صوبہ بھر کے کالجز میں اساتذہ کی 6634سیٹیں خالی ، طلبہ کی تعلیم شدید متاثر

صوبہ بھر کے کالجز میں اساتذہ کی 6634سیٹیں خالی ، طلبہ کی تعلیم شدید متاثر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(حافظ عمران انور)صوبہ پنجاب کے سرکاری کالجز میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے کالجز میں زیر تعلیم ہزاروں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ۔اساتذہ کی کمی کی بدولت علم کی پیاس بجھائے بغیر طلباء گھروں کو واپس لوٹنے لگے ۔عرصہ دراز سے صوبہ بھر کے کالجز میں پچیس فیصد سے زائد سیٹیں خالی ہونے کی بدولت کالجز کے نتائج بھی متاثرہو رہے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر میں پروفیسرز،ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور لیکچررز کی 6634سیٹیں خالی ہیں ۔اس حوالے سے صرف لاہور میں میل اساتذہ کی 1659گریڈ اٹھارہ کی 854اور گریڈ انیس کی 397 سیٹیں خالی ہیں اس کے ساتھ ساتھ میل اساتذ میں گریڈ بیس کی 47سیٹیں خالی ہیں ۔دوسری طرف خواتین کے کالجز کا حال بھی برا ہے کالجز میں خواتین اساتذہ کی گریڈ بیس میں 31،گریڈ اٹھارہ میں 945جبکہ گریڈ 17 میں 2500سیٹیں خالی ہیں ۔کالجز میں اتنی بڑی تعداد میں اساتذہ کی سیٹیں خالی ہونے پر طلبہ سخت پریشانی میں مبتلا ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے تعلیم کے شعبے کومسلسل نظر انداز کرنا کسی المیے سے کم نہیں ،انہوں نے کہا کہ کالجز میں اساتذ کی کمی سے ان کا تعلیمی حرج ہو رہا ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی حکومت دوسرے ترقیاتی کاموں پر پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہے مگر کالجز میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے فنڈز کی کمی کا رونا رویا جا رہا ہے ۔سرکاری کالجز میں بڑے پیمانے پر اساتذہ کی سیٹیں خالی ہونے پر طلباء کے والدین بچوں کو پرائیویٹ کالجوں میں داخل کروانے پر مجبور ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ جب کالجز میں اساتذہ ہی نہیں ہوں گے تو وہ اپنے بچوں کو سرکاری کالجز میں کیوں بھیجیں ۔واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی کالجز میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے طلباء کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کے گزشتہ سالانہ امتحانات میں سرکاری کالجز کا کوئی طا لب علم نمایاں پوزیشن حاصل نہیں کر سکا تھا ۔