈی،افتخارٹھاکر،امانت چن، آصف اقبال،عابدچارلی،خوشبوخان،صائمہ خان،نسیم وکی، طاہرانجم، نرگس،صوبیہ خان،قیصرپیا،زاراکبر،ناصر چنیوٹی،ہنی البیلا،سلیم البیلا،امان اللہ، اکرم اداس، ہنی شہزادی، نداچوہدری، آفرین ،سنہری خان، سردار کمال، عمران شوکی،شازب مرزا، گلفام،حامد رنگیلا، آشا چوہدری ، سدرہ نوراور ماہ نور شامل ہیں جن کا شمار ملک کے مقبول فنکاروں میں ہوتا ہے جن کی پرفارمنس دیکھنے کے لئے لوگ مہنگی ٹکٹ خریدنے سے بھی گریزنہیں کرتے۔ ان تمام فنکاروں نے اس سال باقاعدگی سے تھیٹروں میں کام کیا ۔صف اول کے فنکاروں نے بہت زیادہ معاوضہ وصول کیا۔ اس سال بھی ڈراموں کے سکرپٹ میں بہتری نہیں آئی اور زیادہ تر ڈراموں میں روایتی کہانیاں دیکھنے کو ملیں جنہیں ایک ڈائریکٹراور چندسینئرفنکار مل کر ڈرامے کا نام دیتے ہیں جس میں کچھ گانے بھی شامل کرلئے جاتے ہیں۔ اس سال مانیٹرنگ ٹیموں کا کرداربھی روایتی رہا اور صرف چندفنکاروں کو نوٹس جاری کئے گئے جبکہ اداکارہ نگار چوہدری سمیت چندفنکاروں پر کچھ عرصے کی پابندی بھی لگائی گئی۔اداکارہ صائمہ خان کافی عرصے بعد تھیٹر پر واپس آئیں۔ذرائع نے بتایا ہے سال رواں میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارہ نرگس ہیں۔اس سال بھی کئی فنکاروں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات رونما ہوئے جن میں نگارچوہدری اور شیبارانی نمایاں ہیں جن کے درمیان زبردست جھگڑاور گالم گلوچ ہوئی تھی۔ اس طرح کے کئی واقعات دیگر فنکاروں کے ساتھ بھی پیش آئے تاہم کئی فنکاروں کے درمیان صلح بھی ہوئی جن نداچوہدری اور آفرین شامل ہیں جو کافی عرصے سے ناراض تھیں جبکہ خوشبواور ماہ نور کے درمیان بھی دوبارہ دوستی ہوگئی۔ اداکارہ شبنم چوہدری کئی سال بعد تھیٹر پر واپس آئیں جو ان دنوں الفلاح تھیٹر میں کام کررہی ہیں۔تھیٹر پر اس سال بھی کئی نئے فنکاروں کو متعارف کرایا گیا جن میں سے کوئی بھی قابل ذکر کامیابی حاصل نہ کرسکا،تھیٹر پر صرف انہی نئی لڑکیوں نے کامیابی حاصل کی جن کے پیچھے کچھ بااثرلوگ تھے جن کی مددسے ان لڑکیوں کو باربار ڈراموں میں کاسٹ کیا جاتا تھا۔ اس سال کا سب سے اہم واقعہ اداکارہ قسمت بیگ کا قتل تھا جنہیں ان سے سابقہ دوست نے صرف خوفزدہ کرنے کے لئے فائرنگ کرائی جس میں جان کی بازی ہارگئیں۔تھیٹر سے تعلق رکھنے والے مرفنکاروں نے ٹی وی شوزکے ذریعے جہاں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی وہیں بہت زیادہ پیسہ بھی کمایا اور اگر یہ کہا جائے کہ ٹی وی شوزنے ان فنکاروں کو خوشحال کردیا ہے تو اس میں کسی طرح کی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ اداکارہ قسمت بیگ کے قتل کے بعد صوبیہ خان نے قسم کھاکر سٹیج چھوڑنے کا اعلان کیا لیکن چند ہی روزبعد انہوں نے قسم توڑ ڈالی اور ایک بار پھروہ تھیٹر پر کام کرنے لگیں ۔قسم توڑنے پر صوبیہ خان نے کفارہ اداکرتے ہوئے نہ صرف اپنے گھرپر میلادکروایا بلکہ 60مسحق افرادکو کھانا بھی کھلایا۔

مزید :

کلچر -